وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات احسن اقبال نے جمعے کو قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان غزہ امن بورڈ کا حصہ نہ بنتا تو اپوزیشن ہمارے خلاف تقاریر کر رہی ہوتی کہ پاکستان تنہا رہ گیا ہے اور سفارت کاری ناکام ہو چکی۔
پاکستان سمیت 19 ممالک کے رہنماؤں اور سینیئر عہدے داروں کے ایک گروپ نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک تقریب میں ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کے لیے دستاویزات پر دستخط کیے تھے۔
احسن اقبال نے ایوان میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت آٹھ مسلمان ممالک کو موقع ملا کہ وہ بورڈ کا حصہ بن کر فلسطینی عوام کے حقوق اور امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
’پاکستان کا اسرائیل کے حوالے سے1967 والا ہی موقف ہے کہ وہ سفاک اور ظالم ملک ہے، نتن یاہو کے ہاتھ نہتے اور مظلوم فلسطینوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔‘
انہوں نے کہا آرام دہ اور ٹھنڈی جگہ پر بیٹھ کر تقاریر کرنے والوں کو فلسطینوں پر ڈھائے جانے والے مظالم، قتل و غارت کا ادراک نہیں۔
انہوں نے کہا پاکستان کو بورڈ ایک سینٹرل سٹیج کے طور پر ملا جو ہماری کامیاب سفارت کاری کی نتیجہ ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ ہمارے غزہ امن بورڈ میں شامل ہونے کو غلط کہنے والے بتائیں کہ کیا سعودی عرب، ترکی، یو اے ای، بحرین، اردن، کویت اور مراکش ہمارے دوست اور مسلمان ملک نہیں جو غزہ امن بورڈ کا حصہ ہیں؟
گذشتہ روز قانون سازی کے لیے بلائے گئے مشترکہ اجلاس میں حزب اختلاف نے پاکستان کے بورڈ میں شامل ہونے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
آج قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوسرے دن بھی یہی صورت حال نظر آئی اور حزب اختلاف نے اس فیصلے پر اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا اگر ’بورڈ آف پیس‘ کے نکات میں تبدیلیاں کی جا رہی تھیں تو پھر اس فورم میں شرکت کی ضرورت ہی کیا تھی؟
’امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو تقویت دے رہے ہیں اور حماس کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔‘
انہوں نے افغانستان، عراق اور لیبیا کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ان ممالک کو تباہ کر دیا اور اب بھی ایسے فورمز بنائے جا رہے ہیں جن کا آغاز ہی دھمکیوں سے ہو رہا ہے۔
’اسرائیل کے عزائم واضح ہیں اور اس کے باوجود پاکستان ایسے اقدامات کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘
جے یو آئی کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ اگر اقوام متحدہ میں اسرائیل کی موجودگی کو جواز بنایا جاتا ہے تو پھر پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے پر پابندی کیوں ہے؟
’پاکستان کو امن ضرور چاہیے، لیکن امن کے بھی اصول ہوتے ہیں۔‘
انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نے پارلیمان اور کابینہ کو اعتماد میں لیے بغیر اہم فیصلے کیے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مولانا فضل الرحمن کے مطابق اگر وہ ’ماضی میں فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں تو موجودہ حکمرانوں کے خلاف بھی آواز اٹھا سکتے ہیں۔‘
تقریر کے اختتام میں انہوں نے کہا کہ اگر نواز شریف اور شہباز شریف غلامی کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، لیکن وہ اور ان کی جماعت ایسے فیصلوں کو قبول نہیں کرتی۔
سینیٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک حساس موڑ سے گزر رہی ہے اور غزہ کے عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
’عالمی عدالت انصاف نے اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کو دہشت گرد قرار دیا ہے، لیکن جو اہداف نتن یاہو براہ راست حاصل نہیں کر سکے، وہ اب ’بورڈ آف پیس‘ کے نام پر حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حمایت یافتہ سینیٹر نے مزید کہا پاکستان اتفاق رائے کے بغیر اس بورڈ کا حصہ بنا، جس میں فلسطینیوں کی کوئی نمائندگی ہی نہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا تھا کہ اسے ’پیس بورڈ‘ کے بجائے ’قبضہ بورڈ‘ کہا جانا چاہیے اور ایوان کو اس کے خلاف قرارداد منظور کرنی چاہیے کیونکہ یہ معاملہ ’قومی عزت، وقار اور غیرت سے جڑا ہوا ہے۔‘
بعد ازاں انہوں نے اس معاملہ پر خصوصی مشترکہ اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔
اجلاس میں پارلیمان نے قومی کمیشن برائے انسانی حقوق ترمیمی بل، دانش سکولز اتھارٹی بل اور گھریلو تشدد کے روک تھام کے بل کی منظوری دی گئی۔