محمد اسد کو مارچ 2014 میں نشتر ہسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں داخل کیا گیا تھا۔ ان کے حرام مغز میں چوٹ لگنے کے باعث پورا جسم پیرالائزڈ تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کافی پر ہونے والی تحقیق پیچیدہ ہے کیونکہ کافی میں کیفین کے علاوہ بھی کئی حیاتیاتی طور پر فعال مرکبات موجود ہوتے ہیں۔