اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ چین اور پاکستان کے درمیان ایک خاص اور مضبوط سیاسی تعلق موجود ہے، جسے گذشتہ سات دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کی مسلسل حکومتوں اور قیادت کی نسلوں نے پروان چڑھایا ہے۔
اب دونوں ممالک اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ یہ سنگ میل نہ صرف ہماری اس خاص دوستی کو یاد کرنے اور جشن منانے کا بہترین موقع ہے، بلکہ آنے والے برسوں میں مثالی تعاون کی ایک نئی راہ متعین کرنے کا وقت بھی ہے۔
حکومتی سطح کے تعلقات سے ہٹ کر، جسے اپریل 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے دوران ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ (سدا بہار پائیدار تزویراتی تعاون کی شراکت داری) کا درجہ دیا گیا تھا، دونوں عوام کے درمیان ہم آہنگی، خیر سگالی اور یکجہتی کے بندھن بھی اتنے ہی مضبوط اور پائیدار ہیں۔ تو آئیے دیکھتے ہیں کہ اس منفرد عوامی دوستی اور بھائی چارے کی تاریخ اور بنیادی وجوہات کیا ہیں۔
پاکستانی اکثر اس دوستی کو ’ہمالیہ سے بلند، سمندروں سے گہری، شہد سے میٹھی اور فولاد سے زیادہ مضبوط‘ قرار دیتے ہیں جبکہ چین میں ’باتیے‘ (Batie) یعنی فولادی بھائی کی اصطلاح صرف پاکستان کے لیے مخصوص ہے۔
مجھے چین کے طول عرض میں سفر کرنے کا موقع ملا اور بے شمار شہروں اور گاؤں میں مختلف لوگوں سے ملاقات کا موقع بھی حاصل ہوا۔ جب بھی لوگوں کو بتاتا کہ میں پاکستان سے ہوں تو ان کے چہرے کھل اٹھتے اور وہ بے ساختہ کہتے ہیں: ’با تیے‘ یعنی آہنی بھائی۔ یقین جانیے جذبات سے دل بھر آتا اور چین اور پاکستان کی بے مثال دوستی پر فخر محسوس ہوتا۔
شاہراہ قراقرم، جو کہ انجینیئرنگ کا ایک شاہکار ہے، اس دوستی کی ایک طاقتور علامت کے طور پر کھڑی ہے۔
1960 اور 1970 کی دہائیوں میں اس کی تعمیر کے دوران سینکڑوں چینی اور پاکستانی مزدوروں اور انجینیئروں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ تقریباً ہر کلومیٹر پر ایک چینی باشندے کی جان گئی۔ گلگت میں واقع ایک قبرستان ان مشترکہ قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ اس سے قبل، 1964 میں پاکستان کی سرکاری ایئرلائن پی آئی اے کو کسی غیر کمیونسٹ ملک کی پہلی ایئرلائن بننے کا اعزاز حاصل ہوا، جس نے چین کے لیے پروازیں شروع کیں جو ابتدائی باہمی اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے لیے گہری محبت رکھتے ہیں۔ 2014 کے ’پیو سروے‘ (Pew Survey) کے مطابق 78 فیصد پاکستانیوں نے چین کے بارے میں مثبت رائے دی جو کسی بھی ملک کی طرف سے دی گئی بلند ترین ریٹنگ تھی جبکہ چین میں ہونے والے سروے بھی پاکستان کے بارے میں اسی طرح کے مثبت تاثرات ظاہر کرتے ہیں۔
یہ خیر سگالی اور یکجہتی خاص طور پر بحران کے اوقات میں سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ 2015 میں پاکستانی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں صدر شی جن پنگ نے چین کی تاریخ کے نازک لمحات میں پاکستان کی ثابت قدم حمایت کو یاد کیا، بشمول 2008 کے زلزلے کے بعد کی امداد، جب پاکستان نے اپنے خیموں کا پورا ذخیرہ چین روانہ کر دیا تھا۔
اسی طرح پاکستان کے لیے چین کی فراخدلانہ حمایت بھی مستقل رہی ہے۔ کرونا وبا کے دوران، چین نے طبی سامان کے 60 سے زائد جہاز فراہم کیے اور بعد ازاں 160 ملین سے زائد ویکسین کی خوراکیں دیں، جو پاکستان کی حفاظتی مہم کا بنیادی ستون بنیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران چینی حکومت اور عوام نے ملک گیر امدادی کوششیں شروع کیں، جہاں ہمدردی کے ان گنت انفرادی واقعات نے عوامی رشتوں کی گہرائی کو ظاہر کیا۔
چین دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے، جس کی چار ہزار سال سے زیادہ کی مسلسل تاریخ ہے۔ چینی فلاسفروں اور مفکرین نے نظم و نسق، قیادت اور سماجی ہم آہنگی کے نظریات پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
رسم و رواج اور روایات میں فرق کے باوجود چینی اور پاکستانی معاشرے مشترکہ اقدار جیسے کہ بزرگوں کا احترام، رشتوں کا پاس، ایمانداری، سخاوت اور سخت محنت کے حامل ہیں۔ کنفیوشس تعلیمات، خاص طور پر اخلاقی اصول جیسے ’لی‘ (شائستگی)، ’رین‘ (بنی نوع انسان سے محبت)، ’یی‘ (راستی)، ’زی‘ (حکمت) اور ’شن‘ (قابل اعتماد) چینی معاشرے کی بنیاد ہیں اور پاکستانی اقدار کے ساتھ بھی گہری ہم آہنگی رکھتے ہیں۔
تاریخی طور پر چین اور پاکستان، دونوں قدیم تہذیبوں کے گہوارے ہیں، شاہراہ ریشم کے ذریعے قریبی تبادلوں سے لطف اندوز ہوتے رہے ہیں۔ دوسری صدی قبل مسیح سے اشیا، نظریات اور عقائد خطوں کے پار سفر کرتے رہے۔
چینی راہبوں ’فا ژیان‘ اور ’ژوان زانگ‘ نے ٹیکسلا اور سوات کا دورہ کیا اور وہ علم اور دوستی لے کر واپس لوٹے جو آج بھی عصری تعلقات کو روشن کر رہی ہے۔ جیسا کہ چینی وزیراعظم چو این لائی نے ایک بار کہا تھا کہ چین اور پاکستان کے عوام تاریخ کے آغاز سے ہی اچھے پڑوسی اور دوست رہے ہیں۔
رسمی ثقافتی تعاون کا آغاز 1965 میں ثقافتی تعاون کے معاہدے پر دستخط کے ساتھ ہوا، جس نے آرٹ، ادب، کھیل، تعلیم، آثار قدیمہ اور زبانوں کے تبادلے میں سہولت فراہم کی۔ ثقافتی وفود، طلبہ اور سکالرز باقاعدگی سے ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرتے رہے ہیں۔
شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کے لیے پاکستان آنے والے ہزاروں چینی کارکنوں نے مقامی برادریوں کے ساتھ روزمرہ کے میل جول کے ذریعے خیر سگالی کو مزید تقویت دی۔ آج چین میں مقیم 20 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد دونوں ملکوں کے درمیان ایک اہم پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ادارتی میکانزم نے ان تعلقات کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد میں 2017 میں قائم ہونے والے چینی ثقافتی مرکز نے نمائشوں، فلموں، لیکچرز اور تربیتی پروگراموں کے ذریعے ثقافتی تبادلوں کو فروغ دیا۔ دونوں ممالک میں فرینڈشپ ایسوسی ایشنز کے ساتھ ساتھ اسلام آباد، لاہور، پشاور اور دیگر شہروں میں تحقیقی ادارے اور ’چائنہ سٹڈی سینٹرز‘ باہمی افہام و تفہیم کو گہرا کرنے کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
زبان کا فروغ ثقافتی تعاون کا سنگ بنیاد رہا ہے۔ کئی چینی سکالرز نے اردو کے مطالعے میں نمایاں خدمات انجام دیں، جن میں فیض احمد فیض کی شاعری کا چینی زبان میں ترجمہ بھی شامل ہے۔ آج چین بھر میں 20 سے زائد پاکستان سٹڈیز اور اردو لینگویج سینٹرز کام کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ چینی زبان اور ثقافت کی تعلیم دے رہے ہیں۔ مینڈرن (چینی زبان) سیکھنے میں دلچسپی تیزی سے بڑھی ہے، خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی توسیع کے ساتھ، جس نے عوامی رابطوں اور روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ کیا ہے۔
میڈیا کے تعاون نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ خبروں کے تبادلے کے معاہدے 1964 سے رائج ہیں، جبکہ مشترکہ ریڈیو اقدامات، پاکستان میں چینی زبان کی نیوز سروسز اور ممتاز چینی میڈیا اداروں کی موجودگی نے باہمی فہم کو بہتر بنایا ہے۔
ٹیلی ویژن ڈراموں، فلموں، موسیقی اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں تعاون نے بھی دونوں معاشروں کو قریب لایا ہے۔ 80 کی دہائی میں پی ٹی وی کے ڈرامے ’پیمانِ وفا‘ اور ’رشتے اور راستے‘ نے دونوں عوام کی دوستی کو اجاگر کیا۔
سی پیک پاک چین دوستی کی سب سے اہم عصری علامت ہے۔ گوادر پورٹ، توانائی کے پلانٹس، شاہراہیں اور شہری ٹرانسپورٹ سسٹم جیسے اہم منصوبوں نے پاکستان کے معاشی منظر نامے کو بدل دیا ہے اور ساتھ ہی ثقافتی وابستگی کو بھی گہرا کیا ہے۔
دیگر پائیدار علامتوں میں اسلام آباد میں چو این لائی ایونیو، ووہان میں پاک چین دوستی مرکز اور بیجنگ کے ورلڈ پارک میں شاہی قلعہ لاہور کا ایک خوبصورت نمونہ شامل ہیں۔
مختصراً یہ کہ جہاں سٹریٹجک تعاون پاک چین تعلقات کی بنیادی پہچان ہے، وہیں عوامی سطح پر ہونے والے میل جول نے دونوں قوموں کے درمیان ایک پائیدار اعتماد بھی پیدا کیا۔ یہ رشتہ جو ایک تاریخی حقیقت اور دونوں قوموں کا شعوری انتخاب ہے، ایک ایسے فولادی بھائی چارے میں بدل چکا ہے جو دونوں ممالک کے لیے فخر کا باعث ہے۔
جیسے جیسے پاکستان اور چین مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں، یہ دوستی، جو قربانیوں، مشترکہ اقدار اور باہمی احترام پر مبنی ہے، مزید مضبوط ہوتی رہے گی اور آنے والے برسوں میں مزید بلندیوں تک پہنچے گی۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
مصنف چین میں پاکستان کے سابق سفیر رہ چکے ہیں۔