لاہور: بچی کی لاش کی ٹیوشن سینٹر سے برآمدگی قتل یا خود کشی؟ معمہ حل نہ ہو سکا

نو جولائی کو ایک 10 سالہ بچی کی لاش ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے ملنے پر بچی کے والد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا، تاہم پولیس کے مطابق ابھی تک بچی کے قتل یا ریپ کے شواہد نہیں ملے۔

30 جولائی، 2020 کو لاہور کے ایک بازار میں پولیس اہلکار تعینات ہے (اے ایف پی)

لاہور میں نو جولائی کو ایک 10 سالہ بچی کی لاش ٹیوشن سینٹر کے واش روم سے برآمد ہونے پر بچی کے والد کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، تاہم پولیس کے مطابق ابھی تک بچی کے قتل یا ریپ کے شواہد نہیں ملے۔

اچھرہ کے رہائشی ملک عدنان نے بتایا کہ ان کی تین بیٹیاں دو سال سے ایک خاتون کے گھر ٹیوشن پڑھنے جاتی تھیں۔

ملک عدنان کے مطابق ’جمعرات کی شام تینوں معمول کے مطابق پڑھنے گئیں۔ ٹیوشن سینٹر سے کال آئی کہ ان کی درمیان والی بیٹی نعیمہ واش روم میں بے ہوش ہو گئی ہے۔

’جب ہم نے موقعے پر جا کر دیکھا تو وہ دم توڑ چکی تھی۔‘

’ہم نے اپنی بچی کو زندہ سلامت ٹیوشن پڑھنے بھیجا لیکن واپس لاش آئی تو پورے گھر میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ بچی کے گلے پر رسی کا نشان تھا، ہمیں یقین ہے کہ اسے قتل کیا گیا ہے۔‘

ایس ایچ او تھانہ اچھرہ آصف مانگٹ کا کہنا ہے کہ پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی شروع کر دی۔

’شواہد جمع کیے گئے اور بچی کی لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا گیا، جس کی رپورٹ پیر کو موصول ہوگی، لیکن ابتدائی رپورٹ کے مطابق بچی پر تشدد یا ریپ کے شواہد نہیں ملے۔

’ہاں گردن پر رسی کے نشان سے لگتا ہے کہ شاید یہ خود کشی کا واقعہ ہوسکتا ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا ’ہم نے بچی کے والد کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

’تفتیش بھی جاری ہے، اگر قتل یا ریپ ثابت ہوا تو ملوث ملزمان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔‘

ساتھ ہی ایس ایچ او کا کہنا تھا ’ابتدائی تفتیش اور شواہد کو دیکھتے ہوئے قتل یا ریپ کا امکان بہت کم ہے مگر حتمی طور پر میڈیکل رپورٹ کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔‘

بچی کے والد ملک عدنان نے الزام لگایا کہ واقعے کے بعد سے اب تک کسی پولیس افسر یا اہلکار نے ان سے رابطہ تک نہیں کیا۔

’ہمین یقین ہے بچی کو قتل کیا گیا ہے لیکن پولیس اس معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہی۔ کسی کو شبے میں بھی گرفتار نہیں کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’البتہ ہم نے کسی کو نامزد نہیں کیا لیکن 10 سال کی بچی خود کشی کیوں کرے گی یہ معمہ سمجھ نہیں آرہا؟‘

واقعہ کیسے پیش آیا؟

پولیس کے مطابق لاہور کے گنجان آباد علاقے اچھرہ کی اتحاد کالونی کے ایک گھر میں دو بہنوں نے ٹیوشن سینٹر کھول رکھا ہے، جہاں محلے کی 15 سے 20 بچیاں ٹیوشن پڑھتی ہیں۔

محلے داروں کے مطابق ان کی بچیاں عرصہ دراز سے وہاں پڑھ رہی ہیں اور کبھی کوئی مسئلہ نہیں بنا۔

جمعرات کی شام اسی محلے کی تین کمسن بہنیں ٹیوش پڑھنے قریب ہی ایک گھر  گئیں اور نعیمہ واش روم جانے کا کہہ کر گئی لیکن کافی دیر بعد بھی واپس نہ آئی۔

بڑی بہن نے جا کر دیکھا تو نعیمہ مردہ پڑی تھی، بہن کے شور مچانے پر لوگ جمع ہوگئے۔ بچی کو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان