ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مجھے شامل کیا جانا چاہیے: ٹرمپ

ایران پر امریکی و اسرائیلی جنگ کے ردعمل میں تہران کے جوابی حملوں کے باعث خطے کی سیاسی و معاشی سمیت مجموعی صورت حال کا احوال۔

تازہ ترین

  • ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ ساتویں روز بھی جاری ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔
  • ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں انہیں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

 


جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال —  چوتھے دن کا احوال  —  پانچویں دن کا احوال —  چھٹے دن کے احوال لیے یہاں کلک کریں


 

صبح 9 بج کر 30 منٹ: اسرائیل کے ایران اور لبنان میں مزید حملے

اسرائیل نے جمعے کو صبح سویرے فضائی حملوں میں ایران اور لبنان کے دارالحکومتوں کو شدید نشانہ بنایا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر ’وسیع پیمانے پر حملوں کی ایک بڑی لہر‘ شروع کر دی ہے۔

عینی شاہدین نے اسرائیلی فضائی حملوں کو غیر معمولی طور پر شدید قرار دیا، جن سے علاقے میں گھروں تک لرز گئے۔

بعض افراد نے ایرانی شہر کرمانشاہ کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی، جہاں متعدد میزائل اڈے موجود ہیں۔

اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچر پہلے ہی تباہ کر دیے گئے ہیں۔


صبح 8 بجے: ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مجھے شامل کیا جانا چاہیے: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں انہیں بھی شامل ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور نیا سپریم لیڈر مسترد کر دیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو چھ روز ہو چکے ہیں اور ایران نے بھی جوابی حملے جاری رکھتے ہوئے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔

امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور نیا سپریم لیڈر مسترد کر دیا، جو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لینے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ علی خامنہ ای جنگ کے ابتدائی حملوں میں جان سے چلے گئے تھے۔

ٹرمپ نے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے منتخب یا مقرر نہیں ہوئے، کو ’کمزور شخصیت‘ قرار دیا۔

امریکی صدر نے کہا: ’ہم ایران میں ایسے شخص کو چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔‘

انہوں نے کہا: ’مجھے تقرری کے عمل میں شامل ہونا ہوگا، جیسے وینزویلا میں ڈیلسے کے معاملے میں ہوا تھا۔‘ یہاں ٹرمپ کا اشارہ جنوبی امریکی ملک کے قائم مقام صدر کی طرف تھا۔ ڈیلسے روڈریگز نے جنوری میں اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکی فوجی کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا تاکہ ان پر منشیات کے الزامات سے متعلق مقدمہ چلایا جا سکے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان اس سوال کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے کہ آیا امریکہ اور اسرائیل ایران کے خاتمے کے خواہاں ہیں یا صرف اس کی پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس میں مختصر گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ’اپنا ملک واپس لینے میں مدد کریں۔‘

اس بار انہوں نے وعدہ کیا کہ جنگ اور موجودہ ایرانی حکومت کے تحت جاری خطرات کے دوران امریکہ انہیں ’استثنیٰ‘ فراہم کرے گا۔

بقول ٹرمپ: ’اس طرح آپ مکمل استثنیٰ کے ساتھ بالکل محفوظ ہوں گے۔‘ تاہم انہوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں دی کہ اس استثنیٰ کا مطلب کیا ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ورنہ آپ کو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔‘

یہ جنگ ہر روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر مزید 14 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جمعرات کو آذربائیجان نے ایران پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا، جس کی تہران نے تردید کی۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ بدھ کو سری لنکا کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز کو تباہ کرنے پر امریکہ کو ’سخت پچھتاوا‘ ہوگا۔

دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے اتحادی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی بڑھنے کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا کی وارننگ جاری کی۔ اقوام متحدہ کے امن دستوں نے جنوبی لبنان میں زمینی جھڑپوں کی اطلاع دی کیونکہ مزید اسرائیلی فوجی سرحد پار کر گئے۔

اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ملک گیر حملے جاری رکھے، جن کا ہدف اس کی عسکری صلاحیتیں، قیادت اور جوہری پروگرام تھے۔

ایران کے حملوں نے اس کے عرب ہمسایہ ممالک کو بھی نشانہ بنایا، تیل کی فراہمی کو متاثر کیا اور عالمی فضائی سفر میں خلل ڈالا۔ حکام کے مطابق جنگ میں ایران میں کم از کم 1,230 افراد، لبنان میں 120 سے زائد اور اسرائیل میں تقریباً ایک درجن افراد کی اموات ہو چکی ہیں جبکہ 6 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔

ایران پر حملے کے ٹرمپ کے فیصلے کو جمعرات کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قانون سازوں کی اتنی حمایت ملی کہ حملے روکنے کی قرارداد ناکام ہو گئی۔ ایک دن پہلے سینیٹ نے بھی اسی طرح کی ایک تجویز مسترد کر دی تھی۔


صبح 7 بج کر 15 منٹ: ایران کے 30 سے زائد جہاز ڈبو چکے ہیں: امریکی سینٹ کام

امریکی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ ایک ایرانی ڈرون بردار جہاز کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی گئی ہے۔

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں سیاہ و سفید ویڈیو دکھائی گئی جس میں متعدد حملوں کے بعد جہاز کو آگ لگتی دکھائی دے رہی تھی۔ تاہم ایرانی فوج نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتی ہے، سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو عسکری طاقت میں مزید اضافے کی تفصیلات بتائیں۔

انہوں نے کہا: ’اس میں مزید لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن، مزید صلاحیتیں اور مزید دفاعی صلاحیتیں شامل ہیں۔ اور بمبار طیاروں کے حملے زیادہ کثرت سے ہوں گے۔‘

امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے 30 سے زائد جہاز ڈبو چکی ہیں، جن میں ایک ڈرون بردار جہاز بھی شامل ہے جو ’تقریباً دوسری عالمی جنگ کے طیارہ بردار جہاز کے سائز کا تھا۔‘

ادھر اسرائیل کے اعلیٰ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ حملوں کی لہروں نے ایران کے 80 فیصد فضائی دفاعی نظام اور 60 فیصد میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا: ’خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔‘

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


صبح 6 بج کر 45 منٹ: ایران کا مؤقف بدستور سخت

مصر میں ایران کے سفیر مجتبیٰ فردوسی پور نے جمعرات کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے بڑھتی ہوئی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی کہ ایران مذاکرات چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے 2 بار مذاکرات ناکام ہونے اور جنگ پر مذاکرات ختم ہونے کے بعد اعتماد کی کمی ایسی کسی بات چیت کو ناممکن بنا دیتی ہے۔

انہوں نے کہا: ’ٹرمپ پر کوئی اعتماد نہیں ہوگا۔‘

اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بحریہ پر الزام لگایا کہ اس نے بحرِ ہند میں ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو ڈبو کر ’سمندر میں ایک سنگین جرم‘ کیا، جس سے کم از کم 87 افراد جان سے گئے۔

یہ ایرانی جہاز انڈین بحریہ کی میزبانی میں ہونے والی ایک مشق سے واپس آ رہا تھا جس میں امریکہ بھی شریک تھا۔ سری لنکا کے حکام نے کہا کہ عملے کے 32 ارکان کو بچا لیا گیا۔ عراقچی کے مطابق جہاز پر ’تقریباً 130‘ افراد سوار تھے۔

بعد میں ایک ایرانی عالم دین نے سرکاری ٹی وی پر اسرائیل اور ’ٹرمپ کے خون‘ بہانے کی اپیل کی۔

یہ بیان آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی کی جانب سے دیا گیا، جو اعلیٰ ترین مذہبی عہدوں میں سے ایک پر فائز ہیں۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)


صبح 6 بج کر 30 منٹ: بیروت کے مضافات کے لیے اسرائیلی انخلا کی وارننگ

اسرائیل نے جمعرات کی شام بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، اس سے پہلے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ ’اپنی جانیں بچائیں اور فوراً اپنے گھروں سے نکل جائیں۔‘

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد اموات کی تعداد بڑھ کر 123 ہو گئی ہے۔

جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے ترجمان تیلاک پوکھریل نے جمعرات کو کہا کہ امن دستوں نے جنوبی لبنان میں جھڑپیں دیکھی اور سنی ہیں، جن میں زمینی لڑائی بھی شامل ہے، کیونکہ مزید اسرائیلی افواج سرحد پار کر چکی ہیں۔


صبح 6 بجے: خلیجی ممالک نشانے پر

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خلیجی ممالک نے بھی جمعرات کو حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ کویت میں امریکی سفارت خانہ بند کیا جا رہا ہے، جہاں آنے والے میزائلوں کے جواب میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔

ایران نے امریکی اتحادی کویت پر میزائلوں اور ڈرونز کی کئی لہریں داغی ہیں، جہاں اتوار کو ایک ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجیوں کی اموات ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس کے قریب ایک ڈرون مار گرایا گیا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ حکام نے کہا کہ گرنے والے دھاتی ٹکڑوں سے کئی افراد زخمی ہوئے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

قطر نے احتیاطی تدبیر کے طور پر دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہائشیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا اور بعد میں میزائل حملے کی اطلاع دی۔ سعودی عرب نے کہا کہ اس نے اردن سے ملحق ایک صوبے میں ایک ڈرون تباہ کر دیا۔

بحرین نے کہا کہ جمعرات کو ایک ایرانی میزائل نے سرکاری آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا جس سے آگ لگ گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے ایران پر ’بلا جواز دہشت گردی اور جارحیت‘ کا الزام عائد کیا جب جمعرات کو ایک ڈرون ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہوا، جس سے چار شہری کارکن زخمی ہو گئے۔ ایک اور ڈرون ایک سکول کے قریب گرا۔

تاہم ایران نے آذربائیجان کی جانب ڈرون بھیجنے کی تردید کی۔ ایران بارہا تیل کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی بھی تردید کرتا رہا ہے۔

خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز میں بھی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ مریکی اسٹاک مارکیٹ میں کمی آئی۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا