پاکستان نے کہا ہے کہ حالیہ پاکستان چین ہیلتھ کیئر کانفرنس کے دوران تقریباً 629.5 ملین ڈالر مالیت کے 22 معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جو ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، دواسازی کی مقامی صنعت کے پھیلاؤ اور برآمدات میں اضافے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہیں۔
یہ معاہدے گذشتہ ہفتے اسلام آباد میں منعقدہ پاکستان-چین فارماسیوٹیکل اینڈ ہیلتھ کیئر بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) انویسٹمنٹ کانفرنس کے دوران طے پائے۔
ان میں ویکسین سازی، ایکٹو فارماسیوٹیکل خام مال (اے پی آئیز)، طبی آلات، کلینیکل ٹرائلز اور دواسازی کے دیگر شعبے شامل ہیں۔
وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے بدھ کو بتایا کہ ’دو روزہ کانفرنس کے دوران 22 کمپنیوں نے 629.5 ملین ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے، جو ملک کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔‘
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ ان معاہدوں میں اے پی آئیز مینوفیکچرنگ کے دو، ویکسین کی تیاری کے آٹھ، کلینیکل ٹرائلز کے دو، انجیکٹیبل ادویات کی تیاری کے دو اور طبی آلات کے آٹھ منصوبے شامل ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اس وقت اپنی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی سطح پر تیار کرتا ہے تاہم ان ادویات کی تیاری کے لیے استعمال ہونے والے تقریباً 95 فیصد خام مال درآمد کیے جاتے ہیں، جسے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے پہلی قومی ویکسین پالیسی بھی تیار کر لی ہے جبکہ اس وقت ملک بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام میں شامل تمام 13 ویکسین درآمد کرتا ہے۔
دوسری جانب سرکاری میڈیا کے مطابق چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کہا کہ اس کانفرنس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 1.7 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کے وعدے سامنے آئے ہیں، جن میں 120 سے زائد مفاہمتی یادداشتیں، مشترکہ منصوبے اور تجارتی معاہدے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگلا مرحلہ ان مفاہمتی یادداشتوں کو باضابطہ تجارتی معاہدوں اور طویل المدتی سرمایہ کاری میں تبدیل کرنا ہے، تاکہ انہیں عملی شکل دیتے ہوئے فیکٹریوں کے قیام، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور پاک-چین صنعتی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔