انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں سری نگر سے 30 کلومیٹر دور واقع گاؤں میں کم ازکم 15 ہنرمندوں کی ٹیم ہاتھ سے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ریشمی قالین تیار کرنے میں مصروف ہے۔
یہ قالین رواں سال کے آخر تک مکمل ہونے کے بعد خلیجی ممالک کو بھیجا جائے گا۔
یہ ہنرمند گذشتہ نو سال سے مسلسل محنت اور مہارت کے ساتھ اس قالین کی تیاری میں مصروف ہیں۔ قالین کی چوڑائی 30 فٹ اور لمبائی 72 فٹ ہے جو مجموعی طور پر تقریباً 2160 مربع فٹ بنتی ہے۔ یہ قالین اس علاقے کی صدیوں پرانی دست کاری کی روایت میں ایک یادگار کارنامہ ہے۔
اس قالین پر کام کا آغاز 2016 میں ہوا۔ کاریگر دن میں تقریباً 10 گھنٹے اس ریشمی قالین پر کام کرتے آرہے ہیں۔ قالین تیار کرنے کی نگرانی تجربہ کار کاریگر عبدالغفار شیخ اور ان کے لوگ کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں کشمیری قالین اپنے پیچیدہ ڈیزائن، عمدہ کاریگری اور اعلیٰ معیار کی بدولت مشہور ہیں۔
کرال پورہ نامی گاؤں میں ریشمی قالین کی تیاری دست کاروں کا پہلا تاریخی کارنامہ نہیں ہے بلکہ 2024 میں انہوں نے ایشیا کا سب سے بڑا ہاتھ سے بنایا ہوا ریشمی قالین مکمل کیا تھا جس کی پیمائش تقریباً 2880 مربع فٹ تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے دست کار عبدالغفار شیخ نے کہاں حکومت کو چاہیے کہ وہ اس فن کو فروغ دے کیوں کہ مقامی نوجوانوں کو اس کام میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قالین پر مزدوری کی لاگت ایک کروڑ 62 لاکھ ہے۔ قالین کی تکمیل کے بعد اس کا وزن تقریباً 12 کوئنٹل ہوگا اور اندازے کے مطابق اس میں تقریباً 25 کروڑ ناٹس ہوں گے۔
عبدالغفار شیخ نے کہا کہ ’کرال پورہ گاؤں قالین کی بُنائی کا مرکز ہے جس میں تقریباً 400 گھرانے اپنی روزی روٹی کے لیے قالین تیار کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہیے اس گاؤں کو کرافٹ ویلیج کا درجہ دے۔‘
محکمہ دستکاری کے ڈائریکٹر مسرت الاسلام نے کاریگروں کی تعریف کی اور کہا کہ یہ دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ریشم کا قالین ہے، دنیا میں بہت سے قالین ہوتے ہیں لیکن کشمیری قالین ہمیشہ الگ ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’ہم ہر ممکنہ کوشش کر رہے ہیں کہ قالین کی صنعت کو فروغ ملے۔‘