عالمی طاقت کا نیا رخ اور ڈالر کی ’فائٹر جیٹ ضمانت‘

اب امریکی ڈالر کی قدر اس کے اداروں سے نہیں بلکہ ’فائٹر جیٹ کی ضمانت‘ سے طے ہو رہی ہے۔ کیا پاکستان کو بیرونی قرض دہندگان کی خوشنودی چھوڑ کر ایندھن کی راشن بندی اور اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنا ہو گا؟

11 جنوری، 2022 کو کراچی میں لی گئی اس تصویر میں ایک کرنسی ڈیلر اپنی دکان پر امریکی ڈالرز گن رہا ہے (اے ایف پی)

75 سال تک ہم خود کو یہ یقین دلاتے رہے کہ بین الاقوامی قانون، آزاد تجارت اور عالمی اداروں نے قوموں کے طرزِ عمل کو مہذب بنا دیا ہے۔

لیکن طاقت کی سیاست کی واپسی، علاقائی قبضے اور معاشی جنگ کو دیکھ کر یہ واضح ہے کہ جدیدیت کی اس باریک تہہ کے نیچے عالمی معاملات اب بھی وہی ہیں، جسے ٹامس ہابس نے ’فطرت کی حالت‘ کہا تھا، یعنی ایک ایسی زندگی جو ’ناگوار، وحشیانہ اور مختصر‘ ہے۔

معاشی محاذ پر، بہت سے لوگ ’کنگ ڈالر‘ کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔ پرانی دنیا میں امریکی ڈالر کا غلبہ بڑی حد تک امریکی اداروں کی طاقت، جیسے میرٹ کریسی اور چیک اینڈ بیلنس کا مرہونِ منت تھا۔

ابھرتی ہوئی نئی دنیا میں امریکی ڈالر کے تخت کا دارومدار اس کے مرکزی بینکرز کی قابلیت یا اس کی مالیاتی پالیسی کی پختگی پر نہیں ہو گا۔ یہ مکمل طور پر امریکہ کی بےمثال فوجی طاقت پر منحصر ہو گا۔

ایک لحاظ سے اب امریکی ڈالر کو ایک ایسی کرنسی تصور کیا جا سکتا ہے جس کے پیچھے ’فائٹر جیٹ کی ضمانت‘ موجود ہے۔

اب ہم اسے اس لیے قبول نہیں کریں گے کہ ہمیں اس کی قدر پر یقین ہے، بلکہ اس لیے کہ اتنی زبردست طاقت کی پشت پناہی والا کوئی قابلِ بھروسہ متبادل موجود نہیں ہے۔

یہ فرق محض علمی نہیں بلکہ یہ ہمارے موجودہ دور کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ ایک مختصر عرصے کے لیے، ہم جیسے ترقی پذیر ملک آزاد منڈیوں اور ’غیر مرئی ہاتھ (invisible hand) ‘کے افسانوں پر یقین کرتے رہے۔

ہمیں بتایا گیا کہ ہر دارالحکومت میں میکڈونلڈز کا ہونا جنگ کے خلاف ایک ڈھال ہے۔ یہ وہ نسخہ تھا جو ہمیں بیچا گیا، جسے ہمارے پالیسی سازوں نے اپنا لیا اور ہمارے اداروں میں دہرایا گیا۔ یہ اس وقت تک ٹھیک رہا جب تک مغرب دنیا کی مصنوعات تیار کرنے والا واحد مرکز تھا۔ لیکن جب سے چین اس میدان میں اترا ہے، طاقت کی اصل فطرت بےنقاب ہو گئی ہے۔

وہی ماہرینِ معاشیات جو ریگولیشن ختم کرنے کی تبلیغ کرتے تھے، اب صنعتی پالیسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آزاد تجارت کے علمبردار اب ٹیرف لگا رہے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مغرب کے معاشی پالیسی سازوں کا بیانیہ کبھی غیر جانبدار نہیں تھا، بلکہ محض مخصوص مفادات پر پڑا ہوا پردہ تھا۔

پاکستان اس بڑی تبدیلی کی لہروں میں اپنا راستہ کیسے بنائے؟ فی الحال تو ملک خطرناک حد تک کنارے کے قریب ہے۔ توانائی کے حالیہ جھٹکے نے اس ’استحکام‘ کو بے نقاب کر دیا ہے جو بڑی محنت سے ایک سراب کی طرح سجایا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے پالیسی سازوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اس بحران کو قیمتوں کے نظام کے ذریعے سنبھال رہے ہیں، یعنی پیٹرول کی قیمتیں بڑھاؤ اور طلب کے گراف کو اپنا کام کرنے دو۔

تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ایندھن ایک ایسی ضرورت ہے جس کی طلب لچکدار نہیں ہے۔ روٹی اور پانی کی طرح، قیمت اور مقدار کا الٹا تعلق یہاں کام نہیں کرتا، خاص طور پر جب پاکستان میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہو۔ لوگوں کے پاس قلیل اور درمیانی مدت میں ایندھن خریدنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔

خام تیل کی قیمت میں فی بیرل 10 ڈالر کا اضافہ ہمارے سالانہ درآمدی بل میں دو ارب ڈالر کا اضافہ کر دیتا ہے۔ تیل کی قیمت بار بار 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے سے پاکستان کی مالیات میں ایک بڑا شگاف پڑ گیا ہے۔ اس کا حل جو شاید کچھ پالیسی سازوں کو ناگوار گزرے، وہ ’راشن بندی‘ ہے۔

معیشت کو اس گراوٹ سے بچانے کا یہی واحد راستہ ہے جو بصورتِ دیگر شرحِ مبادلہ کو تباہ، صنعت کو اپاہج اور کھاد کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ذریعے غذائی افراطِ زر کا طوفان کھڑا کر دے گا۔

بنگلہ دیش، آسٹریلیا اور کئی دیگر ممالک کی جانب سے ایندھن کی راشننگ نافذ کیے جانے کے باوجود، پاکستان کے پالیسی ساز بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی ناراضگی سے بچنے کے لیے اس کے سخت خلاف ہیں، جبکہ ستم ظریفی یہ ہے کہ وہی ادارے اب حل تلاش کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال پر ماہرین کی گفتگو کے شور میں کچھ اہم حقائق فراموش کر دیے گئے ہیں۔

پاکستان میں کیلوریز کے استعمال کی شرح گذشتہ چھ سالوں میں کم ترین سطح پر ہے، جبکہ غربت بڑھ رہی ہے اور بےروزگاری ایک دائمی مرض بن چکی ہے۔

اس مایوس کن پس منظر میں، بہترین پالیسی یہ ہو گی کہ وفاقی سماجی تحفظ کے نیٹ ورک کو بہتر بنایا جائے، یعنی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو افراطِ زر کے مطابق ڈھالا جائے اور مستحقین کو فیول کارڈز کے ذریعے ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائے، تاکہ وہ لوگ جو کام کے لیے سفر کرتے ہیں، ایسا کر سکیں۔

تو پھر امید کہاں ہے؟ شاید یہ امید پالیسی سازی کی بےجان راہداریوں میں نہیں بلکہ پاکستان کے نوجوانوں کی خام توانائی میں چھپی ہے۔ وہ گذشتہ نسل کے مقابلے میں زیادہ باصلاحیت، ذہین اور جدید سوچ رکھنے والے ہیں۔

ان کے پاس مواقع کم ہیں: مغرب کے دروازے بند ہو رہے ہیں، سی ایس ایس ایک لاٹری بن چکا ہے اور اے آئی فری لانس مارکیٹ کو نگل رہی ہے۔ ان کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ چھوٹے پیمانے کے کاروبار بنانا ہے جو ایک نیا معاشی ڈھانچہ تشکیل دے سکیں۔

ہم ایک ایسی دنیا میں داخل ہو رہے ہیں جہاں پرانے قوانین ترک کیے جا چکے ہیں اور نئے قوانین طاقتور لکھ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اس ’نوآبادیاتی زاويہ نگاہ‘ کو اپنے ذہنوں سے نکالنا ہو گا جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم اپنے معاملات چلانے کے اہل نہیں ہیں۔

ہمیں اس تصور کو مسترد کرنا ہو گا کہ صرف وہی پالیسی جائز ہے جسے دور بیٹھے قرض دہندگان کی منظوری حاصل ہو۔ ہماری معیشت کمزور ہو سکتی ہے، لیکن ہمارے لوگ نہیں۔

(بشکریہ عرب نیوز)

نوٹ یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر