لاہور آٹو شو میں  1974 ماڈل کی سکوں سے سجی ’کوئن کار‘ کی انٹری

گاڑی کے مالک طارق جاوید کے مطابق: ’میں نے اس پر پاکستان کا قومی پرچم بنایا اور اسے فخر پاکستان کا نام دیا ہے۔ اس کی مالیت کوئی طے نہیں کر سکتا یہ انمول ہے۔‘

لاہور میں منعقدہ پاکستان انٹرنیشنل آٹو شو میں جہاں نئے ماڈلز کی مہنگی گاڑیوں کی نمائش جاری ہے، وہیں لاہور کے شہری نے کرنسی سکوں سے سجی 1974 ماڈل کی پرانی کرولا ’کوئن کار‘ بھی نمائش کے لیے پیش کی۔

ہر دور میں جدید ٹیکنالوجی اور نئے ڈیزائن کی مصنوعات تو اہم رہی ہیں، لیکن ’اولڈ از گولڈ‘ جیسے محاورے کے مطابق پرانی اور قدیم چیزیں انمول حیثیت رکھتی ہیں۔ کئی کمپنیوں کی بنی پرانی گاڑیاں سڑکوں پر کم لیکن اہم عمارتوں میں نایاب اشیا کی طرح سجی دکھائی دیتی ہیں، جن کی اپنی الگ ہی اہمیت ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

لاہور کے رہائشی طارق جاوید نے کرولا کمپنی کی 1974 ماڈل گاڑی کی پوری باڈی پر پاکستانی کرنسی سکے لگا رکھے ہیں۔ یہ گاڑی چلنے کے قابل بھی ہے اور سکوں کے باعث الگ ہی خوبصورتی کا نمونہ پیش کرتی ہے۔

طارق جاوید نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’میں نے 1974 میں یہ گاڑی خریدی تھی۔ وقت کے ساتھ یہ ماڈل پرانا ہوتا گیا، لیکن میں نے اسے پہلے کی طرح برقرار رکھنے کے لیے ایک سال پہلے اس کی پوری باڈی پر سکے لگا کر اسے تیار کیا۔ یہ سکے سٹیٹ بینک سے نئے حاصل کیے۔ ان میں ایک، دو، پانچ اور دس روپے مالیت کے سکے لگائے گئے ہیں۔ کل سکوں کی تعداد 33 ہزار ہے جبکہ ان کی مالیت ایک لاکھ پانچ ہزار ہے۔‘

انہوں نے بتایا: ’میں 1985 میں ہنزہ گیا، وہاں لوگ شیشے پر نایاب پتھر لگا رہے تھے۔ مجھے چونکہ گاڑیوں کا شوق تھا تو مین نے سوچا کہ اگر کبھی پیسے آئے تو میں گاڑی پر سکے لگاؤں گا۔ پھر میں نے سلیکون سے مضبوطی کے ساتھ سکے لگائے۔‘

طارق نے نہایت مہارت کے ساتھ یہ سب سکے ترتیب سے لگائے ہیں اور ایک سکہ دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی بھی سکہ ٹیڑھا نہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے کسی مشین سے انہیں لگایا گیا ہو۔

انہوں نے بتایا: ’میں نے 15 سال پہلے دبئی میں بھی سکے لگا کر گاڑی تیار کی تھی، لیکن پھر میں پاکستان آگیا تو میں نے اب یہاں اپنی گاڑی سکے لگا کر تیار کی۔ اس طرح کی گاڑی شاید اور کہیں نہ ہو۔ اس کے بنانے میں مجھے کسی کی مدد حاصل نہیں۔‘

بقول طارق: ’میں نے اس پر پاکستان کا قومی پرچم بنایا اور اسے فخر پاکستان کا نام دیا ہے۔ اس کی مالیت کوئی طے نہیں کر سکتا یہ انمول ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان