ٹوئٹس کیس: وکیل ایمان مزاری، ان کے شوہر کو 17،17 سال قید کی سزا

اسلام آباد کی ایک سیشن کورٹ نے وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں متعدد الزامات پر مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنا دی۔

وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر وکیل ہادی علی چٹھہ پانچ دسمبر، 2025 کو اسلام آباد کی ایک عدالت میں موجود ہیں (اے ایف پی)

اسلام آباد کی ایک سیشن کورٹ نے ہفتے کو وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر اور وکیل ہادی علی چٹھہ کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق ایک مقدمے میں متعدد الزامات پر مجموعی طور پر 17،17 سال قید کی سزا سنا دی۔

ایمان مزاری اور ان کے شوہر جمعے کو ایک علیحدہ کیس میں گرفتاری کے بعد راول پنڈی کی اڈیالہ جیل میں عدالتی ریمانڈ پر تھا۔

ہفتے کو کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایمان اور ہادی کو مبینہ طور پر انٹرنیٹ مسائل کے باعث بذریعہ ویڈیو لنک پیش نہیں کیا جا سکا جس پر عدالت نے اڈیالہ جیل کے حکام کی استدعا منظور کرتے ہوئے 20 منٹ کا وقفہ کر دیا۔

سماعت کے دوران پراسیکیوشن نے کہا کیس میں مجموعی طور پر پانچ گواہان پیش کیے گئے اور عدالت میں 30 صفحات سے زائد پر مشتمل چالان جمع کرایا گیا۔

ایمان اور ہادی پر ’پشتون تحفظ موومنٹ اور دیگر کالعدم تنظیموں کا ایجنڈا پھیلانے‘ اور ریاستی اداروں کے خلاف مواد کی تشہیر کے الزامات تھے۔

چالان کے ساتھ ایمان اور ہادی کی مختلف ٹوئٹس کو بطور ثبوت عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ایمان کی مبینہ ریاست مخالف تقریر بھی ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی۔

عدالت نے کچھ دیر بعد ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا، جس کے بعد وڈیو لنک پر آتے ہی ایمان نے پوچھا ’کیا میڈیا عدالت میں موجود ہے؟ ہم پر تشدد کیا جا رہا ہے اور ہمیں پانی اور کھانا نہیں دیا جا رہا۔‘

انہوں نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا ’آپ اپنی نوکری کر رہے ہیں، آپ کی وجہ سے سارا کچھ ہو رہا ہے، ہم عدالتی کاروائی کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔‘

جج افضل مجوکہ نے استفسار کیا ’یعنی آپ کاروائی کا حصہ نہیں بننا چاہتے؟ فیصلے کا انتظار کریں۔‘

اس دوران ایمان اور ہادی کے وکیل سماعت مکمل ہونے سے قبل ہی اٹھ کر چلے گئے۔

بعد ازاں عدالت نے جج نے 22 صفحات پر مشتمل تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔ 

فیصلے کے مطابق پیکا ایکٹ کے سیکشن نو کے تحت پانچ سال قید اور 50 لاکھ روپے جرمانہ، سیکشن 10 کے تحت 10 سال قید اور تین کروڑ روپے جرمانہ، جبکہ سیکشن 26 اے کے تحت دو سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

جج مجوکہ کے تحریر کردہ عدالتی حکم میں کہا گیا کہ استغاثہ سیکشن نو (جرم کی تعریف و توصیف)، سیکشن 10 (سائبر دہشت گردی) اور سیکشن 26-اے (جھوٹی اور گمراہ کن معلومات) ، جو کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت ہیں، کے تحت دونوں ملزمان کے خلاف اپنا مقدمہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا۔

حکم کے مطابق چنانچہ پیکا کے سیکشن نو کے تحت ایمان اور ہادی کو پانچ، پانچ سال سخت قید اور 50 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے، جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں ایک سال مزید قید ہوگی۔

سیکشن 10 کے تحت دونوں کو 10، 10 سال سخت قید اور تین کروڑ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی اور جرمانہ ادا نہ کرنے پر دو سال اضافی قید ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سیکشن 26-اے کے تحت دونوں کو دو، دو سال سخت قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، جس کے عدم ادائیگی پر چھ، چھ ماہ اضافی قید ہوگی۔

تمام سزائیں ایک ساتھ نافذ العمل ہوں گی، اس طرح دونوں کو کُل 10، 10 برس قید کی سزا کاٹنی ہو گی۔

عدالتی حکم میں مزید لکھا گیا کہ دونوں مجرموں کو اپنی سزائیں پوری کرنے کے لیے جیل میں ہی رکھا جائے۔

عدالت نے دونوں کو ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دیا، جس کے تحت پہلے سے ہونے والی حراست کو سزا کا حصہ تصور کیا جاتا ہے۔

اپنے فیصلے میں جج مجوکہ نے سب انسپکٹر شہروز ریاض کی اگست 2025 کی شکایت کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ایمان ’مسلسل انتہائی توہین آمیز، گمراہ کن اور ریاست مخالف مواد سوشل میڈیا پر پھیلا رہی تھیں‘ اور یہ سب ہادی کی ’معاونت‘ سے ہو رہا تھا۔

شکایت میں کہا گیا ’انہوں نے ایسا بیانیہ آگے بڑھایا جو دشمن دہشت گرد گروہوں اور کالعدم تنظیموں و افراد کے مؤقف سے مطابقت رکھتا تھا۔

’ان کے مواد نے لسانی نفرت کو ہوا دی، ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد کمزور کیا اور یہ تاثر دیا کہ دہشت گردی اور جبری گمشدگیوں کے پیچھے مسلح افواج کا ہاتھ ہے۔‘

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ 2021 سے 2025 کے درمیان ایمان کی ٹوئٹس ’کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایجنڈے‘ کی عکاسی کرتی تھیں۔

جج مجوکہ نے تحریر کیا ’دونوں ملزمان پیشے کے لحاظ سے وکیل ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان دہشت گرد ریاستوں کی فہرست میں شامل نہیں، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر اپنے ٹوئٹس میں پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دیا، جو دراصل بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کا ایجنڈا ہے۔‘

وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے عدالتی فیصلے پر ایکس پر اپنے ردعمل میں لکھا ’پیکا کا پہلا سرکاری اور حتمی نتیجہ۔ اللہ سے ڈرنا چاہیے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان