امریکہ میں ایک جج نے پیر کو انڈیا کے ارب پتی صنعت کار گوتم اڈانی کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا، جس کے بعد صدر ٹرمپ انتظامیہ نے ان پر عائد دھوکہ دہی اور رشوت ستانی کے الزامات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق بروکلین کی وفاقی عدالت کے جج نکولس گاراؤفس نے باضابطہ طور پر استغاثہ کی مئی میں دائر کی گئی درخواست منظور کر لی، جس میں 2024 کے ان الزامات کو واپس لینے کی استدعا کی گئی تھی کہ اڈانی نے انڈین حکام کو منافع بخش شمسی توانائی کے سپلائی معاہدے حاصل کرنے کے لیے 26 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی رشوت دینے کی سکیم میں حصہ لیا تھا۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق اڈانی کے وکیل رابرٹ جیوفرا، جو ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے اپریل میں محکمہ انصاف کے حکام کو بتایا تھا کہ اگر الزامات ختم کر دیے جائیں تو اڈانی امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہوں گے۔
اس مقدمے کے جج نے پہلے یہ سوال اٹھایا تھا کہ آیا سرمایہ کاری کے اس مبینہ وعدے نے امریکی حکومت کے مقدمہ واپس لینے کے فیصلے میں کوئی کردار ادا کیا تھا یا نہیں۔ وفاقی قانونی نظام میں اس نوعیت کا فیصلہ غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم آخرکار جج اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ سرمایہ کاری کی پیشکش استغاثہ کے فیصلے کا حصہ نہیں تھی۔
البتہ گاراؤفس نے اس طریقہ کار پر سخت تنقید کی جس کے ذریعے ٹرمپ کے مقرر کردہ ڈپٹی ایسوسی ایٹ اٹارنی جنرل ٹرینٹ میک کوٹر نے مقدمہ ختم کروایا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے لکھا کہ ’یہ حقیقت کہ میک کوٹر نے یہ فیصلہ بڑی حد تک دفاعی وکلا کے ساتھ مشاورت میں کیا، اور بظاہر ایف بی آئی، ایس ای سی کے تفتیشی اہلکاروں یا ان پراسیکیوٹرز سے رائے نہیں لی جنہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا، غیر معمولی معلوم ہوتی ہے۔‘
اڈانی گروپ انڈیا کے بڑے کاروباری اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے کاروبار بندرگاہوں، بجلی گھروں، سیمنٹ فیکٹریوں اور میڈیا اداروں سمیت مختلف شعبوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔
گوتم اڈانی، جو انڈیا کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں اور سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے کھلے حامی سمجھے جاتے ہیں، حالیہ برسوں میں کارپوریٹ دھوکہ دہی کے الزامات اور حصص کی قیمتوں میں شدید گراوٹ کے باعث خبروں میں رہے ہیں۔
اڈانی کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا ہے اور وہ مودی کی آبائی ریاست گجرات سے تعلق رکھتے ہیں۔
گوتم اڈانی نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’میں امریکی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم عاجزی اور عدالتی عمل کے لیے گہرے احترام کے ساتھ کرتا ہوں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’اس مشکل دور میں سچائی، انصاف اور قانون کی حکمرانی پر ہمارا اعتماد ہمیشہ غیر متزلزل رہا۔‘