اسرائیل نے تقریباً دو سال بعد رفح کراسنگ کھول دی

اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے گوگٹ نے اتوار کو کہا کہ ’رفح کراسنگ آج صرف رہائشیوں کی محدود آمد و رفت کے لیے کھولی گئی۔‘

اسرائیل نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے مہینوں کے اصرار پر تقریباً دو سال بعد اتوار کو تباہ حال غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ جزوی طور پر کھول دی ہے اور فی الحال رسائی صرف لوگوں کی آمد و رفت تک محدود ہے۔

یہ راستہ ایسے وقت میں کھولا گیا ہے جب فلسطینی علاقے میں فائر بندی کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری ہے۔ غزہ کے شہری دفاع کے ادارے نے ہفتے کو اسرائیلی حملوں میں درجنوں افراد کے جان سے جانے کی اطلاع دی ہے جبکہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ فائر بندی کی خلاف ورزیوں پر جوابی کارروائی کر رہی تھی۔

رفح کراسنگ عام شہریوں اور امداد دونوں کے لیے ایک اہم راستہ ہے، لیکن مئی 2024 میں حماس کے ساتھ جنگ کے دوران اسرائیلی فورسز کی جانب سے اس کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے یہ بند تھی، سوائے 2025 کے اوائل میں مختصر اور محدود پیمانے پر کھلنے کے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فلسطینی شہری امور کو مربوط کرنے والے اسرائیلی وزارت دفاع کے ادارے ’کوگٹ‘ (COGAT) نے اتوار کو کہا کہ ’رفح کراسنگ آج صرف رہائشیوں کی محدود آمد و رفت کے لیے کھولی گئی۔‘

حماس کے زیر انتظام کام کرنے والی غزہ کی وزارت صحت کے ایک عہدےدار نے بتایا کہ تقریباً 200 مریض کراسنگ کھلنے پر علاقے سے باہر جانے کی اجازت کے منتظر ہیں۔

دریں اثنا، ایک فلسطینی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’فلسطینی اتھارٹی سے وابستہ تقریباً 40 فلسطینیوں کا ایک گروپ کراسنگ کی مصری جانب پہنچ گیا ہے تاکہ اسے غزہ میں داخل ہونے اور اپنا کام شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔‘

اسرائیل نے اس سے قبل کہا تھا کہ وہ اس وقت تک کراسنگ دوبارہ نہیں کھولے گا جب تک غزہ میں قید آخری اسرائیلی قیدی ران گویلی کی لاش واپس نہیں کی جاتی۔

قیدی کی باقیات چند روز قبل برآمد ہوئی تھیں اور بدھ کو انہیں اسرائیل میں سپرد خاک کیا گیا، جس کے دو دن بعد کوگاٹ نے کراسنگ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔

 

اس وقت کہا گیا تھا کہ داخلے اور خروج کی ’اجازت مصر کے ساتھ ہم آہنگی، اسرائیل کی جانب سے افراد کی پیشگی سکیورٹی کلیئرنس کے بعد اور یورپی یونین مشن کی نگرانی میں دی جائے گی۔‘

کوگٹ نے اتوار کو سرحدی گزر گاہ دوبارہ کھلنے کے عمل کو یورپی یونین کے ساتھ مربوط ’ایک ابتدائی آزمائشی مرحلہ‘ قرار دیتے ہوئے مزید کہا کہ فریقین ’کراسنگ کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے تیاری بڑھانے کی غرض سے ابتدائی انتظامات‘ کر رہے ہیں۔

ادارے نے مزید کہا کہ ’ان تیاریوں کی تکمیل پر دونوں سمتوں میں رہائشیوں کی اصل آمد و رفت شروع ہو جائے گی۔‘

کراسنگ پر موجود تین ذرائع نے بتایا کہ پیر کو اسے وسیع پیمانے پر کھولنا طے ہے۔

تاہم، ذرائع نے مزید بتایا کہ داخل ہونے یا باہر جانے کی اجازت پانے والے فلسطینیوں کی تعداد پر ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مصر ’ان تمام فلسطینیوں کو‘ قبول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ’جنہیں اسرائیل جانے کی اجازت دیتا ہے۔‘

’بے چینی سے انتظار‘

33 سالہ محمد شامیہ جو گردے کی بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں بیرونِ ملک ڈائلیسز کی ضرورت ہے، نے کہا: ’ہر گزرتا دن میری زندگی نچوڑ رہا ہے اور میری حالت خراب کر رہا ہے۔ میں ہر لمحہ رفح زمینی کراسنگ کھلنے کا انتظار کر رہا ہوں۔‘

صفا الحواجری، جنہیں بیرونِ ملک تعلیم کے لیے سکالرشپ ملی ہے، وہ بھی بے تابی سے کراسنگ دوبارہ کھلنے کی منتظر تھیں۔

18 سالہ حواجری کا کہنا تھا: ’میں اپنی خواہش پوری ہونے کی امید میں انتظار کر رہی ہوں، جس کا تعلق کراسنگ کے دوبارہ کھلنے کے ساتھ ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس کے کھلتے ہی میں سفر کرنے کے قابل ہو جاؤں گی۔‘

مصر کے ساتھ غزہ کی جنوبی سرحد پر واقع رفح اس علاقے میں آنے اور جانے کا واحد راستہ ہے، جو اسرائیل سے ہو کر نہیں گزرتا۔

یہ اس علاقے میں واقع ہے جو امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کی شرائط کے تحت نام نہاد ’ییلو لائن‘ کے پیچھے انخلا کے بعد اسرائیلی فورسز کے قبضے میں ہے، یہ فائر بندی 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی تھی۔

اسرائیلی فوجی اب بھی غزہ کے نصف سے زیادہ حصے پر کنٹرول رکھتے ہیں، جبکہ باقی حصہ حماس کے زیر انتظام ہے۔

توقع ہے کہ کراسنگ دوبارہ کھلنے سے 15 ارکان پر مشتمل فلسطینی ٹیکنوکریٹک کمیٹی، ’نیشنل کمیٹی فار دی ایڈمنسٹریشن آف غزہ‘ (این سی اے جی) کے داخلے میں آسانی ہو گی، جو علاقے کے 22 لاکھ رہائشیوں کے روزمرہ کے انتظامی امور کی نگرانی کے لیے قائم کی گئی ہے۔

فائر بندی معاہدے کے تحت قائم ہونے والی اس کمیٹی کی نگرانی نام نہاد ’بورڈ آف پیس‘ کرے گا، جس کی صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔

تاہم، کمیٹی کے ایک رکن نے بتایا کہ سابق فلسطینی اتھارٹی کے نائب وزیر علی شعث کی سربراہی میں این سی اے جی کے اتوار کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی توقع نہیں ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ’کمیٹی کے سربراہ کو مطلع کیا گیا تھا کہ اسرائیل نے ارکان کے غزہ میں داخلے کی منظوری دے دی ہے لیکن ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی۔‘

رکن کے مطابق: ’ہم ثالثوں اور امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کراسنگ پر آپریشنز میں تیزی لائیں اور مسافروں کی تعداد میں اضافہ کریں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا