کیا ستم کہ بارود کا ایندھن بنتے ہم لوگ جنگ کے شعلوں میں گھر چکے ہیں۔ گرجا گھروں کی گھنٹیوں میں end of times یعنی زمانے کے اختتام کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ مقدس آسمانی صحیفوں میں آخری وقت کی تعبیریں ڈھونڈھتے اہل جُبہ کی زبانوں پر جاری ورد مزید تیز ہو گیا ہے۔
آسمان خون کی لالی سے چمک رہا ہے جبکہ فضا بارود کی بو سے مہک رہی ہے۔ خسارے میں رہنے والا انسان یہ سب اپنے فائدے میں گن رہا ہے یہ جانے بغیر کہ وقت کی رفتار سانسوں کی گنتی ختم کرتی چلی جا رہی ہے۔
عین اُس وقت جب سفید محل کے سنہرے طاقتور حکمران نے مقدس کتاب کے حصار میں مذہبی قوت کا مظاہرہ کیا بالکل اُسی وقت سینکڑوں معصوم روحیں سفید لباس پہنے ایک سکول سے پرواز کر رہی تھیں۔ یہ ’صلیبی جنگ‘ نہیں مگر اس کا تاثر دے کر مذہبی جنگ کی راہ ضرور ہموار کی گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ ایران پر کیے جانے والے حملوں سے حاصل اور وصول کیا؟ جنگ کے مقاصد اور محاصل کیا ہیں؟ امریکہ اسرائیل کی جنگ میں کیوں اور کیسے کود گیا؟ اور اب فتح کس کی اور ہارے گا کون؟
پرانے زمانے کی جنگوں میں فوجیں آمنے سامنے آتیں، رمز اور اشعار پڑھے جاتے، اپنی طاقت اور زور بازو کا اظہار کیا جاتا میدان میں لڑی جانے والی جنگ میدان میں ختم ہوتی، فتوحات کا سلسلہ ہوتا، اپنی حکومتیں قائم ہوتیں جس کا بڑا مقصد نظریاتی اور معاشی مفادات کا حصول ہوتا۔ نئے دور کی یہ جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف نہیں۔ دُنیا کا بڑا ہاتھی طاقت سے بدمست ہو کر اپنی سونڈ سے سب تہس نہس کرنے نکلے تو جُثے میں قدرے کمزور مہاوت اپنی مہارت سے قابو پا سکتا ہے۔
اس جنگ کے بھی چند مقاصد ہیں یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف مذہبی رنگ دیا جا رہا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کئی مقاصد کا حصول بھی مطمحِ نگاہ ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کیا عجب اتفاق ہے کہ اس جنگ سے قبل دنیا ایپسٹین کی فائلوں کی کھوج میں تھی، جس دن سے ایران پر امریکہ بہادر نے حملہ کیا، ایسپسٹین اور اُس کی فائلیں جنگ کے ملبے تلے دب گئیں۔ کوئی بھولے سے بھی اُن فائلوں اور وڈیوز کا ذکر نہیں کر رہا۔ اب ظاہر ہے یہ امکان تو نہیں کہ محض ان فائلوں کے قضیے کی بنیاد پر اتنی بڑی تقریباً عالمی جنگ چھیڑ دی جائے۔ بہر حال کئی مقاصد میں سے کوئی ایک مقصد یہ ہو سکتا ہے۔ اس جنگ سے قبل نتن یاہو کا سات مرتبہ واشنگٹن کا دورہ صدر ٹرمپ سے کسی خاص راز و نیاز کے لیے ہی تھا بظاہر اس جنگ کی منصوبہ بندی انہیں ملاقاتوں میں طے پائی۔
مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی بھی تھا اور توانائی کے وسائل پر قبضہ بھی۔ مقصد اسرائیل کو ایران کی مسلح طاقت سے بےنیاز کرنا بھی تھا اور خطے میں اثر رسوخ کا حصول بھی۔ مقصد روس اور چین کو آبنائے ہرمز سے تیل کی فراہمی کو منقطع کرنا بھی تھا اور ایران اور خلیجی ملکوں کو لڑانا تھا، جو بظاہر پورا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
ایران پر حملے کا پہلا مقصد یعنی حملے کی صورت ایران ریت کی دیوار ثابت ہو گا اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف سڑکوں پر لے آئے گی قطعاً پورا نہیں ہوا، بلکہ امریکی انٹیلی جنیس ادارے صدر ٹرمپ کو بتا رہے ہیں کہ یہ امکانات مستقبل میں بھی کم ہیں۔
دوسرا مقصد ایران کی فوجی طاقت کو کمزور کرنا تھا تاحال یہ مقصد بھی حاصل نہیں ہوا البتہ ایران نے مختلف مسلمان ملکوں کے امریکی اڈوں پر کامیابی سے حملہ کیا ہے، اگرچہ ساتھ ہی خلیجی ملک بھی اس کے نشانے پر آئے ہیں۔ تیسرا مقصد ایران کی معیشت کو ہدف بنانا تھا جو کہ پہلے سے ہی کمزور تھی مگر اب خلیجی ممالک اور امریکہ سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر آبنائے ہرمز کی بندش سے اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
آخری اطلاعات آنے تک امریکہ ایران میں تیسرے بڑے بحری بیڑے اور ایران کی نیوکلیئر سائٹس کے لیے فوجی دستوں کے بھیجنے کی بات کر رہا ہے جو خطے کو ایک نئے بحران سے دو چار کر سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ عراق کی فلم دوبارہ سکرین پر چلا دی گئی ہے مگر اس بار عراق کی جگہ ایران ہے۔
یہ جنگ نہ جانے کب تک جاری رہے گی، کتنے انسان لقمہ اجل بنیں گے، نہ جانے کون کون اس جنگ کا ایندھن بنے گا۔ ہم جیسے تیسری دنیا کے ملک پہلے ہی شعلوں میں گھرے ہیں نہ جانے ہمارے کمزور آشیانوں کا کیا ہو گا، ہمارے نیلے آسمانوں کا کیا ہو گا، سمندر میں کھلے بادبانوں کا کیا ہو گا۔۔۔
بےوقار آزادی لیے ہم ستم ظریف کس طرف دیکھیں گے، کس کے متلاشی ہوں گے۔ یہ جنگ جتنی جلدی تھم جائے اتنا ہی بہتر ہے، کیونکہ اس کا نتیجہ کسی ایک کی نہیں بلکہ سب کی ہار کی صورت ہے جو سامنے دکھائی دے رہی ہے۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔