ٹرمپ کا ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی‘ کا اعلان

صدر ٹرمپ نے ایران کی مدد کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی سنگین معاشی نتائج سے خبردار کرتے ہوئے امریکی اتحادیوں سے تہران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جولائی 2025 کو واشنگٹن، ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس جونیئر سے ملاقات کے دوران (اے ایف پی)

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے پر مذاکرات کی 60 روزہ مدت ختم ہونے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایران کے خلاف ’اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی‘ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مذاکرات کی یہ 60 روزہ مدت 17 اگست کو ختم ہو گئی، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ یہ ڈیڈ لائن 17 جون کو پاکستان اور قطر کی ثالثی سے طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مقرر کی گئی تھی، جس کا مقصد 28 فروری کو شروع ہونے والے تنازعے کو ختم کرنا تھا۔

ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں لکھا کہ ایران کو امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے کا اس سے بہتر موقع کبھی نہیں ملا، تاہم تہران اس موقع سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور اس کی عالمی تنہائی کی پالیسی اختیار کرے گا۔

امریکی صدر نے کہا: ’مجھے نہیں لگتا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو معاہدہ کرنے کا اس سے بہتر موقع کسی اور نے دیا ہو جتنا میں نے دیا ہے۔ افسوس ناک طور پر، ایران اس موقعے سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہا، لہٰذا آج میں کسی بھی ملک کے خلاف اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی کا اعلان کر رہا ہوں۔ یہ غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور آئیسولیشن (تنہائی) ہوگی۔‘

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ’ایران کی بحریہ ختم ہوچکی ہے، اس کی فضائیہ تباہ ہوچکی ہے، اس کی فوجی فیکٹریاں اب ملبے کا ڈھیر ہیں، اس کی کرنسی بے وقعت ہوچکی ہے اور ملک انتہائی نازک صورت حال سے دوچار ہے۔‘

ایران کی مدد کرنے والے ممالک کو بھی دھمکی

امریکی صدر نے ایران کو کسی بھی قسم کی معاشی مدد یا سہولت فراہم کرنے والے ممالک اور کاروباری اداروں کو بھی سخت معاشی نتائج سے خبردار کیا۔

ٹرمپ نے کہا: ’آج میں یہ بھی اعلان کر رہا ہوں کہ جو بھی ملک اپنے مالیاتی اداروں، کاروباری اداروں، ہوائی اڈوں یا سرکاری اداروں کے ذریعے ایران کو کسی بھی قسم کی مدد یا سہولت فراہم کرے گا، اسے خود بھی سنگین معاشی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

’تیل کی سمگلنگ، مالیاتی سہولتیں، نقد رقم کی منتقلی، ایکسچینج ہاؤسز، بحری جہازوں کی رجسٹریشن اور فرنٹ کمپنیاں—یہ سب کچھ اب فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کون ہیں۔‘

اتحادیوں سے ایران کو تنہا کرنے کی اپیل

ٹرمپ نے امریکی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کا ساتھ دیتے ہوئے ایران کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوششوں میں شامل ہوں۔

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں ایران کے خلاف مجوزہ اقدامات کو Economic D-Day قرار دیتے ہوئے لکھا: ’ہمیں اپنے تمام اتحادیوں کی ضرورت ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ ایران کے خطرے کو تنہا کیا جا سکے اور شکست دی جا سکے۔

’یہ لوگ شدید دباؤ میں ہیں اور یہ تاریخی اقدامات انہیں اور دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانے کی ان کی صلاحیت کو مفلوج کر دیں گے۔ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔‘

مذاکرات کی 60 روزہ مدت ختم، حتمی معاہدہ اب بھی تعطل کا شکار

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے پر مذاکرات کی 60 روزہ مدت تو ختم ہو گئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان بات چیت تعطل کا شکار ہے۔

اس معاہدے کے بعد فروری میں شروع ہونے والے تنازعے کے خاتمے کی امید پیدا ہوئی تھی، تاہم جنگ کے باعث خلیج میں توانائی کی ترسیل اور بحری نقل و حمل متاثر ہوئی۔

14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے سمیت آبنائے ہرمز، امریکی بحری ناکہ بندی، ایران پر عائد پابندیوں، اس کے جوہری پروگرام اور منجمد ایرانی اثاثوں سے متعلق معاملات شامل تھے۔

معاہدے کے تحت ان تمام امور پر تفصیلی بات چیت کے بعد انہیں حتمی معاہدے کا حصہ بنایا جانا تھا۔

یادداشت میں طے کیا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران باہمی رضامندی سے مدت میں توسیع کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات مکمل کریں گے، تاہم مقررہ مدت ختم ہونے کے باوجود دونوں فریق کسی حتمی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا