امکان ہے کہ اگلا عالمی نظام کسی ایک غالب طاقت سے کم اور بڑی طاقتوں، درمیانی طاقتوں اور علاقائی اداکاروں کے درمیان ناخوشگوار سمجھوتوں سے زیادہ تشکیل پائے گا۔
اب امریکی ڈالر کی قدر اس کے اداروں سے نہیں بلکہ ’فائٹر جیٹ کی ضمانت‘ سے طے ہو رہی ہے۔ کیا پاکستان کو بیرونی قرض دہندگان کی خوشنودی چھوڑ کر ایندھن کی راشن بندی اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہو گا؟