کئی یورپی ممالک غزہ کوآرڈی نیشن میں اپنی موجودگی پر نظرِ ثانی کر رہے ہیں: روئٹرز

آٹھ غیر ملکی سفارتکاروں نے روئٹرز کو بتایا کہ اس مرکز کے کردار کو ’غیر واضح‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک مغربی سفارتکار کے مطابق ’سب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ناکام تجربہ ہے، لیکن فی الحال اس کا کوئی متبادل بھی نہیں۔‘

اکتوبر 30، 2025 کو اسرائیلی فوجی غزہ کی سرحدی باڑ کے قریب جنوبی علاقے میں تعینات ہیں (جیک گیز/ اے ایف پی)

کئی یورپی ممالک غزہ کے لیے قائم امریکی فوجی قیادت والے سول۔ملٹری کوآرڈی نیشن سینٹر (سی ایم سی سی) میں اپنے عملے کی تعیناتی پر دوبارہ غور کر رہے ہیں، کیونکہ تین ماہ گزرنے کے باوجود نہ تو انسانی امداد کی ترسیل میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکا ہے اور نہ ہی کوئی واضح سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سی ایم سی سی اکتوبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبے کے تحت جنوبی اسرائیل میں قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل۔حماس جنگ بندی کی نگرانی، امدادی سامان کی ترسیل میں سہولت اور جنگ کے بعد غزہ کے لیے پالیسیوں کی تیاری تھا۔ جرمنی، فرانس، برطانیہ، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت درجنوں ممالک نے یہاں فوجی منصوبہ سازوں اور انٹیلی جنس حکام پر مشتمل عملہ بھیجا تھا۔

آٹھ غیر ملکی سفارتکاروں نے رویٹرز کو بتایا کہ کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات کے بعد بعض یورپی ممالک کے نمائندے واپس نہیں آئے اور اب اس مرکز کے کردار کو ’غیر واضح‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک مغربی سفارتکار کے مطابق ’سب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک ناکام تجربہ ہے، لیکن فی الحال اس کا کوئی متبادل بھی نہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ کچھ یورپی حکومتیں سی ایم سی سی میں اپنی موجودگی کم کرنے یا مکمل طور پر ختم کرنے پر غور کر رہی ہیں، اگرچہ کسی ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس میں غیر فوجی کاری اور تعمیرِ نو شامل ہیں، تاہم اسرائیلی فوجی انخلا یا کثیرالقومی استحکام فورس کی تعیناتی کے بارے میں کوئی واضح لائحہ عمل سامنے نہیں آیا۔

سفارتکاروں کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں انسانی امداد کی مقدار میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا، جبکہ اسرائیل اب بھی ’دوہرے استعمال‘ کی اشیا پر پابندیاں برقرار رکھے ہوئے ہے، جن میں خیموں کے لیے دھاتی کھمبے تک شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر یورپی ممالک نے اس مرکز سے خود کو پیچھے ہٹایا تو غزہ کے بعد از جنگ انتظامی ڈھانچے پر اسرائیل کا اثر و رسوخ مزید بڑھ سکتا ہے، جبکہ فلسطینی نمائندگی پہلے ہی اس فورم میں موجود نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا