کیرالہ: ہندوستان کی پہلی جامع مسجد کی 1300 سال پرانی داستان

مقامی مؤرخین کے مطابق چیرامن جامعہ مسجد 643 عیسوی میں چیرا بادشاہ چیرامان پرومال کے حکم پر تعمیر کی گئی، جس کا اصل طرز تعمیر کیرالہ کے روایتی مندروں سے مشابہ ہے۔

ساتویں صدی، یعنی عہد نبوی کے زمانے سے ہی ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں مسلم تاجروں اور ملاحوں کی آمد کے ساتھ مساجد کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ ان میں کیرالہ کے ضلع تھریشور میں واقع چیرامن جامع مسجد کو ہندوستان کی پہلی مسجد اور برصغیر کی قدیم ترین مساجد میں شمار کیا جاتا ہے۔ 

مقامی مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس مسجد کو 643 عیسوی میں کیرالہ کے چیرا بادشاہ چیرامن پرومال کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔ مسجد کا اصل طرز تعمیر کیرالہ کے روایتی مندروں سے مشابہ ہے۔ 

نماز پڑھنے کی جگہ کے وسط میں پیتل کا ایک بڑا چراغ دان چھت سے لٹکا ہوا ہے، جو عام طور پر مندروں میں پایا جاتا ہے۔ یہاں لکڑی کی ساخت اور چھت بھی کیرالہ کے قدیم طرزِ تعمیر سے مشابہ ہے۔ 

مقامی تاریخ داں اور سکالر ہشام عدنی کے مطابق: ’زبانی تاریخ اور دیگر ثبوت وشواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام کی حیات مبارکہ کے دوران کیرالہ کے چیرا بادشاہ چیرامن پرومال اسلام سے متاثر ہوکر مکہ کے سفر پر روانہ ہوئے اور واپسی پر ان کی طبیعت ناساز ہوگئی اور موت قریب دیکھ کر انہوں نے اپنے وارثوں کے نام خط لکھ کر علاقے میں 10 مساجد تعمیر کرنے کی ہدایت کی۔‘

چیرا بادشاہ کی اس خواہش کا سن کر مسلم مبلغین جب کیرالہ پہنچے تو مقامی وارثوں نے مساجد کے لیے زمینیں عطیہ کیں۔ اس وقت اس علاقے میں 10 مساجد بنائی گئی تھیں، جن میں سب سے قدیم اور مشہور چیرامن  مسجد ہے۔

مؤرخین کا یہ بھی خیال ہے کہ کیرالہ پہنچنے والے قافلے میں شامل مالک بن دینار وہ پہلے تابعی تھے، جو کیرالہ میں اسلام کی تبلیغ کے لیے آئے تھے۔

مؤرخ ہشام عدنی کے مطابق ہندوستان کے ساحلی علاقوں میں مسلم ملاحوں نے اور بھی کئی مساجد تعمیر کی تھیں۔ انڈیا کے مشہور اساطیری مصنف دیودت پٹ نائک بتاتے ہیں کہ چیرامن مسجد کی اصل عمارت کیرالہ کے بہت سے مندروں کی طرح پگوڈے سے مشابہ ہے، جو چینی اثرات کی نشاندہی کرتی ہے۔ 

حالیہ زمانے تک اس مسجد میں اسلامی عمارتوں جیسی عام طرز تعمیر، یعنی مینار، گنبد اور حقیقی محرابی طاقیں موجود نہیں تھیں۔ یہ طرز تعمیر وسطی ایشیا کے ان جنگجو حکمرانوں کے ذریعے ہندوستان میں متعارف ہوا جو 12ویں صدی میں شمالی ہندوستان میں داخل ہوئے۔ 

دیودت پٹ نائک، شق القمر کے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیرالہ کی زبانی روایتوں میں یہ مانا جاتا ہے کہ چیرا خاندان کے آخری بادشاہ نے چاند کے شق ہونے کا واقعہ بھی دیکھا، جو پیغمبر اسلام سے منسوب چند معجزات میں سے ایک ہے۔

 اس واقعے کے بعد بادشاہ نے مکہ جا کر اسلام قبول کر لیا، جب انہیں احساس ہوا کہ ممکن ہے وہ اپنے وطن پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا جائیں تو اس نے عرب امرا کے ایک گروہ کو کیرالہ جانے کا کہا۔

دیودت پٹ نائک لوک داستانوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ چیرا بادشاہوں کا دور حکومت 300 قبل مسیح سے شروع ہوا، یعنی ویدک دور کے بہت بعد، اور 10ویں صدی میں ختم ہوا، یعنی پیغمبر اسلام کے زمانے کے بہت بعد۔

ہشام عدنی کے نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ مسجد کی کئی داستانیں ہیں، تاہم جو تاریخ زبانی طور پر منتقل ہوئیں، اس کے مطابق اسلام کی آمد سے قبل ہی عرب تاجر کیرالہ کے ساحل پر آنا شروع ہوچکے تھے کیوں کہ  عرب اور چین کے درمیان چلنے والے بحری جہازوں کے عظیم سمندری راستے کا پڑاؤ کالی کٹ کیرالہ میں ہوتا تھا۔

عرب ملاح یہاں سامان اور دیگر ضروریات حاصل کرنے کے لیے رکتے تھے۔ چین سے ریشم اور چینی مٹی کے برتن آتے تھے، جب کہ عرب سے انتہائی قیمتی گھوڑے لائے جاتے تھے۔ 

ہندوستان کی سرزمین پر اسلام کا سب سے پہلا قدم بھی اسی خطہ میں پڑا۔ یہ وہ خطہ ہے، جہاں اسلام مجاہدین اور غازیوں کے ذریعہ نہیں آیا بلکہ تاجروں اور ملاحوں نے اس خطہ کو اسلام سے متعارف کرایا۔

ہشام عدنی کے مطابق: ’ہماری لوک داستانوں کے مطابق یہ مسجد چیرا بادشاہ نے اپنے وارثوں کو حکم دے کر بنوائی، تاہم ایک اور روایت میں اسے حضرت مالک بن دینار سے منسوب کیا جاتا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہشام عدنی کے بقول: ’مسجد ہندوستان کی سب سے قدیم وراثت ہے۔ اس کی دیکھ بھال میں مقامی انتظامیہ بھی کافی متحرک ہے۔ مسجد کی موجودہ حالت سے یہ عکاسی ہوتی ہے کہ یہ اپنی بہترین شکل و صورت میں یہاں قائم ہے۔

’ماضی میں اس مسجد کو کئی بار نقصان پہنچا۔ سیلاب سے اور کبھی پرتگالیوں کے حملوں سے۔ یہ مسجد مختلف ادوار میں ہونے والی تعمیر و مرمت سے گزری ہے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ اب یہ مسجد ایک مرکز کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے تحت اس کے تحت ایک درجن مساجد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے انتظام و انصرام کے لیے 36 افراد پر مشتمل عملہ ہے۔ یہاں مقامی ہندو بھی آتے ہیں کیوں کہ ان کا عقیدہ بھی اس مسجد سے وابستہ ہے۔ مسجد کی دائیں جانب قدیم قبرستان ہے، جب کہ پشت پر ایک تاریخی تالاب ہے۔

مقامی لوگ اس مسجد کو چندہ دیتے ہیں، جس میں سامان اور مویشی شامل ہوتے ہیں۔ ہر جمعے کو یہ اشیا نیلام کر کے حاصل ہونے والی رقم سے مسجد کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

متھیلا گاؤں جہاں مسجد واقع ہے، کے رہائشی محمد انیس بتاتے ہیں کہ اب یہاں گاؤں جیسا کچھ بھی نہیں۔ پکی عمارتیں ہیں۔ یہاں مالابار کی ثقافت ہے، تاہم کیرالہ کا عربی رہن سہن ہے۔ یہاں کے اکثر لوگ خلیج کے ممالک میں کام کرتے ہیں۔

محمد انیس کا کہنا ہے کہ ’یہ مسجد ہمارے پورے علاقے کے لیے اعزاز ہے کیوں کہ یہ ہندوستان کی پہلی مسجد تسلیم کی جاتی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا