خلیجی اے آئی معیشت پاکستان کا انتظار نہیں کرے گی

پاکستان پیداوار، یعنی سافٹ ویئر اور خدمات جو وہ بیرونِ ملک فروخت کرتا ہے، کے لحاظ سے دنیا میں 75ویں نمبر پر ہے، لیکن ان بنیادوں کے لحاظ سے، جو جدت پیدا کرتی ہیں مثلاً تحقیق، انسانی سرمایہ اور ادارے، 124ویں نمبر پر ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیرِ مملکت برائے مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور ریموٹ ورک عمر العلماء (بائیں) اور کویت نیوز کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ بوفطین 16 نومبر 2025 کو کویت سٹی کے جابر الاحمد ثقافتی مرکز میں منعقدہ ’بریکنگ بیریئرز 3: اے آئی بمقابلہ ای آئی – کاروبار کا نجات دہندہ‘ کانفرنس کے دوران گفتگو میں حصہ لے رہے ہیں (یاسر الزیات / اے ایف پی)

اس سال کے آغاز میں پاکستان نے ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا جسے حاصل کرنے کی کوشش وہ ایک دہائی سے کر رہا تھا: پاکستانی فری لانسرز نے ریکارڈ 1.76 ارب ڈالر کمائے، جو ایک ہی سال میں 78 فیصد کا اضافہ تھا اور نصف دہائی پہلے کی آمدن سے چار گنا سے بھی زیادہ۔

ملک کے اندر اس کامیابی کو اس بات کے ثبوت کے طور پر منایا گیا کہ ڈیجیٹل معیشت بالآخر بالغ ہو چکی ہے۔ مگر دبئی میں بیٹھ کر میں دیکھ رہی ہوں کہ یہ خطہ اپنے ڈیجیٹل مستقبل کو حقیقت میں کس طرح بدل رہا ہے، میں ان اعداد و شمار کو ایک انتباہ کے طور پر دیکھتی ہوں۔

اربوں ڈالر کی یہ رقم حقیقت ہے، اور اس کے پیچھے موجود صلاحیت بھی حقیقی ہے۔ لیکن اگر ذرا غور سے دیکھا جائے تو اس کام کا بڑا حصہ دراصل کیا ہے؟ یہ دوسروں کی دی ہوئی ہدایات پر عمل درآمد ہے: ایسا انٹرفیس بنانا جس کا تصور کسی اور کمپنی نے کیا ہو، کسی اور پلیٹ فارم کے لیے ڈیٹا سیٹ کو صاف کرنا یا ایسی کوڈنگ کرنا جس کی تفصیلات بیرونِ ملک تیار کی گئی ہوں۔

یہ کام ویلیو چین کے اس حصے میں آتا ہے جو نسبتاً کم قدر کا حامل ہے اور یہی ڈیجیٹل کام کی وہ سطح ہے جسے مصنوعی ذہانت سب سے پہلے خودکار بنانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں پاکستان اپنی سب سے بڑی کمزوری کو اپنی سب سے بڑی طاقت سمجھ کر جشن منا رہا ہے۔

پاکستان کی اپنی پوزیشن بھی یہی حقیقت واضح کرتی ہے۔ گلوبل انوویشن انڈیکس میں ملک مسلسل تین برس سے تنزلی کا شکار ہے۔ 2022 میں 87 ویں نمبر سے گر کر 2025 میں 139 معیشتوں کے درمیان 99 ویں نمبر پر پہنچ گیا۔ اس زوال کی بنیادی وجہ وہ چیزیں ہیں جو پاکستان تعمیر نہیں کر رہا۔

ملک پیداوار، یعنی سافٹ ویئر اور خدمات جو وہ بیرونِ ملک فروخت کرتا ہے، کے لحاظ سے دنیا میں 75ویں نمبر پر ہے، لیکن ان بنیادوں کے لحاظ سے، جو جدت پیدا کرتی ہیں مثلاً تحقیق، انسانی سرمایہ اور ادارے، 124ویں نمبر پر ہے۔

تحقیق پر ہونے والے اخراجات جی ڈی پی کے 0.2 فیصد سے بھی کم ہیں۔ ایک ملک دنیا کو علمی خدمات تو فروخت کر سکتا ہے، مگر ساتھ ہی اس نظام کو بھی نظرانداز کر سکتا ہے جو اسے اپنی علم پر مبنی تخلیقات پیدا کرنے کے قابل بنائے۔ پاکستان بالکل یہی کر رہا ہے اور یہ خلا مسلسل بڑھ رہا ہے۔

اس دوران وہ مارکیٹ، جس کا ہدف پاکستان کو بنانا چاہیے، بنیادی طور پر نئے سرے سے تشکیل دی جا رہی ہے۔ سعودی عرب کا HUMAIN منصوبہ، جو 2025 میں پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے تحت 100 ارب ڈالر کے مینڈیٹ کے ساتھ شروع کیا گیا، ڈیٹا سینٹرز، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور خودمختار اے آئی ماڈلز کو ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر یکجا کر رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات ابوظبی میں پانچ گیگاواٹ صلاحیت کے حامل اے آئی کیمپس کی بنیاد رکھ رہا ہے، جو امریکہ سے باہر اپنی نوعیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہوگا، جبکہ اس کے Falcon اور Jais ماڈلز عربی زبان کی مصنوعی ذہانت کی سرحدوں کو مزید وسیع کر رہے ہیں۔

قطر نے Qai متعارف کروایا ہے، کویت کے خودمختار فنڈ نے بین الاقوامی اے آئی انفراسٹرکچر پارٹنرشپ میں شمولیت اختیار کی ہے جبکہ بحرین اور عمان بھی اپنی قومی حکمتِ عملیاں جاری کر چکے ہیں۔

PwC کے مطابق 2030 تک مصنوعی ذہانت مشرقِ وسطیٰ کی معیشت میں 320 ارب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کر سکتی ہے جبکہ آئندہ پانچ برس میں خطے کی ڈیٹا سینٹر صلاحیت تین گنا ہونے کی توقع ہے۔

اس صورت حال کو اسلام آباد کی سوچ کو بدل دینی چاہیے، کیونکہ خلیج کی ضرورتوں کی نوعیت خاموشی سے تبدیل ہو چکی ہے۔ ایک گیگاواٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کے لیے ہزاروں مزدوروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔

اس کے لیے چند سو انتہائی ماہر انجینیئر درکار ہوتے ہیں جو ماڈلز کو تربیت دے سکیں، نیٹ ورکس کو محفوظ بنا سکیں، کلاؤڈ ماحول چلا سکیں اور خام صلاحیت کو ایک قابلِ فروخت مصنوعات میں بدل سکیں۔

خلیجی ممالک کے پاس سرمایہ بھی وافر ہے اور توانائی بھی، لیکن جس چیز میں وہ اتنی ہی تیزی سے اضافہ نہیں کر سکتے وہ باصلاحیت افرادی قوت کی مقدار ہے۔ ایک ہی دہائی میں خطے کی سب سے بڑی رکاوٹ سرمایہ نہیں بلکہ ذہنی صلاحیت بنتی جا رہی ہے۔

یہ تبدیلی مصنوعی ذہانت کے دور کے سب سے قدرتی معاشی اشتراکات میں سے ایک موقع پیدا کرتی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر تقریباً کسی نے بھی اسے منظم شکل نہیں دی۔ خلیجی ممالک کے پاس سرمایہ بہت ہے مگر اعلیٰ درجے کی مہارت کی کمی ہے جبکہ پاکستان اس کا الٹ عکس ہے: سرمایہ محدود مگر دنیا کے سب سے بڑے ڈیجیٹل ورک فورس ذخائر میں سے ایک کا حامل۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملک میں تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز موجود ہیں، جو دنیا کی چوتھی بڑی فری لانس ورک فورس بنتی ہے اور پہلے ہی عالمی منڈیوں کے لیے خدمات انجام دے رہی ہے۔ صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے غلط صارفین کی طرف موڑا گیا ہے اور غلط مارکیٹ حصے میں قیمت لگائی گئی ہے۔

مزید یہ کہ یہ عمل اب بھی انفرادی مواقع کی بنیاد پر چل رہا ہے، نہ کہ ادارہ جاتی ڈیزائن کے تحت: کوئی فری لانسر کلائنٹ حاصل کرتا ہے، کوئی انجینیئر کنٹریکٹ جیتتا ہے، کوئی سٹارٹ اپ بیرونِ ملک کام حاصل کرتا ہے۔ یہ تمام کامیابیاں اپنی جگہ قیمتی ہیں، لیکن یہ ایک قومی حکمت عملی نہیں بلکہ الگ الگ کہانیاں ہیں اور بے سمت بہاؤ کسی حکمتِ عملی کا متبادل نہیں بن سکتا۔

اس مساوات میں وقت سب سے قیمتی وسیلہ ہے۔ پاکستان کسی خالی میدان میں داخل نہیں ہو رہا۔ خلیج کی یہ تبدیلی پہلے ہی بڑی حد تک انڈین انجینیئرز، پروڈکٹ لیڈرز اور دبئی، ابوظبی اور ریاض میں قائم عالمی صلاحیتی مراکز کے ذریعے آگے بڑھ رہی ہے۔

دوسری جانب فلپائن ٹیکنالوجی پر مبنی معاون خدمات کے ایک بڑے حصے کو سنبھالے ہوئے ہے جبکہ ہر خلیجی حکومت اپنی مقامی آبادی کو مہارتوں پر مبنی کرداروں میں لانے کے لیے سرمایہ کاری کر رہی ہے۔

فیصلہ کن بھرتیاں ابھی ہو رہی ہیں، یعنی 2026 سے 2030 کے درمیان، جب انفراسٹرکچر تعمیر ہو رہا ہے۔ ایک بار جب ٹیلنٹ ایکو سسٹمز تشکیل پا جائیں تو وہ غیر معمولی طور پر پائیدار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر پاکستان یہ موقع کھو دیتا ہے تو وہ صرف ایک سال نہیں بلکہ ایک نسل کھو سکتا ہے۔

یہ سب کچھ ناگزیر نہیں، لیکن اس کے بارے میں دیانت دارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ پاکستان کا انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی نظام اب بھی کمزور ہے؛ ایک سب میرین کیبل کے کٹ جانے سے فری لانسرز کئی دن متاثر ہو سکتے ہیں۔ بجلی کا نظام بھی زیادہ قابلِ اعتماد نہیں۔ یونیورسٹیاں بڑی تعداد میں گریجویٹس تو پیدا کرتی ہیں مگر ان مہارتوں میں نہیں جن کی خلیجی ممالک کو ضرورت ہے، جیسے اپلائیڈ مشین لرننگ، کلاؤڈ آرکیٹیکچر اور سائبر سکیورٹی۔

اس کے علاوہ پالیسیوں میں غیر یقینی صورت حال ملک کے سب سے قابل پیشہ ور افراد کو اپنی صلاحیت اور آمدنی کہیں اور منتقل کرنے کی طرف مائل کرتی رہتی ہے۔ یہی وہ عملی عوامل ہیں جنہیں خلیجی آجر خاموشی سے مدنظر رکھتے ہیں جب وہ طے کرتے ہیں کہ طویل المدتی شراکت داری کہاں بنائی جائے۔

اس کا حل مزید افراد کو بھیجنا نہیں ہے۔ اصل ضرورت اس چیز کی تعمیر ہے جو ابھی موجود ہی نہیں: محض افرادی قوت فراہم کرنے کی بجائے ایک منظم صلاحیتی شراکت داری۔ جی سی سی–پاکستان ڈیجیٹل ٹیلنٹ کمپیکٹ کا آغاز سرٹیفیکیشن کے نظام کو ہم آہنگ بنانے سے ہو سکتا ہے تاکہ کراچی میں حاصل کی گئی کلاؤڈ، سائبر سکیورٹی یا اے آئی کی سند ریاض میں بغیر دوبارہ امتحان کے تسلیم کی جائے۔

یہ نظام خلیج کی حقیقی ضروریات جیسے خودمختار کلاؤڈ، عربی زبان کے اے آئی ماڈلز اور اہم انفراسٹرکچر کے دفاع کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا جائے، نہ کہ ایک عمومی نصاب کی بنیاد پر۔

اس کے ساتھ مشترکہ ادارے اور مشترکہ مالی معاونت سے چلنے والی تجربہ گاہیں قائم کی جائیں، جو پاکستانی انجینیئرز کو صرف سسٹمز فراہم کرنے کی بجائے ان کے ڈیزائن میں شامل کریں۔

ساتھ ہی اس عمل کو بھی باضابطہ بنایا جائے جو فی الحال اتفاقاً ہو رہا ہے: ایک ایسا ڈیجیٹل نقل و حرکت کا راستہ جو پاکستانی انجینیئر کو خلیج کے کسی پروگرام میں حصہ لینے کی اجازت دے، بغیر اس کے کہ دونوں ممالک اسے کسی تیسرے ملک کے ہاتھوں کھو دیں۔ یہی فرق ہے صرف ٹیلنٹ فراہم کرنے اور حقیقی صلاحیت تعمیر کرنے میں۔

اس کا انعام صرف زیادہ تنخواہیں نہیں ہوں گی۔ یہ وہ چیز ہے جسے میں علمی ترسیلاتِ زر (Cognitive Remittances) کہتی ہوں۔ مالی ترسیلاتِ زر گھروں کی کفالت کرتی ہیں، جبکہ علمی ترسیلاتِ زر صنعتیں تعمیر کرتی ہیں۔

ایک انجینیئر جو تین سال کسی خودمختار اے آئی پروگرام میں کام کرتا ہے، جب واپس آتا ہے یا اپنے ملک سے رابطہ برقرار رکھتا ہے تو وہ اپنے ساتھ مہارت، روابط اور فیصلہ سازی کا تجربہ لاتا ہے، جو پاکستان کے کمزور ایکو سسٹم، سٹارٹ اپس، جامعات اور اگلی نسل تک منتقل ہوتا ہے۔ پیسہ خرچ ہو جاتا ہے، مگر علم تنخواہ ختم ہونے کے بہت بعد بھی فائدہ دیتا رہتا ہے۔ اسلام آباد ہر بار اسی منافع سے محروم ہو جاتا ہے جب وہ اس تعلق کو محض مرکزی بینک کے اعداد و شمار تک محدود کر کے دیکھتا ہے۔

خلیجی ممالک پاکستان کے فیصلے کا انتظار نہیں کر رہے۔ ان کے ڈیٹا سینٹرز پاکستان کی شرکت ہو یا نہ ہو، تعمیر ہو رہے ہیں۔ لیکن وہ ممالک جو ان مراکز کو چلانے کے لیے ہنرمند افرادی قوت فراہم کریں گے، خطے کی اگلی معیشت میں ایک ایسا مقام حاصل کریں گے جو کسی تعمیراتی منصوبے میں حصہ لینے سے کہیں زیادہ دیرپا ہوگا۔

مہرین درانی ایک انڈپینڈنٹ پروفیشنل ہیں جو حکمتِ عملی، ادارہ جاتی تبدیلی، پالیسی اور ٹیکنالوجی کے سنگم پر کام کرتی ہیں۔ وہ ڈیجیٹل تبدیلی اور سٹریٹیجک شراکت داریوں کے ذریعے ادارہ جاتی اور معاشی اثرات پیدا کرنے اور نتائج حاصل کرنے میں مہارت رکھتی ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ 

بشکریہ عرب نیوز

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر