|
ایران - امریکہ لڑائی کے پہلے دن کا احوال یہاں جانیے
ایران - امریکہ لڑائی کے دوسرے دن کا احوال یہاں جانیے
رات 10 بج کر 30 منٹ: ایران کی صورت حال پر گہری نظر، تمام سفارتی کوششیں کر رہے ہیں: اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے پیر کو کہا ہے کہ پاکستان ایران کی صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اسے قریب سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ علاقائی صورتحال انتہائی نازک ہے اور پاکستان تمام متعلقہ علاقائی و دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔
دفتر خارجہ اسلام آباد میں ڈپلومیٹک کمیونٹی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی تمام تر سفارتی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے اور ہماری ہر ممکن کوشش کشیدگی کم کرانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام ریاستیں ایک دوسرے کی علاقائی خودمختاری کے احترام اور عالمی قوانین کی پابندی کی پابند ہیں، جب کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ مذاکرات اور سفارتکاری ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو خلیجی ممالک پر ایرانی حملوں پر انتہائی افسوس ہے، تاہم ان کے بقول ایران کی جانب سے یہ حملے اپنے دفاع میں کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مسلسل مذاکرات اور سفارتکاری پر زور دیتا آ رہا ہے۔
غزہ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان نے غزہ پیس بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور غزہ میں امن کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یو اے ای میں ایک حملے کے نتیجے میں ایک پاکستانی شہری جان سے گیا ہے، جس پر حکومت پاکستان نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے نائب وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال انہوں نے افغانستان کے تین دورے کیے، جن کے دوران تجارت، معیشت اور دیگر اہم امور پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے اپنے دفاع میں ’آپریشن غضب للحق‘ کا آغاز کیا، جس کے تحت کابل، قندھار، پکتیا، ننگرہار، خوست اور پکتیکا میں ٹارگٹڈ آپریشن کیے گئے، جب کہ افغانستان کی 34 چیک پوسٹوں پر قبضہ کر کے 100 سے زائد کو تباہ کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن ہمسائیگی کا خواہاں ہے اور افغان طلبہ کے لیے 4,500 وظائف کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے افغان حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، کیونکہ افغان سرزمین سے سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قطر کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکا، جب کہ استنبول مذاکرات بھی بے نتیجہ رہے۔ نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے تمام محفوظ اقدامات کا حق رکھتا ہے۔
رات 8 بج کر 45 منٹ: ٹرانزٹ مسافروں کو نکالنے کے لیے ابوظبی سے متعدد پروازیں روانہ
اتحاد ایئرویز کے 15 مسافر طیارے پیر کی شام تین گھنٹوں کے دوران ابوظبی سے روانہ ہوئے جن کا مقصد جاری تنازع کے باعث ایئرپورٹ پر پھنسے ٹرانزٹ مسافروں کو منتقل کرنا تھا۔
فلائٹ ریڈار 24 کے مطابق اس کے علاوہ دو اتحاد ایئرویز کارگو طیارے، دو انڈیگو ایئربس اے320 طیارے اور ایک لفتھانسا اے380 طیارہ بھی ابوظبی سے روانہ ہوا۔
دوسری جانب اتحاد ایئرویز کے مطابق ابوظبی آنے اور جانے والی معمول کی تمام پروازیں منگل تین مارچ کو مقامی وقت دوپہر دو بجے تک معطل رہیں گی۔
رات 8 بج کر 15 منٹ: ایرانی حملوں کے بعد ’قطر انرجی‘ نے ایل این جی کی پیداوار روک دی
خلیجی ملک کی گیس کمپنی ’قطر انرجی‘ نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ تنصیبات پر فوجی حملوں کے بعد مائع قدرتی گیس (ایل این جی) اور متعلقہ مصنوعات کی پیداوار عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
کمپنی کے مطابق راس لفان انڈسٹریل سٹی اور مسیعید انڈسٹریل سٹی میں واقع آپریٹنگ تنصیبات متاثر ہونے کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔
قطر انرجی نے کہا ہے کہ وہ اپنے تمام شراکت داروں سے رابطے میں ہے اور صورتحال سے متعلق تازہ معلومات جاری کرتی رہے گی۔
رات 8 بج کر 15 منٹ: نواز شریف کا آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر افسوس کا اظہار
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے امریکی اور اسرائیلی حملے میں قتل پر اپنے تعزیتی پیغام میں ایران کی حکومت اور عوام سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر جاری بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ’یہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم اور حساس لمحہ ہے کیونکہ اس نوعیت کا نقصان گہرے جذباتی، سیاسی اور قومی اثرات رکھتا ہے۔ انہوں نے سوگ کی اس گھڑی میں ایرانی قوم کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے تمام سوگوار خاندانوں سے تعزیت کی۔‘
اپنے پیغام میں نواز شریف نے خطے میں استحکام، امن اور ممالک کے درمیان باہمی احترام کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے ایرانی قوم کے لیے اس ’بڑے اور ناقابل تلافی نقصان‘ کا سامنا کرنے کے لیے حوصلہ اور ثابت قدمی کی دعا بھی کی۔
رات 8 بجے: ایران جنگ کی آگ بحیرہ روم تک پھیل گئی، قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر حملہ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر پیر کے روز ایک بغیر پائلٹ ڈرون کے ذریعے حملہ کیا گیا جس کے بعد ارد گرد کے علاقے کو خالی کرانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی ڈرون نے برطانیہ کے زیر انتظام اکروٹیری ایئر فورس بیس کے رن وے کو نشانہ بنایا۔
یہ حملہ برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی فوجی حملے میں شامل نہیں ہوگا۔
قبرص کی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ملک کے جنوبی ساحل پر واقع اس بحیرہ روم جزیرے کے فوجی اڈے کے اطراف کے علاقے کو خالی کروا دیا گیا۔
حملے کے بعد مغربی قبرص میں واقع پافوس ائیرپورٹ کو بھی خالی کرایا گیا تاہم بعد میں یہاں صورت حال معمول پر آگئی اور پروازیں دوبارہ شروع ہو گئیں۔
شام 6 بج کر 45 منٹ: ایران جنگ میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد چار ہو گئی
امریکی سنٹرل کمانڈ کے مطابق ایران سے جاری جھڑپوں کے دوران مارے ہونے والے امریکی فوجی اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر چار ہو گئی ہے۔
ایکس پر جاری بیان کے مطابق چوتھا اہلکار ایران کے ابتدائی حملوں میں شدید زخمی ہوا تھا اور بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ واقعے کی مزید تفصیلات فی الحال جاری نہیں کی جا رہیں جبکہ فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔
شام 4 بج کر 50 منٹ: کویت میں تین ایف-15 طیارے ’فرینڈلی فائر‘ سے کریش ہوئے: سینٹ کام
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے پیر کو کہا کہ کویت کی فضائی حدود میں آپریشن کے دوران امریکہ کے تین ایف-15 ای سٹرائیک ایگل طیارے مبینہ طور پر ’فرینڈلی فائر‘ کے واقعے میں تباہ ہو گئے۔
بیان میں کہا گیا کہ ایرانی طیاروں، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون حملوں کے دوران امریکی فضائیہ کے جنگی طیاروں کو غلطی سے کویت کے فضائی دفاعی نظام نے نشانہ بنایا۔
At 11:03 p.m. ET, March 1, three U.S. F-15E Strike Eagles flying in support of Operation Epic Fury went down over Kuwait due to an apparent friendly fire incident.
Read more:https://t.co/i2y3Q3vo2E
— U.S. Central Command (@CENTCOM) March 2, 2026
سینٹ کام نے کہا: ’کویت نے اس واقعے کو تسلیم کر لیا ہے، اور ہم کویتی دفاعی افواج کی کوششوں اور جاری آپریشن میں ان کی حمایت پر شکر گزار ہیں۔‘
بیان کے مطابق تمام چھ فضائی اہلکار محفوظ طریقے سے ایجیکٹ ہو کر بازیاب کر لیے گئے اور ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔
سہ پہر 3 بج کر 40 منٹ: پاکستانی وزیراعظم کا عمان کے سلطان سے رابطہ، کشیدہ صورت حال پر تبادلہ خیال
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پیر کو عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور دونوں رہنماؤں نے ایران پر اسرائیل کے حملے کے تناظر میں بگڑتی ہوئی موجودہ علاقائی صورت حال تبادلہ خیال کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ کشیدگی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ ایران کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں اور اس سلسلے میں عمان فعال کردار ادا کر رہا تھا۔
بیان میں کہا گیا کہ کہ ’ان حملوں نے نہ صرف اہم سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارا بلکہ خطے میں بات چیت کو فروغ دینے اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچایا۔‘
دونوں رہنماؤں نے مزید کشیدگی کو روکنے اور سفارتی اقدامات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیا اور ’قریبی رابطے میں رہنے اور امن کی بحالی اور دیرپا علاقائی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘
3 بج کر 40 منٹ: پاکستانی پارلیمان کا فاتحہ
پاکستان کی پارلمینٹ نے آج اسلام آباد میں اجلاس میں ایران میں امریکی اسرائیلی حملے سے مارے جانے والے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور دیگر رہنماؤں کی موت پر فاتحہ ادا کیا ہے۔ ایوان زیریں کے سپیکر سردار اياز صادق نے ایوان سے دعا کی درخواست کی۔
3 بج کر 30 منٹ: چینی شہری جان سے گیا
چین کی وزارت خارجہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ ایران کے تنازعے میں دارالحکومت تہران میں ایک چینی شہری مارا گیا ہے جبکہ 3,000 سے زائد کو نکال لیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قریبی ممالک میں اس کے سفارت اور قونصل خانے متاثرین کی مدد کے لیے کارروائی کر رہے ہیں۔
وزارت کے ترجمان ماؤ ننگ نے ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ ہمسایہ ممالک میں چینی سفارت اور قونصل خانوں کی جانب سے قائم کردہ ورک گروپس ان افراد کو وصول کریں گے اور ان کی مدد کریں گے۔
ماؤ نے مزید کہا کہ چین کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
3 بج کر 10 منٹ: پاکستانی شہریوں کی واپسی
پاکستانی شہری 2 مارچ 2026 کو ایران سے واپسی کے بعد تفتان سرحد عبور کر رہے ہیں (تصاویر: بنارس خان / اے ایف پی)
2 بج کر 05 منٹ: ایران کے تل ابیب، حیفہ میں حملے
ایران کے پاسداران انقلاب نے پیر کو کہا ہے کہ انہوں نے تل ابیب میں اسرائیلی حکومت کے ایک کمپلیکس کے علاوہ حیفا میں سکیورٹی و فوجی مراکز اور مشرقی بیت المقدس پر میزائل داغے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق پاسداران انقلاب کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں کا ہدف اسرائیلی حکومت کے ’سرکاری کمپلیکس پر ٹارگٹڈ حملہ، حیفا میں فوجی اور سکیورٹی مراکز پر حملے اور مشرقی بیت المقدس پر حملہ شامل ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ حملے میں خیبر بیلسٹک میزائل کا استعمال کیا گیا۔
1 بج کر 35 منٹ: ایران جنگ: آرامکو کی ایک ریفائنری احتیاطً بند
سعودی عرب میں واقع دنیا کی سب سے بڑی تیل کمپنی آرامکو نے ڈرون حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر ایک ریفائنری بند کر دی ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آرامکو نے راس تنورہ ریفائنری بند کر دی۔ سعودی وزارت دفاع نے العربیہ ٹی وی کو بتایا ہے کہ اس نے دو راس تنورہ ریفائنری کے قریب دو ڈرون کو مار گرایا ہے۔
راس تنورہ کمپلیکس، جو مملکت کے خلیجی ساحل پر واقع ہے، مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ریفائنریوں میں سے ایک پر مشتمل ہے جس کی یومیہ پیداواری صلاحیت 5 لاکھ 50 ہزار بیرل ہے اور یہ سعودی خام تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم ٹرمینل بھی ہے۔
روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ریفائنری کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا اور صورت حال قابو میں ہے۔ آرامکو نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
دوپہر 1 بج کر 25 منٹ: ایران میں اب تک 555 اموات
ایران کی ہلال احمر نے کہا ہے کہ حالیہ امریکی اسرائیلی حملوں کے دوران اب تک ملک میں 555 افراد جان سے گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے ایران پر ہفتے کی صبح سے اتوار تک ایرانی حکومتی اہداف اور فوجی مقامات پر حملوں میں 2,000 سے زائد بم گرائے ہیں۔
جنگ کے پہلے 30 گھنٹوں میں ایران میں اہداف پر گرائے گئے بموں کی مقدار گذشتہ جون 2025 میں 12 روزہ جنگ کے دوران میں گرائے گئے بموں سے تقریبا آدھی ہے۔
آئی اے ایف کے لڑاکا طیاروں نے 700 سے زائد پروازیں کی ہیں۔
دوپہر 1 بج کر 02 منٹ: کویت میں کئی امریکی جنگی طیارے گرے ہیں: کویتی وزارت دفاع
کویت کی وزارت دفاع نے بتایا ہے کہ کئی امریکی جنگی طیارے پیر کی صبح کویت میں گر کر تباہ ہوئے، لیکن ان کا عملہ بچ گیا۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’کئی امریکی جنگی طیارے آج صبح گر کر تباہ ہو گئے۔ تمام عملے کے ارکان زندہ بچ گئے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ گرنے کی وجہ کی تحقیقات جاری ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’حکام نے فوری طور پر تلاش اور بچاؤ کی کارروائیاں شروع کر دیں، عملے کو بچایا اور انہیں طبی معائنہ اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا۔ ان کی حالت مستحکم ہے۔‘
کویتی حکام نے مزید کہا کہ انہوں نے براہ راست امریکی افواج کے ساتھ رابطہ کیا تاکہ حالات کا جائزہ لیا جائے اور مشترکہ تکنیکی اقدامات کیے جاسکیں۔
یہ بیان ایران کی سرکاری اسلامی جمہوریہ نیوز کی خبر کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں ایجنسی نے دعویٰ کیا ایک امریکی F-15 لڑاکا طیارہ کویت میں مار گرایا گیا تھا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر زیر گردش ہے جس ایک طیارہ گرتے دکھائی دے رہا ہے۔
ایرانی فوج نے کہا کہ اس نے کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور بحر ہند میں جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ فوج نے کہا، ’فوج کی زمینی اور بحری افواج کے میزائل یونٹس نے گذشتہ گھنٹوں میں کویت میں امریکی علی السالم ایئر بیس اور شمالی بحر ہند میں دشمن جہازوں کو نشانہ بنایا۔‘
اس نے مزید کہا کہ حملوں میں ’15 کروز میزائل‘ استعمال کیے گئے۔
ادھر خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پیر کو کہا ہے کہ امریکی سفارت خانہ کے اوپر سیاہ دھواں اٹھتے دکھائی دے رہا ہے جبکہ سفارتی مشن نے لوگوں کو عمارت کے قریب نہ آنے کی ہدایت کی ہے۔ ایران کی طرف سے خلیجی خطے پر تیسرے روز بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
اس سے قبل شہر میں سائرن بجے، جب ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں تازہ میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
اے پی نے کویت کی وزارت دفاع کے حوالے سے کہا کہ 'کئی' امریکی جنگی طیارے ملک میں گر کر تباہ ہو چکے ہیں، تمام عملہ بچ گیا۔
اے ایف پی کے مطابق سفارت خانے نے یہ اعلان نہیں کیا کہ اسے نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم ایک سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے لوگوں کو دور رہنے کا مشورہ دیا۔ ’کویت پر میزائل اور یو اے وی حملوں کا مسلسل خطرہ موجود ہے۔ سفارت خانے نہ آئیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا کہ ’امریکی سفارت خانے کا عملہ پناہ گاہوں میں موجود ہے۔‘
وزارتِ داخلہ کویت کے مطابق صبح کے وقت ملک کو نشانہ بنانے والے متعدد ڈرون مار گرائے گئے۔
حکام کے مطابق اب تک ایران کے حملوں میں خلیج میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ایک شخص کویت سٹی میں شامل ہے۔
ایران کی جانب سے خطے کے ممالک پر جاری غیر معمولی بمباری نے فوجی اڈوں کے ساتھ ساتھ شہری ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جن میں رہائشی عمارتیں، ہوٹل، ہوائی اڈے اور بندرگاہیں شامل ہیں۔
صبح 11 بج کر 10 منٹ: خلیج میں اموات کی تعداد پانچ ہوگئی
کئی خلیجی شہروں میں پیر کو زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں ہیں جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے۔ اے ایف پی کے رپورٹرز نے کہا کہ انہوں نے ابوظبی، دبئی، دوحہ، منامہ اور کویت سٹی میں کئی زور دار دھماکوں کی آواز سنیں۔
بحرین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ ایرانی حملوں میں ایک شخص مارا گیا ہے، جو تہران کی مہم کے آغاز کے بعد جزیرہ نما ملک کی پہلی ہلاکت ہے، جس سے ہفتہ کے بعد خلیج میں ہلاکتوں کی کل تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
بحرینی وزارت نے بتایا کہ ایک روکے گئے میزائل کے ملبے نے بندرگاہ پر واقع شہر سلمان میں ایک غیر ملکی جہاز میں آگ لگا دی، جس سے ایک کارکن جان سے گیا اور دو شدید زخمی ہوئے۔
صبح 10 بج کر 50 منٹ: اسلام آباد میں آج امریکی ویزہ سروس بند
اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ویزا اور امریکن سٹیزن سروسز کے لیے تمام اپائنٹمنٹس آج، 2 مارچ کو اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے اور کراچی و لاہور میں امریکی قونصل خانوں میں منسوخ کر دی گئی ہیں۔
UPDATE: All appointments for U.S. visas and American Citizen Services are canceled for today, March 2 at the U.S. Embassy in Islamabad and the U.S. Consulates General in Karachi and Lahore. For more info: https://t.co/LLRbFcy7bZ
— U.S. Embassy Islamabad (@usembislamabad) March 2, 2026
صبح 10 بج کر 39 منٹ: تہران میں حکومتی چینل پر حملہ
حکومت ایران کے سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ تہران میں سرکاری نشریاتی ادارے اسلامی جمہوریہ ایران براڈکاسٹنگ کے چینل 2 کی ایک عمارت پر بھی میزائل گرے ہیں۔
سرکاری چینل پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ تہران کی الوند سٹریٹ پر واقع چینل 2 کی عمارت کو اتوار کو نشانہ بنایا گیا۔
حملے کے باوجود نشریاتی ادارے نے کہا کہ اس کے چینلز بشمول چینل 2 کی نشریات بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں اور ٹیلی ویژن کی مجموعی نشریات میں کسی قسم کی رکاوٹ کی اطلاع نہیں ہے۔
صبح 10 بج کر 30 منٹ: ایران سے پاکستانیوں کی واپسی جاری
ایران میں جاری جنگ کے پیش نظر وہاں مقیم پاکستانی شہریوں میں سے اب تک 70 سے زائد پاکستانی واپس اپنے وطن پہنچ چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ سرحدی مقامات پر امیگریشن حکام 24 گھنٹے ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں تاکہ آمد و رفت کا عمل مؤثر اور منظم بنایا جا سکے۔
In last two days we have evacuated about 650 of our nationals across Iran most of whom were students . Moreover we are guiding and facilitating every Pakistani national seeking our advice on a variety of issues amidst a complex security environment. We thank Iranian government ,…
— Ambassador Mudassir (@AmbMudassir) March 2, 2026
اس کے علاوہ بارڈر سے ملحقہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ واپس آنے والے مسافروں کو ہر ممکن سہولیات اور ضروری معاونت فراہم کی جائے۔
ڈپٹی کمشنر چاغی کے مطابق تفتان کے راستے گذشتہ شب زاہدان سے 19 طالب علم پہنچے ہیں۔ واپس آنے والے طلبا اور طالبات کا تعلق زاہدان میڈیکل یونیورسٹی سے ہے۔ ان میں سے 12 کا تعلق پنجاب اور سات کا خیبر پختونخوا سے ہے۔
ادھر گوادر کے راستے مجموعی طور پر 51 پاکستانی شہری واپس پہنچے۔ ان پہنچنے والوں میں پانچ طالب علموں کے علاوہ زائرین اور ٹورسٹ شامل تھے۔
Under directives of Honorable PM @CMShehbaz and guidance of Honorable DPM/FM @MIshaqDar50, GoP has designated Baku as the evacuation base for pak nationals seeking safe transit amid the evolving situation in Iran.@PakPMO @ForeignOfficePk
1/2 pic.twitter.com/6ocU6m0n1I
— Pakistan Embassy Azerbaijan (@PakinAzerbaijan) March 1, 2026
صبح 10 بج کر 24 منٹ: کویت کا تازہ ڈرون حملہ ناکام بنانے کا دعوی
کویت کا کہنا ہے کہ اس نے پیر کو ڈرونز کے حملے کو ناکام بنایا ہے، جو کہ ایران کے ہمسایہ خلیجی ممالک پر مسلسل تیسرے دن جوابی حملوں کا حصہ تھے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی نے سول ڈیفنس کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے کہا کہ کویت کی فضائی دفاعی افواج نے رمیثیہ اور سلوا علاقوں کے قریب زیادہ تر ڈرونز کو روکا اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
روئٹرز کے ایک عینی شاہد کے مطابق کویت میں پہلے بھی زور دار دھماکے اور سائرن سنائی دیے گئے تھے۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (سی وی این 78)، دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز، مشرقی بحیرہ روم سے امریکی آپریشن ایپک فورس کا حصہ بنا ہوا ہے۔ (@CENTCOM)
صبح 10 بجے: پاکستان سٹاک ٹریڈنگ دوبارہ شروع
پاکستان سٹاک ٹریڈنگ میں پیر کی صبح عارضی معطلی کے بعد کاروبار دوبارہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ انڈیکس 1344 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ ٹریڈ کر رہا ہے۔
اس سے قبل حکام کا کہنا تھا کہ ایک خودکار سرکٹ بریکر کے فعال ہونے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تجارت عارضی طور پر روک دی گئی ہے۔
یہ بندش اس وقت موثر ہوتی ہے جب کے ایس ای 30 انڈیکس پچھلی بندش سے 5 فیصد اوپر یا نیچے حرکت کرتا ہے اور اس حرکت کو مسلسل 5 منٹ تک برقرار رکھتا ہے۔
کے ایس ای 100 انڈیکس تقریبا 15,071 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 152,991 کے آس پاس ٹریڈ کر رہا ہے۔
کے ایس ای 30 انڈیکس میں تقریبا -9.4 فیصد کمی آئی۔
ٹریڈنگ 60 منٹ کے لیے معطل رہتی ہے، اس کے بعد پانچ منٹ کا پری اوپن سیشن ہوتا ہے اور پھر مارکیٹ دوبارہ شروع ہوتی ہے۔
یہ طریقہ انتہائی اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے اور تیز مارکیٹ کی حرکت کے دوران تجارتی حالات کو مستحکم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
صبح 9 بج کر 56 منٹ: جامعہ کراچی بند
ایک اعلان کے مطابق 2 مارچ 2026 کو جامعہ کراچی میں کلاسز معطل رہیں گی۔
صبح 9 بج کر 40 منٹ: انڈین روپیہ سٹاک گر گئے
انڈین روپیہ پیر کو ایک ماہ کی سب سے کمزور سطح پر پہنچ گیا جبکہ مقامی سٹاک بھی گر گئے۔ ایران جنگ نے کاروبار کو نقصان پہنچایا اور تیل کی قیمتیں بلند ہوئیں، جس سے انڈیا کے لیے خدشات بڑھ گئے جو اپنی توانائی کی درآمدات کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔
روپیہ 0.3٪ گر کر 91.2350 پر آ گیا، جو فروری کے اوائل کے بعد سب سے کمزور سطح ہے، جبکہ بینچ مارک سٹاک انڈیکسز نفٹی 50 اور بی ایس ای سینسیکس تقریبا 1٪ نیچے آئے۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے آخر میں ایران پر حملے کیے۔اس فوجی کارروائی کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر کی موت واقع ہوئی اور ملک سے خطے میں انتقامی کارروائیوں کی لہر شروع ہو گئی، جس سے مشرق وسطیٰ میں طویل تنازعہ کا خطرہ بڑھ گیا۔
صبح 9 بج کر 25 منٹ: ایران کا مذاکرات سے انکار
اے ایف پی کہ مطابق ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کہتے ہیں کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔ علی لاریجانی نے، جو ملک کے سابق سپریم لیڈر کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، پیر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں اس رپورٹ کے جواب میں کہ ایران واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہا کہ تہران امریکہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں ایران کی کم از کم 48 اہم شخصیات ماری جا چکی ہیں۔https://t.co/1q4s0wNbId
— Independent Urdu (@indyurdu) March 2, 2026
صبح 7 بج کر 30 منٹ: امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے جاری
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ہونے والی پہلی امریکی اموات کا بدلہ لینے کا عہد کیا۔
نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل حملوں کی یہ سطح چار سے پانچ ہفتے تک جاری رکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ مشکل نہیں ہوگا۔ ہمارے پاس گولہ بارود کی بہت بڑی مقدار موجود ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کے پاس جنگ کے بعد ایران کی قیادت کے لیے تین نامعلوم افراد کی ایک مختصر فہرست موجود ہے جنہیں وہ پسند کرتے ہیں۔
اتوار کو امریکی فوج نے ایران بھر میں اپنے اہداف کا دائرہ بڑھا دیا اور کہا کہ اس نے 1979 سے قائم ایرانی حکومت کے تحفظ کی ذمہ دار ایلیٹ فورس پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کے ہیڈکوارٹر کو تباہ کر دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں کہا کہ ’آئی آر جی سی کا اب کوئی ہیڈکوارٹر نہیں رہا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ پیر کو تہران کے وسط میں ’بڑے پیمانے پر حملے‘ کر رہی ہے اور لبنان بھر میں حزب اللہ پر بھی بمباری کر رہی ہے، جو ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی تنظیم ہے۔
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بیروت میں دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ قبل ازیں ایک اسرائیلی حملے میں کمزور ہونے والی تنظیم حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے خامنہ ای کے خون کے بدلے میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون داغے ہیں۔
ادھر ایرانی پاسداران انقلاب نے امریکی طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، لیکن پینٹاگون نے کہا کہ ’داغے گئے میزائل اس کے قریب تک نہیں آئے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوجی حملوں میں ایرانی بحریہ کے نو جہاز غرق کر دیے گئے ہیں اور اس کے بحریہ کے ہیڈکوارٹر کو جزوی طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے مطابق حکومت نے امارات سرزمین کو نشانہ بنانے والے ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں تہران میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے او ایران سے اپنے سفیر سمیت سفارتی مشن کے تمام ارکان کو واپس بلانے کا اعلان کیا ہے۔