اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے انسانی حقوق کی کارکن اور وکیل ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی نئے مقدمے میں گرفتاری کے معاملے پر 19 ستمبر کو اسلام آباد کی تمام عدالتوں میں مکمل عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کیا
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے مطابق 19 ستمبر کو اسلام آباد کی تمام عدالتوں میں وکلا احتجاجاً پیش نہیں ہوں گے۔
سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے دونوں کی سزائیں معطل اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کا حکم دیا تھا۔ تاہم اڈیالہ جیل سے رہائی ملتے ہیں انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے رواں برس 24 جنوری کو ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں پیکا ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
بار ایسوسی ایشن نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے حکم پر ضمانت کے باوجود ’دوبارہ گرفتاری کو عدالتی کارروائی کی حرمت کے منافی‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اپنے بیان میں اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری بنیادی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی ہے۔
اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے نامعلوم ایف آئی آر کے تحت گرفتاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
بار ایسوسی ایشن نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’گرفتاری کے معاملے کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں، عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔‘