پیٹرولیم ڈویژن نے کہا ہے کہ توانائی کی عالمی ترسیل متاثر ہونے کے باوجود پاکستان کے پاس 20 دن سے زائد کی ملکی طلب پوری کرنے کے لیے پیٹرولیم کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔
دوسری جانب صنعت کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے مہینوں میں خام تیل اور صاف ایندھن کے کارگو کا حصول مزید مشکل اور مہنگا ہو سکتا ہے۔
حکومت کا یہ اندازہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب پر حوثی حملوں سے آبنائے باب المندب کے ذریعے جہاز رانی کو خطرہ لاحق ہے۔
بحیرہ احمر کا یہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر امریکہ اور ایران کے تنازع کے باعث آبنائے ہرمز کے عملی طور پر بند ہونے کے بعد سے پاکستان نے خام تیل کی ترسیل کے لیے اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔
اس بحران نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس نے پاکستان کو بھی مقامی سطح پر پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور کیا ہے۔
ایڈیشنل سیکرٹری پیٹرولیم ظفر عباس نے ہفتے کو عرب نیوز کو بتایا: ’سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ہم بحیرہ احمر اور مغربی افریقہ سے خام تیل کی فراہمی کا انتظام کر لیں گے۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’اس وقت باب المندب سے تیل کی ترسیل متاثر نہیں ہوئی ہے بلکہ یہ جاری ہے۔‘
ظفر عباس نے کہا کہ پاکستان سنگاپور سے بھی صاف شدہ پیٹرول درآمد کر رہا ہے اور اس وقت 20 دن سے زائد کا پیٹرولیم ذخیرہ موجود ہے، جو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی مقرر کردہ کم از کم حد سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا: ’اوگرا کی شرائط کے تحت، ہمارے پاس ڈیزل اور پیٹرول کا 20 دن کا ذخیرہ ہونا چاہیے۔ خدا کے فضل سے ہم نے اس سے زیادہ کا انتظام کر رکھا ہے۔ جس کے نتیجے میں ہمیں ترسیل کا کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔‘
اس سے قبل ظفر عباس نے جمعرات کو ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا تھا کہ پاکستان کے تیل صاف کرنے کے پانچ کارخانوں کی مجموعی استعداد تقریباً 450000 بیرل یومیہ ہے۔ وہ ملک کی ڈیزل کی تقریباً 70 فیصد ضروریات اور پیٹرول کی 30 فیصد طلب پوری کرتے، جب کہ باقی حصہ درآمد کیا جاتا ہے۔
ایڈیشنل سیکریٹری پیٹرولیم عباس نے کہا کہ پاکستان مقامی سطح پر روزانہ تقریباً 63000 سے 64000 بیرل خام تیل پیدا کرتا ہے اور سالانہ تقریباً 90 لاکھ میٹرک ٹن درآمد کرتا ہے، جو زیادہ تر خلیجی خطے سے آتا ہے۔
پاکستان نے جون کے بعد سے صاف شدہ ڈیزل درآمد کرنے سے بڑی حد تک گریز کیا ہے، سوائے اگست کے اوائل میں منگوائے گئے ایک کارگو کے، کیوں کہ حکومت نے مقامی ریفائنریز کے لیے خام تیل کی فراہمی بڑھا دی تاکہ جب بین الاقوامی سطح پر رسد محدود ہو جائے تو ڈیزل کی مقامی پروسیسنگ کو زیادہ سے زیادہ کیا جا سکے۔
ظفر عباس کے بقول: ’ہم نے متبادل راستہ اختیار کیا اور خام تیل کی اپنی فراہمی کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا، کیونکہ ہمارے پاس مقامی طور پر مزید ڈیزل پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ہمارے پاس مقامی پیداوار کی 70 فیصد استعداد ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے ترسیل برقرار رکھی جبکہ 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے شروع ہونے پر دبئی کروڈ بینچ مارک تقریباً 71 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر چھ مارچ کو 125 ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔
اکتوبر کا انتظام مکمل، نومبر غیر یقینی
سنرجیکو پی کے لمیٹڈ کے وائس چیئرمین اور ایگزیکٹیو ڈائریکٹر اسامہ قریشی نے کہا کہ تیل صاف کرنے کے پاکستانی کارخانے بہترین سطح پر کام کر رہے ہیں اور ستمبر اور اکتوبر کے لیے خام تیل کے کارگو پہلے ہی بُک کر چکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے کہا کہ سنرجیکو نے خام تیل حاصل کرنے کے اپنے ذرائع کو متنوع بنایا ہے۔ اسے خلیج کے مقابلے میں امریکہ اور مغربی افریقہ سے زیادہ ترسیل مل رہی ہے، جبکہ صنعت نے اکتوبر کے لیے ہنگامی انتظامات کر لیے ہیں۔
اسامہ قریشی نے کہا کہ ’ہمیں امید ہے کہ صورت حال زیادہ خراب نہیں ہو گی۔ موجودہ علاقائی صورت حال اور جاری تنازعے کے پیش نظر، ریفائنریز نے اکتوبر کے لیے ہنگامی انتظامات کر لیے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ سنرجیکو کے دو خام تیل کے کارگو امریکہ اور مغربی افریقہ سے آنے والے ہیں اور انہیں توقع نہیں ہے کہ ترسیل کے طویل راستوں سے اس کے مجموعی گراس ریفائننگ مارجن پر کوئی خاص اثر پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ صنعت نے بڑے جہازوں اور ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل کی منتقلی پر مشتمل متبادل انتظامات بھی کیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا: ’تاہم، نومبر بدستور تشویش کا باعث ہے۔ نومبر میں ترسیل کے لیے اس وقت جو قیمتیں بتائی جا رہی ہیں وہ کافی زیادہ ہیں، اور اس ماہ کے لیے ترسیل کا حصول بدستور چیلنج بنا ہوا ہے۔‘
ڈیزل کا دباؤ
پاکستان کی ڈاؤن سٹریم آئل انڈسٹری کی نمائندگی کرنے والی آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر خام تیل کے کافی کارگو حاصل نہ کیے گئے تو ترسیل دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر اس لیے کہ اکتوبر سے دسمبر کے کٹائی کے سیزن کے دوران روایتی طور پر ڈیزل کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
او سی اے سی کے سیکریٹری جنرل سید نذیر عباس زیدی نے کہا کہ حکومت متبادل ذرائع سے ترسیل کا بندوبست کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ڈیزل کی دستیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ اکتوبر میں کتنے خام تیل کے کارگو پاکستان آتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’ہمیں خام تیل کے جتنے زیادہ کارگو ملیں گے، ہم مقامی سطح پر اتنا ہی زیادہ ڈیزل پیدا کر سکیں گے۔ بصورت دیگر، پاکستان کو اوپن مارکیٹ سے ڈیزل درآمد کرنا پڑے گا، جو بہت مہنگا پڑے گا۔‘
پیٹرول کی مہنگی درآمدات
صنعت سے وابستہ ایک باخبر ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر عرب نیوز کو بتایا کہ پاکستان روایتی طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے خام تیل کی ترسیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا رہا ہے، لیکن جہاز رانی میں رکاوٹوں کی وجہ سے باقاعدہ کارگوز برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ذریعے نے کہا کہ ’جب بحیرہ احمر کے جہاز رانی کے راستوں، خاص طور پر ینبع بندرگاہ کے ذریعے ہونے والی ترسیل میں رکاوٹیں ہوں، تو ماہانہ تقریباً آٹھ لاکھ بیرل خام تیل کی درآمدات کو یقینی بنانا اب تیزی سے مشکل ہو گیا ہے۔‘
اس کے نتیجے میں پاکستان کو ممکنہ طور پر سنگاپور، وسطی ایشیا اور روس سمیت دور دراز کی منڈیوں سے مزید پیٹرول منگوانا پڑ سکتا ہے، جس سے نقل و حمل اور مال برداری کے اخراجات میں اضافہ ہو گا۔
ذریعے کے مطابق، ملک میں روزانہ تقریباً 21000 میٹرک ٹن پیٹرول استعمال ہوتا ہے، جبکہ مقامی ریفائنریز طلب کا تقریباً 30 فیصد حصہ پورا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’فجیرہ روایتی طور پر پاکستان کے لیے پیٹرول کی ترسیل کا ایک بڑا تجارتی مرکز اور ذریعہ رہا ہے، تاہم اس وقت عمان صاف پیٹرول کا واحد بڑا قریبی ذریعہ ہے۔‘
ذریعے نے مزید کہا کہ ’مارچ سے، پاکستان کی ترسیل بڑی حد تک مشرق بعید (سنگاپور) یا عمان سے آ رہی ہے، لیکن مشرق بعید کی ترسیل نمایاں طور پر زیادہ مہنگی ہے کیوں کہ اس پر مال برداری کے اخراجات زیادہ آتے ہیں۔ عمان کی اپنی مقامی طلب بھی کافی زیادہ ہے، جو برآمد کے لیے صاف پیٹرول کی دستیابی کو بھی محدود کرتی ہے۔‘
صنعت کے ذریعے نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے ارد گرد پاکستان کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے سلسلے کو رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس سے قطر کے لیے بجلی، کھاد کی پیداوار اور صنعت کے لیے استعمال ہونے والا ایندھن فراہم کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
تاہم، صنعت کے دیگر فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت روزانہ کی بنیاد پر پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے اور ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔
سنرجیکو کے اعلیٰ عہدیدار اسامہ قریشی نے کہا کہ ’اس وقت، صنعت کو اکتوبر تک ترسیل کے کسی بڑے مسئلے کی توقع نہیں ہے۔‘