ایران کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے محفوظ آمدورفت ممکن نہیں: نائب وزیر خارجہ

عمان کے قریب آبنائے ہزمز میں ایک بحری جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے واقعے نے خطے میں جہاز رانی کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے۔

آبنائے ہرمز میں 25 جون 2025 عمان کے ساحل کے قریب کنٹینر جہاز کے قریب سے ایک کشتی گزر رہی ہے (اے ایف پی)

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے جمعے کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے محفوظ جہاز رانی مبہم انتظامات، متوازی راستوں یا ایران جیسے ساحلی ملک کو نظرانداز کرتے ہوئے کیے گئے فیصلوں کے ذریعے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔

انہوں نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کسی بھی قابل قبول انتظامی ڈھانچے کی بنیاد ایران کے ساتھ ہم آہنگی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ میں درج اصولوں پر ہونی چاہیے۔

کاظم غریب آبادی نے مزید کہا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو طے شدہ متوازی طریقۂ کار معطل ہو جائے گا۔

ان کا بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، علاقائی سلامتی اور مستقبل کے انتظامات پر مختلف سطحوں پر سفارتی رابطے جاری ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم تنظیم نے آبنائے ہرمز میں ایک جہاز پر حملے کی اطلاع کے بعد جہازوں کی رہنمائی کا آپریشن عارضی طور پر روک دیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک تجارتی جہاز پر حملے کی اطلاع ملی جس نے نہ صرف سمندری سلامتی بلکہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک نئے بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او)  کے سیکرٹری جنرل ارسنيو ڈومینگیز نے کہا کہ سکارٹ مشن کو اس وقت تک روکا گیا ہے جب تک خطے میں جہاز رانی کے لیے مکمل سکیورٹی ضمانتوں کی دوبارہ تصدیق نہیں ہو جاتی۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب تائیوان کی شپنگ کمپنی ایورگرین میرین نے تصدیق کی کہ اس کا سنگاپور کے پرچم بردار جہاز ’ایور لوولی‘ عمان کے قریب ایک ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے ٹکرا کر متاثر ہوا۔

کمپنی کے مطابق جہاز کے دائیں حصے کو نقصان پہنچا، تاہم عملہ اور کارگو محفوظ رہے اور جہاز بحفاظت آبنائے ہرمز سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ ممکنہ طور پر ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔

برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے بھی اس سے قبل ایک جہاز پر پروجیکٹائل حملے کی اطلاع دی تھی، جو ایران کی جانب سے غیر منظور شدہ سمندری راستوں کے استعمال کے خلاف انتباہ کے چند گھنٹوں بعد پیش آیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دو امریکی حکام کے مطابق اس حملے میں ایران ملوث ہو سکتا ہے، تاہم تہران نے اس حوالے سے براہ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔

ایران کے زیر انتظام آبنائے ہرمز اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ صرف اس کے مقرر کردہ راستوں پر چلنے والے جہازوں کو سکیورٹی کی ضمانت حاصل ہوگی۔ اتھارٹی کے مطابق غیر مجاز راستوں سے گزرنے کی صورت میں کسی بھی نقصان کی ذمہ داری جہاز کے مالک اور آپریٹر پر عائد ہوگی۔

دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے سے متعلق معاہدے کی پاسداری نہ کی تو امریکہ دوبارہ تہران کے خلاف فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ  کا یہ سکارٹ مشن ان سینکڑوں تجارتی جہازوں اور ہزاروں بحری کارکنوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا جو 28 فروری سے جاری تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تھے۔ تاہم حالیہ حملے کے بعد اس آپریشن کی معطلی نے عالمی تجارتی راستوں کی سکیورٹی اور خطے کے مستقبل سے متعلق نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا