میرا بیٹا میر رضا کسی صورت خودکشی نہیں کر سکتا: والد

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملنے والے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت سینے میں گولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ہوئی۔

اہل خانہ کے مطابق میر رضا 28 جولائی کو کام سے گھر آئے لیکن رات گئے دوبارہ گھر سے نکلے اور واپس نہ لوٹے (شاہ زیب حسین)

کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے ملنے والے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کی موت سینے میں گولی لگنے اور زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ہوئی۔

رضا کے والد نے خودکشی کے خدشے کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا۔

پولیس کے مطابق رضا 28 جولائی کو گھر سے نکلے، اگلے روز 29 جولائی کو گلستان جوہر سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی، جس کی بعد ازاں شناخت رضا کے نام سے کی گئی۔

اہل خانہ کا مؤقف ہے انہیں پہلے اغوا کیا گیا اور پھر تشدد کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

فیروز آباد تھانے میں درج مقدمے کے مطابق اہل خانہ نے بتایا کہ رضا 28 جولائی کو کام سے گھر واپس آئے لیکن رات گئے دوبارہ گھر سے نکلے اور واپس نہ لوٹے۔

کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بھی بند ہو گیا، جس پر خاندان نے پہلے خود تلاش شروع کیا اور بعد میں پولیس ہیلپ لائن 15 کو مطلع کیا۔

کراچی پولیس چیف نے تین اگست کو کیس کی تحقیقات کے لیے سینیئر افسران پر مشتمل تین رکنی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی۔ 

کمیٹی کی سربراہی ایس ایس پی سپیشل انویسٹیگیشن یونٹ سمیع اللہ سومرو کر رہے ہیں جبکہ ایس ایس پی ایسٹ زبیر نذیر شیخ اور ایس پی انویسٹیگیشن عثمان سدوزئی بھی اس کا حصہ ہیں۔

گلستان جوہر سے ملنے والی لاش کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس سرجن نے بتایا کہ رضا کی موت سینے میں گولی لگنے اور شدید خون بہہ جانے کے باعث واقع ہوئی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لاش 24 سے 36 گھنٹے پرانی ہونے کی وجہ سے خراب ہو گئی تھی۔

اب تک اس کیس میں چار سے پانچ سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آ چکی ہیں جن میں مختلف مقامات اور اوقات پر رضا کی نقل و حرکت ریکارڈ ہوئی ہے۔

یہی فوٹیجز پولیس تحقیقات کی بنیاد بنی ہوئی ہیں، جن کی مدد سے تفتیشی حکام ان کی آخری سرگرمیوں کا روڈ میپ ترتیب دے رہے ہیں۔

موت سے قبل کی تازہ ترین فوٹیج میں انہیں اپنی جیب سے موبائل فون نکال کر سڑک پر پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے قبل کی فوٹیجز کے مطابق 28 اور 29 جولائی کی درمیانی شب تقریباً ساڑھے تین بجے رضا اپنی بہادرآباد میں واقع دکان پہنچے، جہاں انہوں نے سکیورٹی گارڈ کا پستول دراز سے نکال کر ساتھ لے لیا اور گاڑی میں گھر روانہ ہو گئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگلی فوٹیجز کے مطابق گھر پہنچنے کے بعد انہوں نے آن لائن ٹیکسی بک کی اور صبح چار بج کر آٹھ منٹ پر گلستان جوہر کے لیے روانہ ہوئے۔

مزید ریکارڈنگز میں انہیں گلستان جوہر میں تنہا چلتے دیکھا گیا۔ تفتیشی معلومات کے مطابق انہوں نے صبح 4 بج کر 22 منٹ پر جوہر موڑ، ہل ٹاپ کے قریب اپنا موبائل فون بند کیا اور 4 بج کر 28 منٹ پر گلستان جوہر بلاک 2 میں ٹیکسی سے اترے۔

پولیس کے پاس ان کی پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی سے گلستان جوہر تک تقریباً ہر گلی، سڑک اور راستے کا مکمل روڈ میپ موجود ہے، جو مختلف سی سی ٹی وی فوٹیجز، ڈیجیٹل شواہد اور دیگر تفتیشی مواد کی مدد سے ترتیب دیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تمام سی سی ٹی وی فوٹیجز، فرانزک شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ اور گواہوں کے بیانات کو یکجا کر کے تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، تاہم یہ تعین ہونا ابھی باقی ہے کہ میر رضا کی موت قتل کا نتیجہ تھی یا خودکشی کا۔

میر رضا کے والد میر حسین علی نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے ان کے بیٹے کے کیس کو کسی اور رخ پر لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ ان کے بقول ان کا بیٹا کسی صورت خودکشی نہیں کر سکتا تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پوسٹ مارٹم کا عمل جلد بازی میں مکمل کر کے تدفین کر دی گئی، تاہم ان کا خاندان اب بھی واقعے کی شفاف تحقیقات اور انصاف کا منتظر ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کی شناخت کو مسخ کیا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور کرائم سین کو محفوظ بنانے کے حوالے سے بھی مؤثر کام نہیں کیا گیا۔

تاہم اس کے باوجود انہیں پولیس سے انصاف کی امید ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ کیس کی ہر پہلو سے غیرجانب دارانہ تحقیقات کی جائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان