افغانستان ’ناجائز حراست کی پشت پناہی والا ملک‘ قرار پانے کے بعد ممکنہ امریکی پابندیاں

اس قانون کے تحت اثاثوں کو منجمد کرنے اور تجارتی پابندیوں کے علاوہ دوسری اقتصادی پابندیاں لگائی جا سکتی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے افغانستان کو ’ناجائز حراست‘ کی پشت پناہی کرنے والا ملک قرار دے دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا کہ طالبان ’دہشت گردانہ ہتھکنڈے‘ استعمال کرتے ہوئے افراد کو تاوان یا پالیسی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے اغوا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ قابلِ مذمت ہتھکنڈے فوری طور پر ختم ہونے چاہیے۔ طالبان کی جانب سے امریکی شہریوں اور دیگر غیر ملکیوں کو غیر منصفانہ طور پر حراست میں لینے کی وجہ سے افغانستان کا سفر امریکیوں کے لیے محفوظ نہیں ہے۔‘

روبیو نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ ان امریکی شہریوں کو رہا کریں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ ان کی تحویل میں ہیں۔ 

ان میں جنوری 2025 میں افغانستان میں زیرِ حراست محقق ڈینس کوئیل کے علاوہ افغان نژاد امریکی تاجر محمود حبیبی بھی شامل ہیں، جو 2022 سے لاپتہ ہیں۔

افغانستان کی وزارت خارجہ نے اس فیصلے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں کسی کو کسی ڈیل یا غیرقانونی طور ہر حراست میں نہیں لیا گیا ہے۔ 

افغان وزارت خارجہ کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے خواہاں ہے اور اس ضمن میں قطر کی ثالثی میں مختلف مراحل میں مذاکرات بھی ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی اس موضوع پر بحث ہو رہی ہے اور بعض صارفین امریکی اقدام پر تنقید کر رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ امریکی امداد کے باوجود اس کے شہریوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔

بعض صارفین نے لکھا ہے کہ امریکہ اگر اپنے شہریوں کی رہائی چاہتا ہے تو گوانتانامو بے میں زیر حراست آخری افغان شہری کو کیوں رہا نہیں کیا جاتا۔

خیال رہے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ سال یہ نئی لسٹ ایک ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت جاری کی گئی تھی اور وائٹ ہاؤس کے مطابق اس نئی لسٹ کا مقصد دیگر ممالک میں ’غیر قانونی‘ طور پر زیر حراست امریکی شہریوں کی حفاظت اور رہائی ہے۔

فہرست میں شامل ہونے کے بعد کیا پابندیاں لگ سکتی ہیں؟

گذشتہ سال ستمبر میں امریکی صدر کی جانب سے ایگزیکٹیو آرڈر کے بعد یہ قانون امریکہ میں نافذ ہو چکا ہے اور سیکرٹری آف سٹیٹ کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی ملک کو ’ناجائز حراست‘ کی پشت پناہی والا ملک قرار دیں۔

ایگزیکٹیو آرڈر کے سیکشن تین میں لکھا ہے کہ جب کوئی ملک اس لسٹ میں شامل ہو جائے تو سٹیٹ سیکرٹری اس دفعہ کے تحت کچھ اقدامات کریں گے۔

ان اقدامات میں اس ملک پر انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامکس پاور ایکٹ 1950 کے تحت اقتصادی پابندیاں شامل ہیں۔

اس سے پہلے ایران، روس اور شمالی کوریا پر اس قانون کے تحت مختلف اقتصادی پابندیاں لگائی جا چکی ہیں، جن میں اثاثوں کو منجمد کرنا، تجارتی پابندیاں اور اسی سے متعلق کوئی اور اقتصادی پابندی شامل ہو سکتی ہے۔

اس کے علاوہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ایکٹ کی دفعہ 7032 سی کے تحت کسی شخص کی کرپشن اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے ان کا اور ان کے خاندان کا امریکی میں داخلے پر پابندی لگا سکتا ہے۔

اسی طرح اس ایگزیکٹیو آرڈر کے تحت امریکہ کسی خاص ملک کو جانے کے لیے امریکی پاسپورٹ کے استعمال پر پابندی لگا سکتا ہے یعنی اس ملک میں جانے کے لیے امریکی پاسپورٹ کا استعمال ممنوع ہو گا۔

اس کا مقصد اس قانون کے مطابق امریکی شہریوں کی حفاظت اور یہ بتانا کہ متعلقہ ملک امریکی شہریوں کے لیے محفوظ نہیں ہے، مقصود ہے۔

اس فہرست میں شامل ہونے کے بعد امریکہ کی جانب سے فارن اسسٹنس ایکٹ 1961 کے تحت کوئی بھی معاشی امداد، فوجی امداد یا کسی قسم کی سکیورٹی یا انسانی سپورٹ بند کر سکتا ہے۔

فہرست سے واپس نکلنے کا راستہ کیا ہے؟

اس فہرست میں شامل ہونے کے بعد ایگزیکٹیو آرڈر کے مطابق واپسی کا راستہ موجود ہے اور اس میں سب سے پہلے امریکی شہریوں کی رہائی شرط ہے۔

اسی طرح آرڈر کے مطابق رہائی کے بعد اس متعلقہ ملک کی قیادت کی جانب سے غیر قانونی حراست میں لیے جانے کی پالیسیوں میں تبدیلی لانا ہوگی۔

ان دو صورتوں کے علاوہ آرڈر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ متعلقہ ملک کی طرف سے وعدہ کہ وہ ایسے اقدامات نہیں کریں گے اور یا امریکی صدر کی ہدایت پر بھی ملک کو اس فہرست سے نکالا جا سکتا ہے۔

مبصرین کی رائے

عبدالسید سویڈن میں مقیم جنوبی ایشیا میں شدت پسند تنظیموں پر کام کرنے والے محقق ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امریکہ نے اتنا سخت اقدام مذاکرات کی ناکامی کے بعد اٹھایا ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بظاہر لگتا ہے کہ سفارتی کوششوں سے قیدیوں کی رہائی ممکن نہیں ہوئی تو اب یہ قدم اٹھانا پڑا۔

عبدالسید نے بتایا، ’ٹرمپ کی ترجیحات میں یہ شامل ہے کہ وہ امریکی شہریوں کو رہا کروا کر ملک واپس لائیں اور اسی وجہ سے اب ایسے سخت اقدامات کر رہے ہیں۔‘

افغان طالبان کے لیے یہ کتنا بڑا چیلنج ہو گا؟ اس کے جواب میں عبدالسید نے بتایا کہ یقینی طور پر یہ فیصلہ افغان طالبان کے لیے سیاسی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا اور اس فیصلے سے پاکستانی بیانیے کو بھی تقویت ملے گی۔

ڈاکٹر عرفان اشرف پاکستان افغانستان امور کے ماہر اور پشاور یونیورسٹی کے شعبہ صحافت کے استاد ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے مطابق  امریکہ کی جانب سے یہ فیصلہ ایران کے بعد اپنے اہداف کو روس اور چین تک پھیلانا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں اپنے مفادات حاصل کر سکیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے ٹرمپ نے بگرام کی بات بھی بار بار کی ہے اور اب لگ رہا ہے کہ بگرام امریکہ کے لیے اہم ہے اور اس فیصلے سے اب افغانستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ 

عرفان اشرف نے بتایا کہ ’طالبان مخالف افراد کے علاوہ عام شہری اور امریکی شہری بھی طالبان کی قید میں ہیں، خصوصاً جن کا امریکہ نام لے رہا ہے، تو اب اسی کو جواز بنا کر امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے۔ ‘

ان کے خیال میں مستقبل میں بگرام کا مسئلہ بڑھے گا اور اس فہرست میں شامل ہونا اسی کی ایک کڑی ہے تاکہ روس سمیت ایران اور دیگر ممالک پر نظر رکھی جا سکے۔

’اب پاکستان کی جانب سے افغانستان میں فضائی کارروائی اور امریکہ کے بیانات سے لگتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے طالبان پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ بگرام کو امریکہ کے حوالے کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا