’چند ہفتوں میں شادی تھی، اب بیٹے کو سپرد خاک کرنا پڑا‘: کراچی میں نوجوان کا قتل

اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ میر رضا علی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

26 مارچ، 2025 کو کراچی پولیس کے اہلکار نظر آ رہے ہیں (انڈپینڈنٹ اردو)

’30 اگست کو میرے اکلوتے بیٹے کی شادی ہونا تھی، ہم اس کی خوشیوں کی تیاریاں کر رہے تھے، مگر آج ہم نے اسے سپردِ خاک کر دیا۔ ہمیں صرف انصاف چاہیے۔‘

یہ الفاظ کراچی کے رہائشی میر حسین علی کے ہیں، جن کے 25 سالہ بیٹے میر رضا علی کی لاش مبینہ اغوا کے ایک روز بعد گلستان جوہر بلاک ون میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی۔

پولیس کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے، جبکہ 29 جولائی کو گلستان جوہر سے ایک نوجوان کی لاش برآمد ہوئی، جس کی بعد ازاں شناخت میر رضا علی کے نام سے ہوئی۔

پولیس ذرائع کے مطابق لاش کئی روز پرانی معلوم ہوتی ہے اور جسم کے مختلف حصے جھلسے ہوئے تھے۔

دوسری جانب اہل خانہ کا دعویٰ ہے کہ میر رضا علی کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور پھر فائرنگ کر کے قتل کیا گیا۔

فیروز آباد تھانے میں درج مقدمے کے مطابق میر رضا علی 28 جولائی کو اپنے کام سے گھر واپس آئے تھے۔

اہل خانہ کے مطابق وہ رات گئے گھر کے نیچے سے دوبارہ نکلے، لیکن اس کے بعد واپس نہیں آئے۔ کچھ ہی دیر بعد ان کا موبائل فون بند ہو گیا، جس پر اہل خانہ نے پہلے اپنی مدد آپ کے تحت تلاش شروع کی اور پھر پولیس ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی۔

مقدمے میں مقتول کے والد میر حسین علی خان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نامعلوم افراد نے ان کے بیٹے کو نامعلوم وجوہات کی بنا پر اغوا کیا، جس پر پولیس نے اغوا کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی۔

'ہم گھنٹوں اسے ڈھونڈتے رہے'

میر حسین علی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا بیٹا بہادرآباد میں واقع اپنی دکان بند کر کے معمول کے مطابق خوشی خوشی گھر آیا تھا۔

'وہ اپنی والدہ سے کہہ کر گیا کہ دس منٹ میں واپس آتا ہوں، لیکن آدھے گھنٹے بعد اس کا موبائل فون بند ہو گیا۔ ہم نے پہلے خود تلاش کیا، پھر پولیس کو اطلاع دی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج سے معلوم ہوا کہ میر رضا علی آن لائن کیب سروس 'بائیکیا' کے ذریعے بک کی گئی ایک آلٹو کار میں سوار ہوا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے اس کی آخری لوکیشن گلستان جوہر میں ٹریس کی، جہاں معلوم ہوا کہ جھاڑیوں سے ملنے والی لاش ان کے بیٹے کی ہے۔

'شادی کے کارڈ چھپنے تھے، کفن آ گیا'

میر حسین علی نے رندھی ہوئی آواز میں کہا کہ میر رضا علی ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جس کی 30 اگست کو شادی ہونا تھی۔

ان کے بقول: 'گذشتہ سال میر رضا کی منگنی ہوئی تھی۔ گھر میں شادی کی تیاریاں جاری تھیں۔ وہ بی بی اے کا طالب علم تھا، کاروبار بھی کرتا تھا، کسی سے دشمنی نہیں تھی، نہ کسی سیاسی یا غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھا۔'

انہوں نے کہا: 'جس بیٹے کے لیے ہم شادی کی تیاریاں کر رہے تھے، آج اسی کی تدفین کرنی پڑی۔ ہماری صرف ایک درخواست ہے کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔'

پولیس کیا کہتی ہے؟

ایس ایچ او فیروز آباد کے مطابق میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی، جس کی تدفین بھی کر دی گئی ہے۔ تاہم پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوئی، اس لیے موت کی حتمی وجہ رپورٹ آنے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

ایس ایچ او کے مطابق مقتول کا موبائل فون بھی ابھی تک برآمد نہیں ہوا، جبکہ اغوا کے مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔ موبائل فون کی تلاش اور دیگر شواہد کی بنیاد پر تفتیش جاری ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان