برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی جانب سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھیجے گئے ایک خط سے ظاہر ہوا ہے کہ ان تینوں ممالک نے جمعرات کو ایک 30 روزہ عمل شروع کیا ہے تاکہ ایران پر اس کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکیں۔
یہ فیصلہ یورپی ممالک کی اس مثلث نے اس الزام کے بعد کیا کہ ایران 2015 میں بڑی طاقتوں کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کر رہا، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔
1: ایران کا 2015 کا جوہری معاہدہ کیا تھا؟
کئی ممالک کو شک تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کی ایران تردید کرتا ہے۔
ایران نے 2015 میں برطانیہ، جرمنی، فرانس، امریکہ، روس اور چین کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جسے مشترکہ جامع عملی منصوبہ (JCPOA) کہا جاتا ہے۔ اس کے تحت ایران پر عائد اقوامِ متحدہ، امریکی اور یورپی پابندیاں ختم کر دی گئیں، لیکن ایران کے جوہری پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔
سلامتی کونسل نے جولائی 2015 میں اس معاہدے کی توثیق کی جو اب اس سال 18 اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے۔ معاہدے کی شقوں کے مطابق کسی بھی فریق کو حق حاصل ہے کہ وہ ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر سکے۔
2: دوبارہ پابندیاں عائد کرنے کا مطلب کیا ہے؟
2015 کے معاہدے میں ایک میکانزم رکھا گیا جسے ’سنیپ بیک‘ کہا جاتا ہے۔ اگر کسی فریق کو لگے کہ ایران بڑی خلاف ورزی کر رہا ہے تو سلامتی کونسل اس عمل کے تحت دوبارہ پابندیاں عائد کر سکتی ہے۔
3: 30 دن کی مہلت کیا ہے؟
اب چونکہ عمل شروع ہو چکا ہے، اس لیے سلامتی کونسل کو 30 دن کے اندر ووٹ کرانی ہو گی کہ آیا ایران پر سے پابندیاں ہٹائی جائیں یا نہیں۔ اس کے لیے نو ووٹ درکار ہیں اور مستقل رکن ممالک کو ویٹو استعمال نہیں کرنا ہو گا۔
اگر قرارداد منظور نہ ہوئی تو 30 دن بعد ایران پر تمام پرانی اقوامِ متحدہ کی پابندیاں از خود بحال ہو جائیں گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
4: کون سی پابندیاں لگ سکتی ہیں؟
اگر دوبارہ پابندیاں لگیں تو 2006 سے 2010 کے درمیان لگائی گئی تمام پابندیاں واپس آ جائیں گی، جیسے:
- ہتھیاروں کی خرید و فروخت پر پابندی۔
- یورینیم کی افزودگی اور دوبارہ پراسیسنگ پر پابندی۔
- بیلسٹک میزائل سرگرمیوں پر پابندی۔
- ایرانی شخصیات اور اداروں پر عالمی اثاثے منجمد اور سفری پابندیاں۔
- ایران کی فضائی و بحری کمپنیوں کی سخت تلاشی۔
5: کیا نئی قرارداد آئے گی؟
یورپی ممالک نے کہا ہے کہ وہ محدود وقت کے لیے توسیع پر رضامند ہیں تاکہ مذاکرات کے ذریعے نیا معاہدہ کیا جا سکے۔
6: روس اور چین کا کیا کردار ہے؟
روس اور چین نے ایک متبادل قرارداد تجویز کی ہے جو معاہدے کو 2026 تک بڑھا دے گی۔ اس میں ایسی شقیں شامل ہیں جو یورپی ممالک کو پابندیاں دوبارہ عائد کرنے سے روک دیں گی۔
7: کیا پابندیاں روکنا ممکن ہے؟
روس اور چین کا موقف ہے کہ یورپی ممالک نے معاہدے کے اندرونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا، اس لیے وہ پابندیاں دوبارہ عائد نہیں کر سکتے۔ لیکن قانونی طور پر ویٹو پاور کے باوجود وہ اس عمل کو روک نہیں سکتے، صرف عمل درآمد سے انکار کر سکتے ہیں۔
8: امریکہ کا کیا کردار ہے؟
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018 میں امریکہ کو معاہدے سے نکال دیا اور ایران پر دوبارہ تمام امریکی پابندیاں عائد کر دیں۔ اس کے بعد ایران نے بھی اپنی کچھ ذمہ داریاں پوری کرنا بند کر دیں۔
9: ایران کیا کر رہا ہے؟
ایران نے یورینیم کی افزودگی 60 فیصد تک بڑھا دی ہے، جو ہتھیار بنانے کے قریب ترین سطح ہے (90%)۔ مغربی ممالک کہتے ہیں کہ اس سطح کی افزودگی صرف ایٹمی ہتھیار کے لیے ضروری ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے۔
10: امریکہ اور ایران میں بات کیوں نہیں ہو رہی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کئی ماہ سے رکے ہوئے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل اور امریکہ نے ایران کی جوہری تنصیبات اور میزائل سائٹس کو نشانہ بنایا۔
بشکریہ انڈپینڈنٹ عربیہ