ایران معاہدے پر دستخط بہت جلد، شاید جمعرات یا جمعے کو: ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نے معاہدے کے لیے بہت محنت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس کے اختتام پر فرانس میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر جلد دستخط ہو جائیں گے۔

تاہم انہوں نے اس کی حتمی تاریخ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا بھی اظہار کیا۔

جی سیون سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے کہا ’اتوار کو ایران کے ساتھ جس معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، اس پر جلد دستخط ہو جائیں گے، کل (جمعرات) یا شاید اگلے دن (جمعہ)۔‘

اس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ معاہدے پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا ’زیادہ امکان یہی ہے کہ ہم معاہدے پر دستخط کر لیں گے۔‘

ٹرمپ نے جی سیون کی اختتامی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اس پر شدید بمباری کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’اگر وہ مناسب رویہ اختیار نہیں کرتے تو ان پر دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ’وہ بمباری نہیں چاہتے، وہ نشانہ بننا نہیں چاہتے۔‘

ایران کے ساتھ اپنے معاملات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یاد دلایا کہ انہوں نے 2020 میں پاسداران انقلاب کے بیرونی آپریشنز کے سربراہ قاسم سلیمانی کو مارنے کا حکم دیا تھا، جنہیں انہوں نے بار بار ’پاگل ذہین‘ قرار دیا۔

ٹرمپ نے 28 فروری کے اس فضائی حملے کا بھی ذکر کیا جس میں ان کے بقول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ شخصیات جان سے گئیں اور دعویٰ کیا کہ اس وقت وہ ناشتہ کر رہے تھے۔

ٹرمپ سے جنگ کے پہلے روز ایرانی شہر میناب کے ایک سکول پر ہونے والے مہلک حملے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 155 افراد جان سے گئے تھے۔

سوال کو ’عجیب‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’کسی نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔ غلطیاں ہو جاتی ہیں، جنگ ایک خوف ناک چیز ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’میں جانتا ہوں کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں‘ اور صحافی کو مشورہ دیا کہ یہ سوال وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے کیا جائے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوج کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل ہدف کے تعین میں غلطی کے باعث سکول سے جا ٹکرایا تھا۔

ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران غیر جانب دار رہنے پر روسی صدر ولادی میر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے مبینہ پراکسی نیٹ ورکس پر بھی بات کرے گا۔

انہوں نے پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر نے اس معاہدے کے لیے بہت محنت کی ہے۔

صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ ممکنہ امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن کے قیام کی بنیاد بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے لبنان کے معاملے پر بھی کام کرنا ہو گا۔

معاہدے کے متن کا کچھ حصہ جاری

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی حکام نے بدھ کو کئی روز کی رازداری کے بعد ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کا متن صحافیوں کو پڑھ کر سنایا۔

حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مسودہ پڑھ کر سنایا، جسے ایران نے ابھی تک جاری نہیں کیا جبکہ اس پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعے کو متوقع ہے۔

حکام کے مطابق معاہدے کے مسودے میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کی افزودگی کم کرنے کے لیے ایک نیا ’کم از کم‘ معیار شامل ہے جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد لبنان کی ’علاقائی سالمیت‘  کو یقینی بنانے سے متعلق شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔

امریکہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران پر عائد بعض وسیع پابندیوں میں نرمی کے لیے اقدامات کرے گا تاہم انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔

حکام نے بتایا کہ امریکی مسودے کے تحت آبنائے ہرمز سے بلا معاوضہ گزرنے کی سہولت صرف 60 روز کے لیے دی جائے گی اور مستقبل میں فیس عائد کرنے کا امکان برقرار رکھا گیا ہے۔

یہ معاہدہ جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔ لیک ہونے والے عبوری معاہدے کی نقول کے مطابق ایران کو جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر ملنے کا تصور بھی شامل ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز مجموعی طور پر اسی متن سے مطابقت رکھتی ہے۔

معاہدے کے تحت امریکہ فوری طور پر ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دے گا جبکہ بعد ازاں تمام پابندیاں ختم کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔ 

یہ رعایتیں ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرتے ہوئے اسے ’تاریخ کا بدترین معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔

اس نئے معاہدے کو واشنگٹن میں شدید مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ یہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا دکھائی دیتا ہے، جو معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ملکی میڈیا، سیاسی مخالفین اور بعض اتحادیوں کی تنقید کی زد میں ہیں۔

معاہدہ لڑائی ختم کرے گا اور نئے مذاکرات کا آغاز ہو گا

معاہدے کی بیشتر شقیں جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے سے متعلق ہیں، جن میں جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔ 

معاہدے میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے۔ 

یہ معاہدے کے حساس ترین حصوں میں سے ایک ہے کیونکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے لبنان کے وسیع علاقوں میں موجود رہے گا۔ 

دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان سے نکلنا ہوگا، تاہم لیک ہونے والی دستاویزات میں انخلا کا کوئی ذکر نہیں۔

ایک شخص، جسے ایم او یو پر دستخط کے بعد بریفنگ دی گئی تھی اور ایک دوسرے شخص، جس نے اس سے قبل معاہدے کی نقل دیکھی تھی، نے کہا کہ یہ متن بڑی حد تک نشریاتی ادارے العربیہ کی منگل کو شائع کی گئی تفصیلات سے مطابقت رکھتا ہے۔ 

دونوں نے معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔

مشرق وسطیٰ کے دو دیگر حکام نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ العربیہ اور بلومبرگ کی شائع کردہ شقیں حتمی معاہدے سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔

وائٹ ہاؤس اور دیگر امریکی حکام نے معاہدے کی شرائط باضابطہ طور پر شائع نہیں کیں اور نہ ہی فوری طور پر سوالات کے جواب دیے۔

تاہم وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے بدھ کو سی این این کی جانب سے لیک شدہ متن شائع کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا یہ ’حقیقی معاہدے کے متن کی عکاسی نہیں کرتا۔‘

ایران نے بھی معاہدے کا کوئی سرکاری متن جاری نہیں کیا۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے، جو پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، دعویٰ کیا کہ بلومبرگ کے شائع کردہ متن میں بعض حصے شامل نہیں، تاہم مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ٹرمپ نے جنگ کے مختلف اہداف بیان کیے تھے، جن میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کا خاتمہ، حزب اللہ اور دیگر اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرانا اور بعض اوقات ایرانی حکومت کا خاتمہ بھی شامل تھا۔

عبوری معاہدہ ان تمام اہداف سے کم تر ہے، تاہم ٹرمپ نے بدھ کو اس کی تعریف کی۔

انہوں نے فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقعے پر کہا ’کسی کو نہیں معلوم کہ اس میں کیا ہے لیکن یہ بہت مضبوط معاہدہ ہے۔‘

تاہم انہوں نے اس سے دستبردار ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا۔ ’یہ ایک مفاہمتی یادداشت ہے اور اگر مجھے یہ پسند نہ آئی تو ہم دوبارہ ان پر گولیاں چلائیں گے اور بم برسائیں گے۔‘

ایران کو بڑی رعایتیں دی گئی ہیں

پاکستانی حکام، جو اس معاملے میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، کے مطابق بعض رعایتیں، جن میں تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہے، مرحلہ وار دی جائیں گی اور ان کا انحصار جوہری مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم اس دوران امریکہ پابندیوں میں ایسی نرمی دے گا جس سے ایران آزادانہ طور پر تیل فروخت کر سکے گا۔

ایران کی تیل برآمدات سے 2024 میں 46 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ہوئی تھی۔ اس کا سب سے بڑا خریدار چین ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عالمی منڈی سے کم قیمت پر تیل خریدا۔

60 روزہ مذاکرات کے آغاز ہی پر تیل کی فروخت کی اجازت دینا امریکہ کے ہاتھ سے ایک اہم دباؤ کا ذریعہ چھین لیتا ہے۔ 

2015 کے معاہدے میں ایران کے تیل پر عائد پابندیاں صرف حتمی معاہدے کے بعد ہٹائی گئی تھیں۔

یہ 2015 کے معاہدے سے کہیں زیادہ بڑی رعایت ہے، جس میں صرف بعض پابندیاں ہٹائی گئی تھیں اور اس کے بدلے ایران نے یورینیم کی افزودگی اور ذخائر میں نمایاں کمی کی تھی۔

معاہدے کے تحت ایران کو جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی بمباری سے ہونے والے نقصانات کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو ایک غیر معمولی رقم اور ایران کے لیے ایک بڑا فائدہ تصور کی جا رہی ہے۔ 

تاہم اس کا انحصار بھی آئندہ مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ خلیجی عرب ممالک اس رقم کی سرمایہ کاری کریں گے لیکن ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے ان ممالک کی تیل تنصیبات اور دیگر مقامات کو نقصان پہنچنے کے بعد ان کی جانب سے ایران کی مدد پر آمادگی یقینی نہیں۔

ٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر کہا کہ امریکہ اس فنڈ میں کوئی رقم نہیں دے گا اور اگر دیگر ممالک سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہوگا۔

معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو جائے گی، اگرچہ اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ایرانی بارودی سرنگوں کو ہٹانا پڑ سکتا ہے۔

متعدد امور مستقبل کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیے گئے

عبوری معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں اس حوالے سے کئی ادوار کے مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔ 

موجودہ معاہدے کے تحت امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی کی دھمکیاں نہیں دی جائیں گی۔

عبوری معاہدے میں ایران نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جیسا کہ اس نے 2015 کے جوہری معاہدے میں بھی وعدہ کیا تھا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا