امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے منگل کو تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت پر پیر کو ایک سخت اور نامناسب الفاظ پر مبنی ٹیلی فونک گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام اور فون کال سے آگاہ ایک تیسرے ذریعے نے ایکسیوس کو بتایا کہ اس دوران ٹرمپ نے نتن یاہو کو ’پاگل‘ قرار دیا اور ان پر ناشکری کا الزام لگایا۔ انہوں نے بیروت پر حملے کے اسرائیلی منصوبے کو بھی روک دیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے نتن یاہو سے کہا کہ اگر وہ لبنانی دارالحکومت پر بمباری کی اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو اس سے اسرائیل دنیا بھر میں مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔
دو ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نتن یاہو کو جیل جانے سے بچایا ہے، جس سے ان کی مراد کرپشن کے مقدمے کے دوران ان کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت تھی۔
امریکی عہدیدار نے نتن یاہو سے ٹرمپ کی ٹیلیفونک گفتگو کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا۔
’تم بالکل پاگل ہو۔ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ میں تمہیں بچا رہا ہوں۔ اب سب لوگ تم سے نفرت کرتے ہیں۔ اس سب کی وجہ سے سب اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔‘
کال سے آگاہ ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ ’شدید غصے‘ میں تھے اور ایک موقعے پر انہوں نے نتن یاہو پر چیختے ہوئے کہا: ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیروت پر حملے کی دھمکیوں کے علاوہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو بھی وسعت دے رہا ہے۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ اس بات پر بھی تشویش میں مبتلا تھے کہ اسرائیل نے لبنان میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو مارا ہے، اور وہ اس بات پر معترض تھے کہ اسرائیل ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارتیں گرا رہا تھا۔
ایک عہدیدار نے کہا کہ اقتدار میں واپسی کے بعد نتن یاہو کے ساتھ ٹرمپ کی یہ ٹیلفونک گفتگو ’بدترین بات چیت‘ میں سے ایک تھی۔
دوسری جانب نتن یاہو نے کال کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا، جبکہ اس دوران اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
نتن یاہو نے لکھا ’ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔‘
تاہم ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں کال کے دوران ٹرمپ نے نتن یاہو سے مکمل طور پر اپنی بات منوا لی تھی۔
عہدیدار کے مطابق: ’بی بی (نتن یاہو) نے کہا، ’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، بس یہ یقینی بنائیں کہ سب معاملات سنبھال لیے جائیں۔‘
ایکسیوس کے مطابق نتن یاہو کے دفتر نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔