قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن کا شدید احتجاج

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ’بجٹ نا منظور‘ سمیت حکومت مخالف نعرے لگائے جس کے باعث ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا جبکہ بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 12 جون 2026 کو قومی اسمبلی اسلام آباد میں بجٹ تجاویز پیش کر رہے ہیں (سکرین گریب، پی ٹی وی)

وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقع پر جمعہ کو قومی اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی زد میں رہا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کر دی۔

اجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ’بجٹ نا منظور‘ سمیت حکومت مخالف نعرے لگائے جس کے باعث ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا جبکہ بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

 ہنگامے کے باوجود وزیرِ خزانہ نے اپنی تقریر جاری رکھی۔

اپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اس بجٹ کو عوام دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

دوسری جانب حکومتی ارکان نے اپوزیشن کے طرزِ عمل کو غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایک اہم قومی دستاویز ہے، جس پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہونی چاہیے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بجٹ اجلاس اکثر سیاسی کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں بجٹ تقاریر کے دوران نعرے بازی، واک آؤٹ اور احتجاج کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کرتی رہی ہیں، تاہم بعض مواقع پر صورتحال اس قدر کشیدہ ہو جاتی ہے کہ ایوان کی کارروائی بھی متاثر ہوتی ہے۔

 بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کا پارلیمنٹ کے باہر احتجاج

وفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل کے واقعات بھی پیش آئے۔

سرکاری ملازمین کی تنظیموں کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاج میں مختلف اداروں کے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے، پنشن سے متعلق تحفظات کے خاتمے اور مہنگائی کے تناسب سے مراعات بڑھانے کے مطالبات کر رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بجٹ سے قبل وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےباوجود معیشت آج مستحکم ہے، ’موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا، عوام نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مہنگائی برداشت کی اس پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ان کے بقول آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی اور ہماری کاوشوں کو سراہا ہے۔

’پہلے دو بجٹوں میں ملک اور آئی ایم ایف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ملکی ترقی کے راستے کھولنے کے لیے کئی سالوں سے ہچکولے کھاتی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ٹیکسز لگانا پڑے جس سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘

وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عام آدمی کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، گزشتہ 2 سال کے دوران حکومتی کاوشوں سے مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گئی، پالیسی ریٹ بھی 22.5 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آیا، خلیج کی صورتحال کے باعث کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم تمام معاشی چیلنجز کے باوجود ہماری معیشت آج مستحکم ہے۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تیسرا بجٹ ہماری معیشت کو مزید تیزی سے آگے لے کر جائے گا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان