امریکیوں کو 5 ہزار ڈالر کے چیکس کب ملیں گے؟ ٹرمپ کا مبہم جواب

ٹی وی انٹرویو میں امریکی صدر نے ’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا مبہم جواب دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 10 ستمبر 2026 کو ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں امریکن ایئرلائنز سینٹر میں رپبلکن نیشنل کمیٹی کے وسط مدتی کنونشن کے دوسرے روز خطاب کرتے ہوئے (اے ایف پی)

جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے 5000 ڈالر کے ’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘ چیکس کے وقت کے بارے میں پوچھا گیا، جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ یہ چیک وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکی شہریوں کو بھیجے گی، تو انہوں نے اس کا مبہم جواب دیا۔

رپبلکن رہنما ٹرمپ، جنہوں نے گذشتہ رات ٹیکسس میں رپبلکن پارٹی کے وسط مدتی کنونشن میں اس منصوبے کا خاکہ پیش کیا تھا، نے اپنی تقریر کے بعد فاکس نیوز کی لورا انگریم سے چیک دینے کے اس منصوبے پر بات کی۔

انٹرویو کے دوران صدر سے پوچھا گیا کہ اگر رقم ابھی دستیاب ہے تو وہ وسط مدتی انتخابات کے بعد چیک بھیجنے کا وعدہ کیوں کر رہے ہیں؟

ٹرمپ نے جواب دیا کہ ’کیوں کہ ڈیموکریٹس ایسا نہیں کر سکتے۔ کیوں کہ ان کے دور میں معاشی ترقی منفی ہوتی ہے۔ ہمارے دور میں یہ انتہائی مثبت ہے، لہٰذا ہم 21 کھرب ڈالر وصول کر رہے ہیں۔ کسی بھی ملک نے کبھی اس کے آس پاس بھی رقم وصول نہیں کی۔

’یہ دوسرے نمبر پر موجود ملک سے چار یا پانچ گنا زیادہ ہے۔ یہ سب اس خوبصورت لفظ کی بدولت ہے جسے آپ اور میں دوسروں سے زیادہ پسند کرتے ہیں، یعنی ٹیرف۔‘ 

(یہ واضح نہیں ہے کہ صدر کون سے 21 کھرب ڈالر کی بات کر رہے تھے، لیکن ان کی انتظامیہ کے دوران نہ تو ان کے ٹیرف اور نہ ہی امریکہ کے لیے سرمایہ کاری کے وعدوں نے اکیلے اتنی زیادہ رقم اکٹھی کی ہے۔)

انٹرویو کے دوران ایک اور موقعے پر، صدر نے دعویٰ کیا کہ معاشی ترقی ان کی ٹرمپ ڈیویڈنڈ پالیسی کے مالیاتی اثرات کا ازالہ کر دے گی، جس پر ممکنہ طور پر حکومت کا ایک کرب ڈالر سے زیادہ خرچ آئے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے اس منصوبے کا اعلان کرنے سے پہلے کانگریس کی قیادت سے بات کی تھی، تو انہوں نے اس کا بھی مبہم جواب دیا۔ 

کیپیٹل ہل کے نامعلوم ذرائع نے مبینہ طور پر ٹرمپ انتظامیہ پر سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون سمیت رپبلکن قیادت کو اس منصوبے کے بارے میں پیشگی اطلاع دینے میں ناکامی کا الزام لگایا ہے۔

ان اطلاعات کے بارے میں پوچھے جانے پر صدر نے فاکس نیوز کو بتایا کہ ’میں ان سے بات کرتا ہوں۔ ہم یہ کر سکتے ہیں۔ بہت سے لوگ تو یہ بھی نہیں سوچتے کہ مجھے کانگریس کی منظوری کی ضرورت ہے کیوں کہ ہم نے بہت زیادہ پیسہ کمایا ہے۔‘

دی انڈپینڈنٹ نے اس منصوبے کے حوالے سے ہونے والے رابطوں پر تبصرہ کرنے کے لیے وائٹ ہاؤس اور تھون کے دفتر سے رابطہ کیا ہے۔

اپنی تقریر کے دوران صدر نے کہا کہ یہ چیک تمام بالغ امریکی شہریوں کو دیے جائیں گے اور یہ اس بات سے مشروط ہوں گے کہ ووٹرز کانگریس میں رپبلکنز کی اکثریت برقرار رکھنے میں مدد کریں، جس پر ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ پیشکش نومبر کے انتخابات سے قبل حمایت خریدنے کے مترادف ہے۔

ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ ’لہٰذا اگر رپبلکنز جیتتے ہیں، تو آپ ہمارے ساتھ جیتیں گے اور آپ کو 5000 ڈالر ملیں گے۔‘

دی انڈپینڈنٹ کی جانب سے تبصرے کی درخواست پر وائٹ ہاؤس نے اس منصوبے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوس اینگل نے اس سے پہلے دی انڈپینڈنٹ کو ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’صدر ٹرمپ نے اپنے اوپر شک کرنے والوں کو مسلسل غلط ثابت کیا ہے، جس سے ڈیموکریٹس کی تاریخی مہنگائی، بے لگام غیر قانونی ترک وطن، آسمان کو چھوتی جرائم کی شرح اور عالمی سطح پر کمزوری کے ریکارڈ کے ساتھ ایک واضح موازنہ سامنے آتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہا امریکیوں کے لیے ایسی ادائیگیوں کی تجاویز پیش کی ہیں جو کبھی نہیں ملیں، جن میں ٹیرف کی آمدنی سے منسلک 2000 ڈالر کے چیک، محکمہ حکومتی کارکردگی کے اقدامات سے ہونے والی بچت سے 5000 ڈالر کے چیک اور صحت کے شعبے پر اخراجات کے لیے وفاقی فنڈز شامل ہیں۔ 

بدھ کی رات کی تقریر کے دوران ٹرمپ نے اس ادائیگی کا موازنہ امریکی فوجی اہلکاروں کے لیے انتظامیہ کے 1776 ڈالر کے ’واریئر ڈیویڈنڈ‘ چیکس سے کیا۔

رپبلکن رہنماؤں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ان چیکس کے حوالے سے قانون سازی کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اوہائیو کے سینیٹر برنی مورینو نے امریکی صدر کی تقریر کے بعد ایکس پر لکھا کہ ’میں ایک بل تیار کروں گا تاکہ ہم تین نومبر کے انتخابات کے فوراً بعد ٹرمپ ڈیویڈنڈ کو منظور کروا سکیں، کیوں کہ رپبلکن (اور امریکہ) جیت جائیں گے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی ایلون مسک کو 2024 کے انتخابات کے دوران ووٹ خریدنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا، جس کی انہوں نے تردید کی تھی۔

صدارتی دوڑ کے دوران، ٹرمپ کے نمایاں حامی اور مالی معاون ایلون مسک نے امریکی آئین کی حمایت میں ایک درخواست پر دستخط کرنے والے ووٹرز کے لیے روزانہ ایک کروڑ ڈالر کی قرعہ اندازی کا سلسلہ چلایا۔ ناقدین نے کہا کہ یہ سکیم ٹرمپ کی جیت خریدنے کی ایک چھپی ہوئی کوشش تھی۔

وبائی مرض کے دوران، ڈیموکریٹس نے 2000 ڈالر کے سٹیمولس چیک کی تجاویز پر مہم چلائی تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ