اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے دفتر نے اتوار کو کہا ہے کہ غزہ کی مصر کے ساتھ رفح کراسنگ کو لوگوں کی آمد و رفت کے لیے صرف اس وقت دوبارہ کھولی جائے گی جب علاقے میں آخری اسرائیلی قیدی کی باقیات کی تلاش کا آپریشن مکمل ہو جائے گا۔
یہ سرحد اسرائیل اور حماس کے درمیان اکتوبر میں طے پانے والے فائر بندی معاہدے کے تحت، جنگ ختم کرنے کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے ابتدائی مرحلے کے دوران کھولی جانی تھی۔
تاہم اسرائیل نے سرحد کے دوبارہ کھولنے کو غزہ میں فلسطینی عسکریت پسند گروپوں کی تحویل میں موجود تمام زندہ قیدیوں کی واپسی اور مرنے والے تمام قیدیوں کی لاشیں تلاش کرنے اور واپس کرنے کے لیے حماس کی جانب سے ’100 فیصد کوشش‘ سے مشروط کر دیا ہے۔
پولیس افسر ران گویلی کی لاش کے سوا سب کو واپس کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کو کہا کہ اس نے شمالی غزہ میں ان کی باقیات حاصل کرنے کے لیے ایک ’ٹارگٹڈ آپریشن‘ شروع کیا ہے، جب کہ ایک اسرائیلی فوجی عہدے دار نے کہا کہ ان کے ممکنہ مقام کے بارے میں ’کئی خفیہ سراغ‘ موجود تھے۔
نتن یاہو کے دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج ’اس وقت مرنے والے قیدی ماسٹر سارجنٹ ران گویلی کو تلاش کرنے اور واپس لانے کی کوشش کے دوران جمع کی گئی تمام خفیہ معلومات کو استعمال کرنے کے لیے ایک مرکوز آپریشن کر رہی ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ جب آپریشن مکمل ہو جائے گا تو ’اسرائیل رفح کراسنگ کھول دے گا۔‘
جمعرات کو امریکہ کی حمایت یافتہ عبوری فلسطینی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے، جو عارضی طور پر غزہ کا انتظام سنبھالے ہوئے ہیں، کہا کہ رفح کراسنگ اس ہفتے کھل جائے گی۔
یہ سرحدی گزرگاہ علاقے میں رہنے والے 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی تقریباً پوری آبادی کے لیے غزہ آمد و رفت کا عملی طور پر واحد راستہ ہے۔
کراسنگ کا غزہ والا حصہ 2024 سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
نتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کے حصے کے طور پر، اسرائیل نے رفح کراسنگ کو صرف پیدل چلنے والوں کے گزرنے کے لیے محدود پیمانے پر دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے، جو اسرائیل کے مکمل معائنے کے نظام سے مشروط ہے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اس ماہ واشنگٹن نے اعلان کیا کہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے کہ جس کے تحت توقع ہے کہ اسرائیل غزہ سے مزید فوجیں نکال لے گا اور حماس علاقے کا انتظامی کنٹرول چھوڑ دے گی۔
گذشتہ ہفتے تین ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ اسرائیل مصر کے ساتھ سرحدی کراسنگ کے ذریعے غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کو محدود کرنا چاہتا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اندر آنے والوں کی نسبت باہر جانے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔
دوسری جانب غزہ کی وزارت صحت نے اتوار کو بتایا کہ علاقے میں اتوار کو دو الگ الگ واقعات میں اسرائیلی فائرنگ سے تین فلسطینی شہری جان سے گئے، جب کہ غزہ شہر میں ایک اسرائیلی ڈرون نے چار دیگر افراد کو زخمی کر دیا۔
طبی عملے نے بتایا کہ شمالی غزہ کی پٹی میں تفاح محلے کے مشرق میں اسرائیلی فائرنگ سے کم از کم دو افراد کی جان گئی، اور اس محصور علاقے کے جنوب میں خان یونس میں اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں ایک 41 سالہ شخص مارا گیا۔
اس سے قبل، طبی کارکنوں نے بتایا کہ غزہ شہر میں ایک کثیر منزلہ عمارت کی چھت پر ایک اسرائیلی ڈرون پھٹا، جس سے قریبی سڑک پر موجود چار شہری زخمی ہو گئے۔