سائبر سکیورٹی کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق چین اور انڈیا سے جڑے ہیکروں نے دو سال کے دوران پاکستان کے متعدد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پولیس اور شہریوں کے حساس ڈیٹا پر سمجھوتہ ہوا۔
سائبر سکیورٹی کمپنی سینٹینیل ون کے محققین نے جمعرات کو کہا کہ انہیں ایسے شواہد ملے ہیں کہ انڈیا اور چین کے مشتبہ سائبر حملہ آور 2024 اور 2026 کے درمیان الگ الگ متحرک رہے۔
انہوں نے میل ویئر سے وابستہ میل ویئر کا استعمال کرتے ہوئے بلوچستان پولیس، خیبر پختونخوا پولیس، اسلام آباد پولیس اور پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کو نشانہ بنایا۔
لیکن یہ بلوچستان پولیس تھی، یعنی وہ فورس جو رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں خدمات انجام دیتی ہے اور جہاں ایک طویل عرصے سے علیحدگی پسند بغاوت جاری ہے، جو خفیہ معلومات کے حصول کے لیے انتہائی اہم ہدف بن گئی، کیوں کہ یہ خطہ چین اور انڈیا دونوں کے لیے سٹریٹیجک لحاظ سے اہم ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان پولیس مرکزی ہدف تھی اور حملہ آوروں نے ان کمپیوٹر سسٹمز کو نشانہ بنایا جو پولیس اور عوام کے حساس ریکارڈ کا انتظام کرتے تھے، جن میں بائیو میٹرک ڈیٹا، کرمنل کیس فائلز، پولیس اہلکاروں کا ریکارڈ، ہوٹل اور کرایہ داروں کی رجسٹریشن اور شہریوں کی شکایات شامل ہیں۔
سینٹینیل ون کے پرنسپل تھریٹ ریسرچر، الیگزینڈر ملنکوسکی نے جمعرات کو شائع ہونے والے ایک بلاگ میں لکھا کہ ’جب سائبر جاسوسی کرنے والے متعدد عناصر کسی ایک ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف متحرک ہوتے ہیں، تو ان سب کا ایک ہی ہدف پر جمع ہونا اس ہدف کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
’جو چیز انہیں اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ایک خاص قسم کا ادارہ ہوتا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جس کے پاس حکومت کی داخلی سکیورٹی کی پوری تصویر ہوتی ہے، جو یہ جانتا ہے کہ اس کی سرحدوں کے اندر کیا خطرات موجود ہیں اور وہ ان سے نمٹنے کے لیے کس طرح کارروائی کرتا ہے۔‘
ان شواہد نے پاکستان کے دیرینہ سکیورٹی مسائل، بشمول بغاوت، افغانستان کے ساتھ کشیدگی اور چین کے ساتھ ملک کے اقتصادی تعاون کے بارے میں معلومات اکٹھا کرنے کی غیر ملکی کوششوں کی منفرد جھلک پیش کی۔
جہاں ان اداروں میں چین کی دلچسپی کو پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے ان چینی شہریوں سے جوڑا جا سکتا ہے، جنہیں حالیہ برسوں میں مہلک حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے، وہیں انڈیا کی دلچسپی کا تعلق پاکستان کے ساتھ اس کی سرحدی کشیدگی سے تھا۔
رپورٹ کے مطابق، ہیکرز نے ایک سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کی آڑ میں میل ویئر استعمال کر کے بلوچستان پولیس کے کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس) کو کامیابی سے ہدف بنایا۔ میل ویئر پورٹل پر اپ لوڈ کیا گیا جس سے ممکنہ طور پر سسٹم استعمال کرنے والے پولیس افسر اور شکایات کی صورت حال چیک کرنے والے عوام متاثر ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق، یہ میل ویئر حملہ آوروں کو ان افسروں یا شہریوں کی ڈیوائسز تک رسائی حاصل کرنے کے قابل بنا سکتا تھا جنہوں نے یہ جعلی اپ ڈیٹ ڈاؤن لوڈ کی تھی۔
محققین نے کہا کہ انہوں نے متعلقہ فائلوں میں ملنے والے کوڈنگ آرٹیفیکٹس اور ڈیولپمنٹ انوائرنمنٹ انڈیکیٹرز کی بنیاد پر میل ویئر کے ایک نمونے کا تعلق چینی زبان بولنے والے ایک ڈیولپر سے جوڑا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ دراندازیاں ظاہر کرتی ہیں کہ ’کس طرح ملکی سکیورٹی ادارے اس وقت انتہائی اہم انٹیلی جنس اہداف بن سکتے ہیں جب ان کے زیر نگرانی خطرات غیر ملکی انٹیلی جنس کی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔‘
واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان لیو چانگ نے کہا کہ چین ’قانون کے مطابق ہر قسم کے سائبر حملوں کی سختی سے مخالفت اور ان کا مقابلہ کرتا ہے اور کسی بھی ملک یا فرد کو چین کی سرزمین پر یا چین کا بنیادی ڈھانچہ استعمال کرتے ہوئے اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔‘
دی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے انڈیا کی حکومت سے رابطہ کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
خیبر پختونخوا پولیس نے روئٹرز کو ایک بیان میں بتایا کہ اس کے سسٹمز کی سکیورٹی ’اعلیٰ ترین ترجیح کا معاملہ ہے‘ اور یہ کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ کے پی پولیس کا کوئی بنیادی سسٹم، نیٹ ورک یا اہم ایپلی کیشن کامیابی کے ساتھ کمپرومائز ہوئی ہے۔‘
ادارے نے کہا، ’یہ بتانا مناسب ہے کہ گذشتہ برس پاکستان اور انڈیا کے درمیان بڑھی ہوئی کشیدگی کے دوران کے پی پولیس نے سائبر سرگرمیوں کی کوششوں میں اضافہ دیکھا۔‘ اور یہ کہ ’ایک الگ تھلگ واقعے میں، ایک اینڈ یوزر کی لاگ ان معلومات کمپرومائز ہوئیں۔‘
پاکستان کا سب سے بڑا مگر کم آبادی والا صوبہ بلوچستان، کئی دہائیوں سے پاکستان سے آزادی کے لیے لڑنے والی علیحدگی پسند شورش کی لپیٹ میں ہے، جس کی وجہ سے یہ تحریک مسلسل شدید جھڑپوں اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا باعث بن رہی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند گروہ بنیادی طور پر پاکستانی فوج یا چینی شہریوں اور ان کے مفادات کو نشانہ بناتے ہیں۔
یہ علاقہ تحریک طالبان پاکستان یا ٹی ٹی پی کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کا مرکز بھی رہا ہے، جو ایک عسکریت پسند گروہ ہے اور افغان طالبان سے الگ لیکن ان کا حلیف ہے۔ 2021 میں افغانستان میں افغان طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ٹی ٹی پی مزید مضبوط ہوئی ہے۔
© The Independent