آئے روز کوئی گروہ اسلام آباد پر یلغار کا اعلان کرتا ہے اور پھر سارا شہر محصور ہو جاتا ہے، سڑکیں بند، تعلیمی ادارے بند، شہر کو آنے والے راستے بند، موٹر وے بند۔ سوال یہ ہے کہ اسلام آباد کے شہریوں کا کیا قصور ہے؟ انہیں کس جرم کی سزا دی جاتی ہے؟
افسر شاہی اور پارلیمان میں بیٹھی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے لیے اسلام آباد کی نوعیت بھلے ایک خزانے جیسی ہو، عام آدمی کے لیے یہ غمِ روزگار ہے۔
چھوٹے شہروں میں سہولیات ہوتیں تو لوگ ادھر کا رخ کیوں کرتے؟ ساری جمع پونجی خرچ کر کے، لوگ یہاں آتے ہیں اور جعلی سوسائٹیوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو سر عام پلاٹ بیچ رہی ہوتی ہیں اور ان کی اشتہاری مہم سے پورا شہر سجا ہوتا ہے۔ سی ڈی اے ان کی پوری سہولت کاری کرتا ہے اور جب پردیس سے آیا کوئی عام آدمی گھر بنا لیتا ہے تو اسے نوٹس چلا جاتا ہے کہ اے مبینہ معزز شہری، تمہارا مکان جس سوسائٹی میں ہے وہ ناجائز ہے۔
اس مرحلے سے کوئی گزر جائے تو پھر سڑکوں پر غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ کچھ معلوم نہیں، بالادست اشرافیہ کا کون سا قافلہ، کس وقت، کس سڑک سے گزرے گا، جس کے احترام میں روٹ لگا دیا جائے گا۔ اچھی بھلی سڑک رواں ہوتی ہے کہ اچانک راستہ بند کر دیا جاتا ہے۔
راستہ بند کرنے والے نہ وجہ بتاتے ہیں، نہ متبادل راستے کی نشان دہی کرتے ہیں۔ بچے سکولوں میں چھٹی کے بعد انتظار کر رہے ہوتے ہیں، والدین سڑک پر اپنی بے بسی پر تلملا رہے ہوتے ہیں۔
ایمبولنسیں چیختی چلاتی رہتی ہیں لیکن راستہ نہیں ملتا۔ اس شہر کے مریضوں کی یہ قسمت ہے کہ کسی روز کسی ایمبولینس میں ان کا کوئی جاں بلب عزیز زندگی کی جنگ لڑ رہا ہو تو اسے راستہ ملے گا یا نہیں، کچھ خبر نہیں۔ راستے میں روٹ لگا ہو گا یا کنٹینر پڑا ہو گا یا کوئی قافلہ انقلاب سڑک پر انقلاب خطا کر رہا ہو گا۔
ڈی چوک کو یہاں دیوار گریہ بنا لیا گیا ہے۔ یہاں ہفتوں مہینوں تماشا لگا رہتا ہے۔ یہاں آنسو گیس چلتے ہیں تو زہریلا دھواں پھیل جاتا ہے۔ ساتھ ہی ایف سیکٹر کی شہری آبادی ہے۔ احتجاجی بلوائی تو بھاگ کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں، لیکن زہریلا دھواں گھروں میں گھستا ہے۔ اب گھروں میں بیٹھے بچے بوڑھے خواتین اور بیمار کہاں جائیں؟ ان کا کیا قصور ہے؟
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پرانے وقتوں میں سنتے تھے، فلاں لشکر حملہ آور ہوا اور شہر محصور ہو گیا۔ شہر کے گرد خندقیں کھود دی گئیں۔ اب یہ مناظر ہم اپنی آنکھوں سے اسلام آباد میں دیکھتے ہیں اور بے بس ہیں۔
اسلام آباد شاید دنیا کا واحد دارالحکومت ہے جہاں جس کا جب جی چاہتا ہے یلغار کر دیتا ہے اور شہر کا نظامِ زندگی مفلوج ہو جاتا ہے۔ یہ واحد شہر ہے جہاں تاجروں کو اپنے کاروبار کے لیے عدالت جانا پڑتا ہے۔ یہ واحد شہر ہے جہاں کنٹینر جیسی معاشی سرگرمی کو سکیورٹی کی مشق بنا دیا گیا ہے۔
اس جدید دور میں دارالحکومت کی پولیس کے پاس کنٹینز سے آگے کی سہولیات ہونی چاہییں۔ ان کے پاس جدید آلات اور اعلیٰ تربیت ہونی چاہیے کہ ہجوم کو کیسے کنٹرول کرنا ہے۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ جرم ہو جائے تو ڈبل سواری پر پابندی لگا دی جائے اور احتجاجی لشکر آنے لگیں تو کنٹینر لگا دیے جائیں۔ انتظامی سوچ میں اب کچھ جدت آنی چاہیے۔
کنٹینرز کے ساتھ نجی ملکیت کا اصول بھی جڑا ہوا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کنٹینر کے مالکان کو ان کا کرایہ دیا جاتا ہے یا نہیں، سوال یہ بھی یہ ہے کہ ان کی مرضی کے بغیر ان کے کنٹینر کا استعمال قانون کی نظر میں معتبر ہے یا نہیں؟ یہ شہریت کی مبادیات کا ایک بہت ہی اہم سوال ہے۔
اسلام آباد کی انتظامی حدود کا از سر نو تعین بھی بہت ضروری ہے۔ صوبے بنانے کی بات اگر چل ہی پڑی ہے تو اسلام آباد کے انتظامی مسائل کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا۔ ریڈ زون سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر پنجاب ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ فیض آباد تک تو مظاہرین آرام سے آ جائیں اور یہاں سے آگے ان مظاہرین کو روکا جائے۔ آگے تو صرف چار کلومیٹر کا سفر ہے۔
دوسری طرف خیبر پختونخوا ہے، ان قافلوں کو اسلام آباد کی حدود میں کیسے روکا جا سکتا ہے۔ روکنا ہے تو انہیں بہت پیچھے روکنا ہو گا اور اس کے لیے اسلام آباد کی انتطامی حدود پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔
اسلام آباد کی انتظامی حدود پر نظر ثانی کی اس بحث کو اس ایک زاویے سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ابھی تو کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، اگر پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت ہوتی تو کیا ہوتا؟ فیض آباد پنجاب میں ہے اور چار کلومیٹر آگے پارلیمان ہے۔ انتظامیہ کس کو روک پاتی اور کہاں روک پاتی؟
مزید یہ کہ اگر اسلام آباد صوبہ بنتا ہے اور اس صوبے میں حکومت کسی دوسری جماعت کی ہوتی ہے اور وہ وفاقی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان کر دیتی ہے تو کیا منظر بنے گا؟
اہل سیاست کو، احتجاج کا کوئی ضابطہ اخلاق بنانا ہو گا۔ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ ہر ساون بھادوں کے بعد اکتوبر میں جب موسم بہتر ہو تو کچھ لشکری اسلام آباد کو سومنات قرار دے کر اس پر یلغار کر دیں۔ اس کا کوئی مستقل حل نکالا جانا چاہیے۔
اسلام آباد کے شہریوں پر رحم کریں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔