ملتان کے نشتر ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں 2014 میں علاج کے لیے داخل ہونے والے محمد اسد گذشتہ جمعے کو دم توڑ گئے۔ موٹر سائیکل حادثے میں سر کے پچھلے حصے میں چوٹ لگنے سے 12 سال تک ان کا پورا جسم پیرالائزڈ رہا۔
ماہرین کے مطابق سر میں چوٹ لگنے کے باعث یا کسی اور وجہ سے کئی بار مریض طویل عرصے کے لیے کومہ میں چلے جاتے ہیں۔ وہ زندہ تو رہتے ہیں لیکن ہوش میں نہیں ہوتے۔ کئی کیسز میں سر کے پچھلے حصے حرام مغز یا گردن کے مہروں پر چوٹ سے جسم پیرالائزڈ رہتا ہے لہذا مریض ہوش میں ہوتے ہوئے بھی حرکت نہیں کر سکتا۔
2009 میں بھی بچے کی پیدائش کے دوران انیستھیزیا کی مقدار زیادہ دیے جانے پر فاخرہ نامی خاتون کوما میں چلی گئی تھیں۔ انہیں بھی نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں رکھا گیا، جہاں وہ 15 سال بعد 2024 میں دم توڑ گئی تھیں۔
نشتر ہسپتال ملتان کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) راؤ امجد علی خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ محمد اسد کو مارچ 2014 میں نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے حرام مغز میں چوٹ لگنے کے باعث پورا جسم پیرالائزڈ تھا۔
’ہوش تو تھا مگر وہ حرکت نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں 12 سال تک زیرِ علاج رکھ کر طبی سہولیات کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے بھی کئی انتظامات کیے گئے تھے۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ’روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف ماہر ڈاکٹر بلکہ ہسپتال کے اعلی حکام بھی ان کی دیکھ بھال کا جائزہ لیتے رہے اور دستیاب وسائل سے بڑھ کر اسد کا خیال رکھنے کی کوشیں کی گئی۔‘
واقعہ پیش کیسے آیا؟
یہ جنوری 2014 میں منگل کا دن تھا۔ جب 14-15 سالہ اسد اپنے دو دوستوں کو اپنی موٹر سائیکل پر ساتھ لیے شام کے وقت ٹیوشن پڑھنے جارہا تھا۔ جب وہ اپنے گھر رشید آباد سے معصوم شاہ روڈ پر پہنچے تو وہاں سامنے سے آنے والے رکشے سے ٹکر ہو گئی۔
محمد اسد کے بھائی ولید نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’باقی دو دوستوں کو کم لیکن اسد کو زیادہ ظاہری چوٹیں آئیں، لہذا پٹی وغیرہ کرا کے گھر لے آئے، مگر کچھ دن بعد انہیں رات کو دورے پڑنے لگے اور وہ تڑپنے لگے۔‘
ولید کے مطابق: ’ہم اسے ایک نجی ہسپتال لے گئے لیکن انہوں نے کہا کہ اس کے سر میں اندرونی چوٹ لگی ہے اور حرام مغز کے ساتھ گردن کے مہروں پر بھی شدید ضرب لگی ہے، لہذا اسے لاہور لے جائیں، یہاں علاج مشکل ہے۔‘
انہوں نے مزید بتایا: ’ہم نے گاڑی کروائی اور اسے لاہور کے ایک نجی ہسپتال لے گئے، جہاں ماہر بھاری فیسوں والے ڈاکٹروں نے اس کا آپریشن کیا۔ کچھ گھنٹے دن بعد جب اسے ہوش آیا تو پورا جسم کام کرنا چھوڑ چکا تھا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ولید کے بقول: ’ہم نے ڈاکٹر کو جب یہ بتایا تو انہوں نے پھر سے ٹیسٹ کیے۔ اس دوران معلوم ہوا کہ آپریشن کے دوران مہروں کو حرام مغز سے جوڑے رکھنے کے لیے جو دھاتی تاریں ڈالی گئی تھیں۔ وہ کھلنے سے مہرے بھی اپنی جگہ سے ہل گئے اور حرام مغز بھی متاثر ہوگیا۔
’لہذا پورے جسم کا دماغ سے رابطہ ختم ہوگیا اور اس کا جسم پیرالائزڈ ہوگیا۔ ہم نے کافی علاج کروانے کی کوشش کی لیکن فائدہ نہ ہوا۔ پھر ہم اسے ایک ماہ بعد نشتر ہسپتال لے آئے جہاں اسے آئی سی یو میں داخل کیا گیا۔ یہاں ڈاکٹر اپنی صلاحیتوں کے مطابق علاج تو کرتے رہے لیکن اس کی صحت بحال نہ ہوئی۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ 12 سال بھائی کے ہسپتال میں داخل رہنے پر کس طرح یہ وقت گزرا؟ تو ولید نے بتایا: ’ہم تین بھائی اور تین بہنیں تھے۔ اسد مجھ سے چھوٹا تھا۔ ہمارے والد پراپرٹی کا کاروبار کرتے تھے۔ اچھی خوشحال زندگی گزار رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد علاج معالجے میں ہم نے اپنے بھائی کو بچانے کے لیے اتنا پیسہ لگایا کہ سارا کاروبار بھی ٹھپ ہوگیا اور جو جمع پونجی تھی وہ بھی خرچ ہوچکی ہے۔
’روزانہ کھانا اور پھل وغیرہ یا ڈاکٹر جو خوراک بتاتے وہ کھلائی۔ وہاں ایک دو لوگوں کو دیکھ بھال کے لیے رہنا پڑتا تھا۔ رات کو سونے کی بھی جگہ نہیں ہوتی تو ادھر ادھر لیٹ کر رات گزارتے رہے۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہم سب بہن بھائیوں اور میرے والدین کا جسم باہر اور جان اندر آئی سی یو میں پڑی ہو۔‘
نشتر ہسپتال کے ترجمان راؤ نوشاد احمد خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انتظامیہ نے اسد کے اہل خانہ کے ساتھ مسلسل تعاون کیا۔ انہیں خوش رکھنے کے لیے آئی سی یو میں ہی سالگرہ منائی جاتی تھی۔ اتنا طویل عرصہ رہنے کے باعث سٹاف کو بھی ان سے اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی اور محبت سی ہوگئی تھی۔‘
ترجمان ہسپتال کے مطابق: ’ان کی خواہش پر بیڈ کے سامنے ایل سی ڈی بھی لگوائی گئی، وہ ہیڈ فون لگا کر ویڈیوز دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی کوشش کی جاتی تھی کہ ان کے علاج پر بھی زیادہ خرچہ نہ ہو۔‘