ہم اسلام آباد بیٹھنے کے لیے آ رہے ہیں: جماعت اسلامی

امیر جماعت اسلامی نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے دوران ان کی جماعت ڈی چوک پہنچے گی اور وہاں دھرنا دے گی۔

جماعت اسلامی نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی کے خلاف 20 ستمبر سے اسلام آباد کی جانب پرامن لانگ مارچ کو ممکنہ دھرنا بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’جانے کے لیے نہیں، بلکہ بیٹھنے کے لیے آ رہے ہیں۔‘

 امیر جماعت اسلامی کے مطابق اس احتجاجی عمل کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی بھی حمایت حاصل ہے، اور دونوں جماعتیں اپنے اپنے الگ ایجنڈے اور نظم و ضبط کے تحت ایک دوسرے کی تائید کر رہی ہیں۔

جمعہ کو انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں امیر جماعت اسلامی نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب مارچ کے دوران ان کی جماعت ڈی چوک پہنچے گی اور وہاں دھرنا دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ساتھ جماعت اسلامی کا رابطہ ہے اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے احتجاج کی حمایت کر رہی ہیں تاہم اپنے اپنے پلیٹ فارم اور ڈسپلن کے مطابق کام کریں گی۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
جماعت اسلامی ’پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے حکومت پر دباو ڈالنے‘ کے لیے کراچی سے احتجاج کا آغاز کرے گی، اور ایک اندازے کے مطابق 23 یا 24 ستمبر تک اسلام آباد پہنچے گی۔

پی ٹی آئی کی جانب سے بھی اسلام آباد میں مارچ اور ڈی چوک پہنچنے کی کال کے بارے میں سوال پر جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ پی ٹی آئی کا مارچ عمران خان کی رسائی اور ان کی صحت کے مسائل کے حوالے سے ہے۔ ’پی ٹی آئی نے پانچ اگست کو پیٹرولیم لیوی اور پیٹرول کی قیمت کے حوالے سے اعلان کیا تھا جبکہ جماعت اسلامی کی تحریک اس سے پہلے سے چل رہی تھی۔‘

جماعت کے امیر کے مطابق جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے ایک دوسرے سے رابطہ کیا اور ایک دوسرے کو سپورٹ کرنے کی تائید بھی کی ہے۔

انہوں نے کہا ’وہ ہمارے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں، ہم ان کے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ دونوں جماعتیں اپنے اپنے پلیٹ فارم اور اپنے ڈسپلن کے مطابق کام کریں گی۔‘

’ہم ڈی چوک پہنچیں گے‘

گذشتہ بار اسلام آباد کے بجائے راولپنڈی میں احتجاجی پڑاؤ ڈالنے سے متعلق سوال پر جماعت اسلامی کے امیر نے کہا کہ ’اس وقت کنٹینر لگا دیے گئے تھے، آنسو گیس کی شیلنگ شروع ہوئی تھی اور 1500 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کے بہت سے کارکن رکاوٹیں توڑ کر ڈی چوک تک پہنچ گئے تھے۔‘

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی خون خرابہ نہیں چاہتی تھی اور اسی لیے لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے 14 روز دھرنا دیا گیا، جس کے بعد حکومت نے مذاکرات کیے اور لوگوں کو ریلیف ملا۔

نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کا ماڈل ریلیف حاصل کرنا ہے اور اگر حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا اعلان کر دے تو جماعت اسلامی کو اسلام آباد آنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسلام آباد میں احتجاج کے مقام سے متعلق سوال پر جماعت اسلامی کے امیر نے کہا ’ہم ان شااللہ پہنچیں گے ڈی چوک، بلکہ ڈی چوک تو ذرا ڈی ہے، اس کے بعد گول بھی کرنا ہوتا ہے تو وہ بھی کریں گے۔‘

حکومت کی جانب سے مطالبات نہ مانے جانے کی صورت میں اگلے لائحہ عمل کے بارے میں سوال پر جماعت اسلامی کے امیر نے کہا ’ہم جانے کے لیے نہیں آ رہے، ہاتھ لگانے کے لیے نہیں آ رہے، ہم بیٹھنے کے لیے آ رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کو مجبور کرنے کے لیے جماعت اسلامی کے پاس ’بہت طریقے ہیں تاہم جماعت اسلامی کوئی گولی نہیں چلائے گی، کسی کو گالی نہیں دے گی اور کسی کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔ پرامن سیاسی مزاحمت کے نتیجے میں حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا جائے گا۔‘

دھرنے میں تبدیل ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ’دھرنا تو یہ ہو ہی جائے گا، اس کے بعد پتہ نہیں کیا کیا ہوگا، مارچز کریں گے مختلف اور ہمارے ذہن میں کافی پلانز ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان