اعلیٰ امریکی حکام نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ایران عوامی سطح پر یہ بیان دے کہ آبنائے ہرمز کھلا ہے اور اس اہم گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں پر مزید حملے نہیں کیے جائیں گے۔
حکام نے مزید کہا کہ تہران میں اقتدار کی اندرونی کشمکش نے معاہدہ کرنا اور اسے برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو ایران کے ساتھ موجودہ صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اس ہفتے حملوں کا دوبارہ آغاز اس وقت ہوا جب ایران کے سخت گیر باغی دھڑے نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ بندی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔
یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پر اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ عبوری جنگ بندی کے معاہدے کو ’ختم‘ سمجھتے ہیں لیکن امریکہ جنگ کے مستقل خاتمے کے مقصد سے مذاکرات جاری رکھے گا۔
امریکی حکام کا جمعے کو کہنا تھا کہ ٹرمپ امریکی مذاکرات کاروں کو ایران کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کے لیے محدود وقت دے رہے ہیں لیکن درپیش چیلنجوں کے ایک اشارے کے طور پر، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے تو صدر کے پاس وسیع آپشنز موجود ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے آغاز میں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں اس وقت اقتدار کی کشمکش جاری ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو ’خصوصی طور پر‘ کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔
امریکی حکام نے کہا کہ امریکہ ایران پر یہ دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ عوامی سطح پر یہ بیان دے کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ ہے، کھلا ہے اور بحری جہازوں کی آمد و رفت کے لیے آزاد ہے۔
صحافیوں کے ساتھ ایک کال میں حکام نے اشارہ دیا کہ ایرانی رہنماؤں نے اپنے امریکی ہم منصبوں کو یہاں تک بتایا کہ بحری جہازوں پر حملے ایک غلطی تھے اور اس کے باوجود وہ مذاکرات جاری رہنے کی امید رکھتا ہے۔
حکام نے کہا کہ ٹرمپ کو اس بات کی پروا نہیں تھی کہ بحری جہازوں پر فائرنگ سخت گیر دھڑے کی جانب سے ہوئی تھی اور انہوں نے زیادہ طاقتور جوابی حملے کیے، جس سے ایران پر واضح کر دیا گیا کہ ان کے پیچھے کوئی بھی ہو، نتائج بھگتنے ہوں گے۔
لیکن امریکی حکام کی گفتگو سے چند لمحے قبل، اقوام متحدہ میں تہران کے سفارت کار نے صحافیوں کو بتایا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی سرگرمی، بشمول اسے کھولنے یا بارودی سرنگیں صاف کرنے کے آپریشنز کا اختیار ’خصوصی طور پر ایران کے پاس ہے۔‘
امریکی حکام نے جمعے کو صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر کسی بھی معاہدے کے لیے ضروری ہوگا کہ تہران انتہائی افزودہ یورینیم کا اپنا ذخیرہ حوالے کر دے۔
حکام نے کہا کہ اگر اپنا ایٹمی مواد حوالے کرنے پر امریکہ کا ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا، تو اس کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوجی آپشنز موجود ہیں کہ یہ ہمیشہ کے لیے زیر زمین دفن رہے۔ انہوں نے ان آپشنز کی تفصیل نہیں بتائی۔
حکام نے کہا کہ اگر ایران پہلے جنگ بندی کے معاہدے کی شرائط کی پاسداری نہیں کرتا اور آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر نئے حملے بند نہیں کرتا تو اس کے ساتھ کبھی کوئی ایٹمی معاہدہ طے نہیں ہو گا۔
ایران نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی تو ’مکمل تباہ‘ کر دیا جائے گا: ٹرمپ
اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ اگر ایران نے موجودہ صدر کو قتل کرنے کی کوشش کی یا وہ اس میں کامیاب ہو گیا تو امریکہ ایران کو ’مکمل طور پر تباہ‘ کر دے گا
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’1000 میزائل بالکل تیار ہیں اور ان کا ہدف ایران ہے، اور اس کے فوراً بعد مزید ہزاروں داغے جائیں گے، اگر ایرانی حکومت نے امریکہ کے موجودہ صدر، جو اس صورت میں، میں ہوں، کو قتل کرنے یا قتل کی کوشش کرنے کی اپنی اس دھمکی پر عمل کیا جس کا اظہار دنیا کے کئی حصوں میں کیا گیا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’احکامات پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں، اور امریکی فوج ایک سال کی مدت کے لیے، جس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے، ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنے کے لیے تیار، آمادہ اور اہل ہے۔‘
ایران نے جنگ بندی پر وعدہ نبھایا: عباس عراقچی
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ تہران نے امریکہ کے ساتھ جنگ بندی پر ’اپنا وعدہ نبھایا ہے۔‘
یہ بات انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصرار کے بعد کہی کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے لیکن انہوں نے اسلامی جمہوریہ کے ساتھ مزید مذاکرات پر اتفاق کیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عباس عراقچی نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’ایران نے اب تک اپنا وعدہ نبھایا ہے، نام نہاد امریکی وزیر خزانہ کے برعکس جو ایم او یو کے پیراگراف نو کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔‘
انہوں نے مفاہمت کی یادداشت کے اس حصے کا حوالہ دیا جو خطے میں امریکہ کی جانب سے اضافی فورسز تعینات نہ کرنے سے متعلق ہے۔
عباس عراقچی آج عمان کے دورے پر جائیں گے: ایرانی میڈیا
اے ایف پی نے ایران کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی آبنائے ہرمز پر مذاکرات کے لیے ہفتے کو عمان کا دورہ کریں گے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا کہ یہ دورہ ’آبنائے ہرمز اور جہاز رانی کی حفاظت پر مرکوز ہوگا۔‘ اور یہ ’ان مشاورتوں کا تسلسل ہے جو ہم نے گذشتہ ایک یا دو ماہ کے دوران عمان کے ساتھ شروع کی تھیں۔‘