ہر امریکی حکومت نے ایران پر پابندیوں میں حصہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ کبھی کانگریس کے ذریعے اور کبھی صدارتی یا انتظامی حکم نامے کے ذریعے۔
ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے رواں ہفتے پاکستان کا دورہ کیا اور وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں آئندہ پانچ سالوں میں دو طرفہ تجارت کا حجم 10 ارب امریکی ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔