|
تازہ ترین
|
جنگ کے پہلے دن کا احوال — دوسرے دن کا احوال — تیسرے دن کا احوال — چوتھے دن کا احوال — پانچویں دن کا احوال — چھٹے دن کے احوال لیے یہاں کلک کریں
رات سات بج کر 35 منٹ: ایران سے سوائے غیرمشروط سرینڈر کے کوئی ڈیل نہیں ہوگی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ غیر مشروط ہتھیار ڈال دے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے ذاتی پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں مزید کہا کہ اس کے بعد اور ایک عظیم اور قابل قبول قیادت کے انتخاب کے بعد، امریکہ اور اس کے بہادر اتحادی ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے انتھک محنت کریں گے تاکہ اسے (ایران کو) اقتصادی طور پر پہلے سے بھی بڑا، بہتر اور مضبوط بنائیں گے۔
ٹرمپ نے کہا: ’ایران کا مستقبل شاندار ہوگا۔ ایران کو دوبارہ عظیم بنائیں (میک ایران گریٹ اگین)۔
شام چھ بج کر 05 منٹ: بعض ممالک نے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں: ایرانی صدر
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے جمعے کہا ہے کہ بعض ممالک نے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں شروع کر دی ہیں تاہم ایران اپنی قومی عزت اور خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
Some countries have begun mediation efforts. Let's be clear: we are committed to lasting peace in the region yet we have no hesitation in defending our nation's dignity & sovereignty. Mediation should address those who underestimated the Iranian people and ignited this conflict https://t.co/MxWCuNYOYR
— Masoud Pezeshkian (@drpezeshkian) March 6, 2026
ایکس پر اپنے بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’ایران خطے میں دیرپا امن کے لیے پُرعزم ہے لیکن اپنی قوم کی عزت اور خودمختاری کے دفاع میں کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ثالثی کی کوششوں کا رخ ان قوتوں کی طرف ہونا چاہیے جنہوں نے ایرانی عوام کو کم تر سمجھا اور اس تنازع کو بھڑکایا۔‘
شام پانچ بج کر 45 منٹ: ایران پر حملے کے خلاف مذہبی جماعتوں کا ملک گیر احتجاج
گذشتہ ہفتے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے قتل کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے جمعے کو ملک گیر احتجاج کیا گیا جہاں لاہور، کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں متعدد سڑکیں بند کر دی گئیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں حافظ نعیم الرحمٰن نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے خلاف آج ملک بھر میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ مذہبی جماعت مجلس وحدت مسلمین پاکستان نے بھی آج سندھ بھر میں، خصوصاً کراچی میں، احتجاج کی کال دی تھی۔
کراچی ٹریفک پولیس نے مظاہروں کے پیش نظر شہر کی متعدد اہم سڑکیں بند کرنے کا اعلان کیا۔
مختلف جماعتوں کی جانب سے ایران پر حملہ کے خلاف یوم احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ رہی۔
ریڈزون کی طرف جانے کیلئے دو راستوں کے علاوہ تمام داخلی راستے بند رہے۔
لاہور میں بھی جماعت اسلامی کا امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جہاں منصورہ کے باہر احتجاج میں کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت۔
شرکا نے اس موقعے پر امریکہ و اسرائیل کیخلاف شدید نعرے بازی کی۔
دو بج کر 53 منٹ: پاکستانی فضائی حدود میں پروازوں کی تعداد نہیں بڑھی: ایئرپورٹس اتھارٹی
پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے وضاحت کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے والی پروازوں کی تعداد میں مستقل اضافہ اور لاکھوں ڈالر کی آمدن محض قیاس آرائیاں ہیں۔
اتھارٹی نے جمعے کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ اوور فلائٹ ریونیو کا انحصار صرف پروازوں کی تعداد پر نہیں بلکہ فاصلے اور نیویگیشن چارجز سمیت کئی عوامل پر ہوتا ہے۔ پاکستانی فضائی حدود میں اوور فلائٹس میں 15 فیصد اضافے کی خبریں درست نہیں تاہم مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے بعد اوور فلائٹ ٹریفک میں عارضی اضافہ دیکھا گیا۔
دو بج کر 22 منٹ: امریکہ خلیجی ممالک اور یوکرین کے لیے میزائل نہیں دے سکتا: یورپی یونین
اے ایف پی کے مطابق یورپی کمشنر برائے دفاع اور خلائی امور آندریئس کوبیلیئس نے جمعے کو کہا ہے کہ امریکہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ خلیجی ریاستوں اور یوکرین کو اپنے دفاع کے لیے کافی تعداد میزائل فراہم کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ۔اسرائیل جنگ کے بعد ’امریکی واقعی اتنے میزائل فراہم نہیں کر سکیں گے، نہ خلیجی ممالک کے لیے، نہ خود امریکی فوج کے لیے، اور نہ ہی یوکرین کی ضروریات کے لیے۔‘
دو بج کر 15 منٹ: ایران جنگ: جنوبی کوریا میں موجود امریکی پیٹریاٹ میزائل یونٹس کی منتقلی پر غور
جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے جمعے کو کہا ہے کہ واشنگٹن اور سیئول کی افواج جنوبی کوریا میں موجود امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کے کچھ یونٹ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بنانے کے لیے ان کی منتقلی پر غور کر رہی ہیں۔
روئٹرز کے مطابق چو ہیون پارلیمانی سماعت میں سوالات کا جواب دے رہے تھے، جہاں ان سے پوچھا گیا کہ امریکی موبائل میزائل انٹرسیپٹر نظام کے یونٹس کو ملک کے دیگر مقامات سے جنوبی کوریا کے اوسان ایئر بیس منتقل کیا گیا ہے۔
چو ہیون نے کہا کہ وہ اس بارے میں تبصرہ نہیں کر سکتے کہ آیا امریکہ جلد ہی پیٹریاٹ میزائل ایران کے خلاف تنازع میں استعمال کے لیے منتقل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
جنوبی کوریا میں امریکہ کی بڑی فوجی موجودگی ہے جو جوہری ہتھیاروں سے لیس شمالی کوریا کے خلاف مشترکہ دفاع کے لیے قائم ہے، جہاں تقریباً28 ہزار 500 امریکی فوجی اور فضائی دفاعی نظام، بشمول پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز موجود ہیں۔
دوپہر 1 بج کر 20 منٹ: ایران کے لیے جاسوسی کے شبہ میں چار افراد گرفتار: برطانوی پولیس
برطانوی پولیس نے جمعے کو ایران کے لیے جاسوسی کے شبہ میں چار افراد کو گرفتار کر لیا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ گرفتاریاں ان مقامات کی نگرانی سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں کی گئیں جو یہودی برادری سے منسلک ہیں۔
دن 12 بجے: سری لنکا نے اپنے ساحل کے قریب ایک ایرانی بحری جہاز پر کنٹرول حاصل کر لیا
سری لنکا نے جمعے کو ایک ایرانی بحری جہاز سے 200 سے زائد ملاحوں کو ساحل کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیا۔ یہ جہاز ملک کے پانیوں کے باہر لنگر انداز تھا اور اس نے مدد کی درخواست کی تھی۔
یہ اقدام بحیرہ ہند میں کشیدگی بڑھنے کے بعد اٹھایا گیا، جب ایک امریکی آبدوز نے ایک ایرانی جنگی جہاز کو نشانہ بنا کر اسے ڈبو دیا تھا۔
سری لنکن بحریہ کے ترجمان کمانڈر بدھیکا سمپتھ نے بتایا کہ آئی آر آئی ایس بشہر نامی جہاز کے ملاح پہلے کولمبو بندرگاہ پہنچائے جائیں گے اور بعد میں جہاز کو جزیرے کی مشرقی بندرگاہ پر منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا: ’ملاحوں کی منتقلی کا عمل جاری ہے۔‘ انہوں نے مزید بتایا کہ طبی معائنے اور امیگریشن کے عمل کے بعد ملاحوں کو ویلیسارا نیول بیس لے جایا جائے گا، جو کولمبو کے شمال میں تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔
سری لنکا کی حکومت کی جانب سے جہاز پر کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ امریکہ کی جانب سے بدھ کو سری لنکن ساحل کے قریب ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس دینا کو نشانہ بنا کر ڈبوئے جانے کے کے بعد کیا گیا۔ یہ حملہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کے چند نادر مواقع میں سے ایک تھا، جس میں ایک آبدوز نے جنگی جہاز کو نشانہ بنایا۔
آئی آر آئی ایس دینا نے انڈیا کے میزبان نیول مشقوں میں حصہ لیا تھا اور پھر بین الاقوامی پانیوں کی طرف روانہ ہوا۔
حملے کے بعد سری لنکن بحریہ نے 32 ملاحوں کو بچایا اور 87 لاشیں برآمد کیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس واقعے کو ’سمندر میں ظلم‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اس حملے پر ’شدید پچھتائے گا۔‘
سری لنکا کے صدر انورا کمارا دسنا یکے نے جمعرات کی رات کہا کہ ایرانی حکام اور جہاز کے کپتان سے بات چیت کے بعد حکومت نے آئی آر آئی ایس بشہر پر کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ کیا، جب جہاز کا ایک انجن فیل ہو گیا۔
صدر نے صحافیوں کو بتایا: ’ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ معمول کی صورت حال نہیں ہے۔ یہ ایک جہاز کی جانب سے ہماری بندرگاہ میں داخل ہونے کی درخواست ہے، جسے بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشن کے مطابق دیکھا جانا چاہیے۔‘
جمعے کو صدر نے ایک الگ بیان میں لکھا: ’کسی بھی شہری کو جنگ میں نہیں مارا جانا چاہیے۔ ہمارا رویہ یہ ہے کہ ہر زندگی ہمارے لیے اتنی ہی قیمتی ہے جتنی اپنی۔‘
ایران کی پچھلی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئی آر آئی ایس بشہر ایک نیول لاجسٹکس جہاز تھا، جس پر ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈ بھی موجود تھا۔
سری لنکن صدر نے مزید کہا کہ کچھ عملے کے افراد جہاز پر رہیں گے تاکہ سری لنکا کی بحریہ کو ٹرنکومالی، جزیرے کے شمال مشرقی ساحل پر پہنچانے میں مدد کریں۔ باقی ملاحوں کو نیول بیس میں رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سری لنکا غیر جانبداری کی پالیسی کے تحت انسانی ہمدردی کے اصولوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
صدر نے مزید کہا: ’ہم نے واضح موقف اپنایا ہے۔ ہم کسی ریاست کے حق میں نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی ریاست کے سامنے جھکیں گے۔‘
صبح 10 بج کر 5 منٹ: اتحاد ایئر ویز کا آج سے کمرشل پروازیں شروع کرنے کا اعلان
ابوظبی کی قومی ایئر لائن اتحاد ایئر ویز نے چھ مارچ (آج) سے محدود کمرشل پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
فضائی کمپنی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ایئر لائن ابوظبی اور کئی اہم مقامات کے درمیان آپریٹ کریں گی۔
ایئر لائن نے مسافروں سے کہا ہے کہ اتحاد ایئر ویز کی جانب سے فون پر رابطے کے بغیر ایئر پورٹ جانے سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
صبح 9 بج کر 30 منٹ: اسرائیل کے ایران اور لبنان میں مزید حملے
اسرائیل نے جمعے کو صبح سویرے فضائی حملوں میں ایران اور لبنان کے دارالحکومتوں کو شدید نشانہ بنایا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق اسرائیلی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران پر ’وسیع پیمانے پر حملوں کی ایک بڑی لہر‘ شروع کر دی ہے۔
عینی شاہدین نے اسرائیلی فضائی حملوں کو غیر معمولی طور پر شدید قرار دیا، جن سے علاقے میں گھروں تک لرز گئے۔
بعض افراد نے ایرانی شہر کرمانشاہ کے اطراف میں بھی دھماکوں کی اطلاع دی، جہاں متعدد میزائل اڈے موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق حملوں میں ایران کے بیشتر فضائی دفاعی نظام اور میزائل لانچر پہلے ہی تباہ کر دیے گئے ہیں۔
صبح 8 بجے: ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں مجھے شامل کیا جانا چاہیے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ ایران کے اگلے سپریم لیڈر کے انتخاب میں انہیں بھی شامل ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور نیا سپریم لیڈر مسترد کر دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو چھ روز ہو چکے ہیں اور ایران نے بھی جوابی حملے جاری رکھتے ہوئے اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خطے کے دیگر ممالک کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کو دیے گئے بیان میں ٹرمپ نے مجتبیٰ خامنہ ای کو بطور نیا سپریم لیڈر مسترد کر دیا، جو اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی جگہ لینے کے لیے ایک مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے تھے۔ علی خامنہ ای جنگ کے ابتدائی حملوں میں جان سے چلے گئے تھے۔
ٹرمپ نے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای، جو کبھی کسی سرکاری عہدے کے لیے منتخب یا مقرر نہیں ہوئے، کو ’کمزور شخصیت‘ قرار دیا۔
امریکی صدر نے کہا: ’ہم ایران میں ایسے شخص کو چاہتے ہیں جو ہم آہنگی اور امن لائے۔‘
انہوں نے کہا: ’مجھے تقرری کے عمل میں شامل ہونا ہوگا، جیسے وینزویلا میں ڈیلسے کے معاملے میں ہوا تھا۔‘ یہاں ٹرمپ کا اشارہ جنوبی امریکی ملک کے قائم مقام صدر کی طرف تھا۔ ڈیلسے روڈریگز نے جنوری میں اس وقت اقتدار سنبھالا تھا جب امریکی فوجی کارروائی میں صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے امریکہ منتقل کر دیا گیا تاکہ ان پر منشیات کے الزامات سے متعلق مقدمہ چلایا جا سکے۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کا یہ بیان اس سوال کو دوبارہ زندہ کر سکتا ہے کہ آیا امریکہ اور اسرائیل ایران کے خاتمے کے خواہاں ہیں یا صرف اس کی پالیسیوں میں تبدیلی چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں مختصر گفتگو کے دوران ٹرمپ نے ایک بار پھر ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ ’اپنا ملک واپس لینے میں مدد کریں۔‘
اس بار انہوں نے وعدہ کیا کہ جنگ اور موجودہ ایرانی حکومت کے تحت جاری خطرات کے دوران امریکہ انہیں ’استثنیٰ‘ فراہم کرے گا۔
بقول ٹرمپ: ’اس طرح آپ مکمل استثنیٰ کے ساتھ بالکل محفوظ ہوں گے۔‘ تاہم انہوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں دی کہ اس استثنیٰ کا مطلب کیا ہے۔
ساتھ ہی انہوں نے کہا: ’ورنہ آپ کو یقینی موت کا سامنا ہوگا۔‘
یہ جنگ ہر روز شدت اختیار کرتی جا رہی ہے اور مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر مزید 14 ممالک کو متاثر کر چکی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جمعرات کو آذربائیجان نے ایران پر ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا، جس کی تہران نے تردید کی۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ بدھ کو سری لنکا کے قریب ایک ایرانی جنگی جہاز کو تباہ کرنے پر امریکہ کو ’سخت پچھتاوا‘ ہوگا۔
دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے اتحادی عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی بڑھنے کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات کے لیے بڑے پیمانے پر انخلا کی وارننگ جاری کی۔ اقوام متحدہ کے امن دستوں نے جنوبی لبنان میں زمینی جھڑپوں کی اطلاع دی کیونکہ مزید اسرائیلی فوجی سرحد پار کر گئے۔
اسی دوران امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر ملک گیر حملے جاری رکھے، جن کا ہدف اس کی عسکری صلاحیتیں، قیادت اور جوہری پروگرام تھے۔
ایران کے حملوں نے اس کے عرب ہمسایہ ممالک کو بھی نشانہ بنایا، تیل کی فراہمی کو متاثر کیا اور عالمی فضائی سفر میں خلل ڈالا۔ حکام کے مطابق جنگ میں ایران میں کم از کم 1,230 افراد، لبنان میں 120 سے زائد اور اسرائیل میں تقریباً ایک درجن افراد کی اموات ہو چکی ہیں جبکہ 6 امریکی فوجی بھی مارے گئے ہیں۔
ایران پر حملے کے ٹرمپ کے فیصلے کو جمعرات کو امریکی ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن قانون سازوں کی اتنی حمایت ملی کہ حملے روکنے کی قرارداد ناکام ہو گئی۔ ایک دن پہلے سینیٹ نے بھی اسی طرح کی ایک تجویز مسترد کر دی تھی۔
صبح 7 بج کر 15 منٹ: ایران کے 30 سے زائد جہاز ڈبو چکے ہیں: امریکی سینٹ کام
امریکی فوج نے جمعے کی صبح کہا کہ ایک ایرانی ڈرون بردار جہاز کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی گئی ہے۔
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے جاری کردہ پیغام میں سیاہ و سفید ویڈیو دکھائی گئی جس میں متعدد حملوں کے بعد جہاز کو آگ لگتی دکھائی دے رہی تھی۔ تاہم ایرانی فوج نے فوری طور پر اس حملے کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ، جو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی افواج کی نگرانی کرتی ہے، سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے جمعرات کو عسکری طاقت میں مزید اضافے کی تفصیلات بتائیں۔
انہوں نے کہا: ’اس میں مزید لڑاکا طیاروں کے سکواڈرن، مزید صلاحیتیں اور مزید دفاعی صلاحیتیں شامل ہیں۔ اور بمبار طیاروں کے حملے زیادہ کثرت سے ہوں گے۔‘
امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی افواج ایران کے 30 سے زائد جہاز ڈبو چکی ہیں، جن میں ایک ڈرون بردار جہاز بھی شامل ہے جو ’تقریباً دوسری عالمی جنگ کے طیارہ بردار جہاز کے سائز کا تھا۔‘
ادھر اسرائیل کے اعلیٰ جنرل لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ حملوں کی لہروں نے ایران کے 80 فیصد فضائی دفاعی نظام اور 60 فیصد میزائل لانچرز کو تباہ کر دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا: ’خطرہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔‘
صبح 6 بج کر 45 منٹ: ایران کا مؤقف بدستور سخت
مصر میں ایران کے سفیر مجتبیٰ فردوسی پور نے جمعرات کو ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ایران نے بڑھتی ہوئی جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست نہیں کی۔ انہوں نے ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی کہ ایران مذاکرات چاہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے 2 بار مذاکرات ناکام ہونے اور جنگ پر مذاکرات ختم ہونے کے بعد اعتماد کی کمی ایسی کسی بات چیت کو ناممکن بنا دیتی ہے۔
انہوں نے کہا: ’ٹرمپ پر کوئی اعتماد نہیں ہوگا۔‘
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی بحریہ پر الزام لگایا کہ اس نے بحرِ ہند میں ایرانی فریگیٹ آئی آر آئی ایس ڈینا کو ڈبو کر ’سمندر میں ایک سنگین جرم‘ کیا، جس سے کم از کم 87 افراد جان سے گئے۔
یہ ایرانی جہاز انڈین بحریہ کی میزبانی میں ہونے والی ایک مشق سے واپس آ رہا تھا جس میں امریکہ بھی شریک تھا۔ سری لنکا کے حکام نے کہا کہ عملے کے 32 ارکان کو بچا لیا گیا۔ عراقچی کے مطابق جہاز پر ’تقریباً 130‘ افراد سوار تھے۔
بعد میں ایک ایرانی عالم دین نے سرکاری ٹی وی پر اسرائیل اور ’ٹرمپ کے خون‘ بہانے کی اپیل کی۔
یہ بیان آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی کی جانب سے دیا گیا، جو اعلیٰ ترین مذہبی عہدوں میں سے ایک پر فائز ہیں۔
صبح 6 بج کر 30 منٹ: بیروت کے مضافات کے لیے اسرائیلی انخلا کی وارننگ
اسرائیل نے جمعرات کی شام بیروت کے جنوبی مضافات پر حملہ کیا، اس سے پہلے رہائشیوں کو خبردار کیا گیا تھا کہ ’اپنی جانیں بچائیں اور فوراً اپنے گھروں سے نکل جائیں۔‘
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی کے بعد اموات کی تعداد بڑھ کر 123 ہو گئی ہے۔
جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج کے ترجمان تیلاک پوکھریل نے جمعرات کو کہا کہ امن دستوں نے جنوبی لبنان میں جھڑپیں دیکھی اور سنی ہیں، جن میں زمینی لڑائی بھی شامل ہے، کیونکہ مزید اسرائیلی افواج سرحد پار کر چکی ہیں۔
صبح 6 بجے: خلیجی ممالک نشانے پر
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق خلیجی ممالک نے بھی جمعرات کو حملوں کی اطلاع دی۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ کویت میں امریکی سفارت خانہ بند کیا جا رہا ہے، جہاں آنے والے میزائلوں کے جواب میں فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
ایران نے امریکی اتحادی کویت پر میزائلوں اور ڈرونز کی کئی لہریں داغی ہیں، جہاں اتوار کو ایک ڈرون حملے میں 6 امریکی فوجیوں کی اموات ہوئیں۔
متحدہ عرب امارات میں الظفرہ ایئر بیس کے قریب ایک ڈرون مار گرایا گیا، جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔ حکام نے کہا کہ گرنے والے دھاتی ٹکڑوں سے کئی افراد زخمی ہوئے۔
قطر نے احتیاطی تدبیر کے طور پر دوحہ میں امریکی سفارت خانے کے قریب رہائشیوں کو عارضی طور پر منتقل کیا اور بعد میں میزائل حملے کی اطلاع دی۔ سعودی عرب نے کہا کہ اس نے اردن سے ملحق ایک صوبے میں ایک ڈرون تباہ کر دیا۔
بحرین نے کہا کہ جمعرات کو ایک ایرانی میزائل نے سرکاری آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا جس سے آگ لگ گئی، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے ایران پر ’بلا جواز دہشت گردی اور جارحیت‘ کا الزام عائد کیا جب جمعرات کو ایک ڈرون ہوائی اڈے کے قریب گر کر تباہ ہوا، جس سے چار شہری کارکن زخمی ہو گئے۔ ایک اور ڈرون ایک سکول کے قریب گرا۔
تاہم ایران نے آذربائیجان کی جانب ڈرون بھیجنے کی تردید کی۔ ایران بارہا تیل کے بنیادی ڈھانچے اور دیگر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کی بھی تردید کرتا رہا ہے۔
خلیجِ عمان اور آبنائے ہرمز میں بھی جہازوں پر حملے ہوئے ہیں، جہاں سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس کے باعث تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ مریکی اسٹاک مارکیٹ میں کمی آئی۔