اقوام متحدہ کے ماہرین کا ایمان اور ہادی کی فوری رہائی کا مطالبہ

اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا ہے کہ پاکستان کو دونوں کے خلاف ’بے بنیاد فوجداری اور دہشت گردی کے مقدمات ختم کرنے چاہییں۔‘

ایمان مزاری اور ہادی چھٹہ پانچ دسمبر، 2025 کو اسلام آباد کی ایک عدالت میں نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کو انسانی حقوق کے وکلا ایمان مزاری اور ان کے شوہر اور ہادی علی چٹھہ کو فوری طور پر رہا کرتے ہوئے ’ان کے خلاف عائد بے بنیاد فوجداری اور دہشت گردی کے مقدمات ختم کرنے چاہییں۔‘

ایمان اور ہادی جنوری میں اسلام آباد کی ایک عدالت سے پاکستان کے سائبر کرائم قانون کے تحت 17، 17 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد سے قید ہیں۔ 

استغاثہ کا الزام تھا کہ ان کی سوشل میڈیا پوسٹس نے غلط معلومات پھیلائیں۔ دونوں وکلا ان الزامات سے انکار کرتے ہیں۔ 

سپریم کورٹ نے 17 ستمبر کو اپیلوں پر فیصلہ آنے تک ان کی سزائیں معطل کر دی تھیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

تاہم جیل سے رہائی سے قبل پولیس نے انہیں ایک پرانے احتجاج کے مقدمے میں اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس کے بعد انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں دوبارہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے اپنے بیان میں یاد دلایا کہ وہ اس سے قبل بھی ایمان اور ہادی کو مقامی کارکنوں کی حمایت اور فوج پر تنقید کرنے والی سوشل میڈیا پوسٹس پر سزا سنائے جانے پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ’ضمانت ملنے کے فوراً بعد ایک پرانے مقدمے کو سامنے لانا بظاہر آزادی اظہار اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کی پاداش میں فوجداری نظام کو سزا کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے۔

’ہم جنوری سے مزاری اور چٹھہ کے خلاف ہونے والی مسلسل کارروائیوں کا جائزہ لے رہے ہیں جو بظاہر ان وکلا کو سزا دینے اور خوف زدہ کرنے کے ساتھ ساتھ مجموعی طور پر وکلا برادری کو خوف میں مبتلا کرنے کے لیے بھی کی جا رہی ہیں۔‘

منگل کو 15 بین الاقوامی تنظیموں نے بھی دونوں وکلا کو رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منظور کیے جانے کے باوجود ان کی مسلسل حراست وکلا کو سیاسی طور پر حساس مقدمات کی پیروی کرنے سے روک سکتی ہے۔

انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس، انٹرنیشنل بار ایسوسی ایشن کے ہیومن رائٹس انسٹی ٹیوٹ اور لا سوسائٹی آف انگلینڈ اینڈ ویلز سمیت تنظیموں نے کہا کہ وکلا کی جانب سے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے پر ان کے خلاف کارروائی دوسرے وکلا کو بھی ایسے افراد کی نمائندگی کرنے سے روک سکتی ہے۔

تنظیموں نے مشترکہ بیان میں کہا ’واقعات کی ترتیب اس بات کی واضح نشاندہی کرتی ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی آزادی سے من مانے طور پر محرومی کو طول دینے کے لیے یکے بعد دیگرے فوجداری کارروائیوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تنظیموں نے جوڑے کی رہائی اور ان کی مسلسل حراست کی وجوہات کا آزادانہ عدالتی جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔

جس مقدمے میں انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا وہ مارچ 2025 میں درج کیا گیا تھا۔

پولیس نے جوڑے پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے اسلام آباد میں ایک احتجاج کے دوران حکومت مخالف نعرے لگائے، سڑکیں بند کیں اور سرکاری اہلکاروں کے کام میں رکاوٹ ڈالی۔ 

ابتدائی شکایت درج ہونے کے بعد اس میں انسداد دہشت گردی کی ایک دفعہ شامل کی گئی۔ تنظیموں نے احتجاج سے متعلق مقدمے میں اس دفعہ کے استعمال پر سوال بھی اٹھایا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان