مئی میں کوئٹہ میں ایک مسافر ٹرین کو نشانہ بنانے والا کار خودکش دھماکہ 2026 میں پاکستان کا جان لیوا ترین دہشت گردانہ حملہ تھا-
اس حملے میں کم از کم 30 افراد کی جان گئی اور 50 سے زائد زخمی ہوئے- بلوچ علیحدگی پسند گروپ، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا بیس کے مطابق، گذشتہ تین برسوں میں بلوچ عسکریت پسندوں نے بلوچستان بھر میں ٹرینوں، ریلوے کے بنیادی ڈھانچے اور ٹرین کلیئرنس یونٹس پر کم از کم 50 دہشت گردانہ حملے کیے ہیں۔
یہ حملہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے عین دوران ہوا جہاں وہ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ کے فریم ورک کے تحت نئے منصوبوں پر تبادلہ خیال کرنے گئے تھے۔
بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی بڑھتی ہوئی آپریشنل صلاحیتوں، جنگی حکمتِ عملی میں جدت، تکنیکی تبدیلی اور دور تک مار کرنے کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ، یہ ٹرین بم دھماکہ خطے کی بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورت حال اور اس شورش زدہ صوبے میں علیحدگی پسند تشدد میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیز کے اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں بلوچستان میں 254 دہشت گردانہ حملے ہوئے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد زیادہ تھے ۔
اس کے ساتھ ہی، بلوچستان کا یہ تنازع امریکہ، ایران اور اسرائیل کی جنگ کے اثرات بھی سمیٹ رہا ہے۔
بلوچستان دنیا کے غیر مستحکم ترین سرحدی علاقوں میں سے ایک میں واقع ہے، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں۔
سرحدوں پر کمزور کنٹرول کے باعث، بلوچ عسکریت پسند گروپوں کو نقل و حرکت کرنے، نئی بھرتیوں، پراپیگنڈا پھیلانے، فنڈز جمع کرنے اور آپس میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی کھلی آزادی حاصل ہے۔
بلوچستان میں علیحدگی پسند تشدد میں اس شدت، پھیلاؤ اور تبدیلی کے مرکز میں چار اہم عوامل کارفرما ہیں۔
اول، بلوچستان کے اہم معدنی ذخائر پر امریکہ اور چین کے درمیان ابھرتے ہوئے مقابلے نے علیحدگی پسندوں کی بھرپور توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
ارضیاتی جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ متناوب جدول میں موجود 18 نایاب زمینی معدنیات میں سے 12 بلوچستان میں پائی جاتی ہیں، جو کہ سیمی کنڈکٹرز، فوجی سازوسامان، الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں، قابلِ تجدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے، الیکٹرانکس اور طبی آلات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔
ریکوڈک منصوبے کو کینیڈین کنسورشیم بیرک گولڈ چلا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ریکوڈک میں تانبے اور سونے کے دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ ذخائر موجود ہیں۔
چوں کہ امریکہ نے نایاب معدنیات کے اپنے ذخائر میں تنوع لانے اور چین پر اپنا انحصار کم کرنے کے لیے ریکوڈک میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
اس لیے ضلع چاغی میں علیحدگی پسندوں کے حملوں میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے مثال کے طور پر، اپریل 2026 میں بلوچ لبریشن فرنٹ نے تمام غیر ملکی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو، قطع نظر اس کے کہ ان کا تعلق کس ملک سے ہے، بالخصوص مائننگ کے منصوبوں میں شامل کمپنیوں کو حملوں کی دھمکی دی۔
اس کے بعد 22 اپریل کو بی ایل ایف کے عسکریت پسندوں نے چاغی میں سرکاری کمپنی نیشنل ریسورسز لمیٹڈ کے تانبے اور سونے کی تلاش کے مقام کو نشانہ بناتے ہوئے نو کارکنوں کو قتل اور ایک غیر ملکی انجینئر کو اغوا کر لیا۔
دوم، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے پھیلاؤ اور بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی جنگی حکمتِ عملی میں جدت نے بھی بلوچستان میں علیحدگی پسند تشدد کی شدت اور پھیلاؤ میں برابر کا کردار ادا کیا ہے۔
امریکہ نے افغانستان میں جو ہتھیار چھوڑے تھے، جیسے کہ تھرمل سکوپس سے لیس کاربائن اور اسالٹ رائفلیں، وہ بلیک مارکیٹ کے ذریعے مقامی عسکریت پسند اور باغی نیٹ ورکس کے ہاتھ لگ چکے ہیں۔
اسی طرح، حملوں اور جاسوسی دونوں مقاصد کے لیے تجارتی طور پر دستیاب دوہرے استعمال کے کواڈ کاپٹرز (ڈرونز) کے پھیلاؤ نے بلوچ علیحدگی پسندوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مارچ 2026 میں بی ایل اے نے باضابطہ طور پر اپنے ڈرون یونٹ ’قاضی ایرو ہائیو رینجرز‘ کے قیام کا اعلان کیا۔
ڈرونز کو ہتھیاروں سے لیس کرنے، انہیں جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کی صلاحیت اور امریکی ہتھیاروں کی دستیابی نے بلوچ علیحدگی پسندوں کی درستی اور جان لینے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے
سوم ، بلوچ شورش میں خواتین کے بدلتے ہوئے کردار نے صنف کی تفریق سے بالاتر ہو کر نئی بھرتیوں کی حوصلہ افزائی کرنے میں ایک اہم علامتی اور سٹریٹیجک کردار ادا کیا ہے۔
اس کے ساتھ ہی بلوچ تنازع کا ایک نرم مگر جان لیوا رخ بھی پیش کیا ہے۔ خواتین کی شمولیت بلوچ علیحدگی پسندوں کے لیے فورس ملٹی پلائر ثابت ہو رہی ہے جو مختلف مقاصد پورے کرتی ہے۔
ایک طرف، یہ ظاہر کرتا ہے کہ شورش بلوچ معاشرے کے مختلف طبقات میں پھیل چکی ہے ۔
دوسری طرف، یہ اس نسلی-علیحدگی پسند شورش کے مساوات پسندانہ تشخص کو ایک جدید، تعلیم یافتہ اور صنفی شمولیت پر مبنی تحریک کے طور پر فروغ دیتا ہے۔
تضاد یہ ہے کہ جنگی کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت جہاں دوسری خواتین کو شورش میں شامل ہونے کی ترغیب دیتی ہے، وہاں ایک روایتی بلوچ مردانہ معاشرے میں یہ مردوں کے لیے شرم کا باعث بنتی ہے جس کی وجہ سے وہ اور بھی بڑی تعداد میں بھرتی ہوتے ہیں۔
بلوچ علیحدگی پسندوں کے پروپیگنڈے میں بلوچ خواتین خودکش بمباروں کو قوم پرست مزاحمت کے نشان اور رول ماڈل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
چہارم ، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے تحفظات اور شکایات کو مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے بلوچ علیحدگی پسند گروپوں کی بڑھتی ہوئی سٹریٹجک صلاحیتیں بھی بڑھتے ہوئے تشدد کی ایک وجہ ہیں۔
وہ اپنے ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے پروپیگنڈا مواد کی وسیع اقسام تیار کرتے ہیں، جس میں انفوگرافکس، آن لائن بلاگز، میگزین، دستاویزی ویڈیوز ، شاعری اور گانے شامل ہیں۔
سوشل میڈیا نے انہیں غیر مرکزی انداز میں تیز رفتاری کے ساتھ معلومات شیئر کرنے کی اجازت دی ہے-
مختصر یہ کہ، بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے ’بلوچ مظلومیت‘ کے بیانیے کو کامیابی سے تیار کرنے اور اسے پھیلانے کی صلاحیت نے انہیں بھرتیاں کرنے، عوامی توجہ حاصل کرنے اور فنڈز اکٹھے کرنے میں مدد دی ہے۔
بلاشبہ، بلوچ شورش اب نسلی تشدد کے زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے، پاکستانی ریاست کو انسدادِ شورش کا ایک جامع فریم ورک تیار کرنا ہوگا جو نہ صرف عسکری اور غیر عسکری اقدامات میں توازن پیدا کرے۔
بلکہ گورننس کی کمی، سرحدوں کے بہتر انتظام اور ایک ایسے جامع سیاسی عمل پر بھی توجہ مرکوز کرے جس میں بلوچ نوجوانوں کو شامل کیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے تشدد کے اس بہاؤ کو روکا جا سکے۔
مصنف ایس راجاراتنام سکول آف انٹرنیشنل سٹڈیز، سنگاپور میں سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
