ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم پر برہم، فون کال پر نیتن یاہو کو ’پاگل‘ کہہ دیا: رپورٹ

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ کے مطابق لبنان سے متعلق ٹیلیفونک گفتگو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم سے سختی سے بات کی۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (دائیں) 29 دسمبر 2025 کو فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع اپنے مار-اے-لاگو ریزیڈنس پر آمد کے موقع پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو (بائیں) کا استقبال کرتے ہوئے (جم واٹسن / اے ایف پی)

امریکی نیوز ویب سائٹ ’ایکسیوس‘ نے منگل کو تین ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں میں شدت پر پیر کو ایک سخت اور نامناسب الفاظ پر مبنی ٹیلی فونک گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

رپورٹ کے مطابق دو امریکی حکام اور فون کال سے آگاہ ایک تیسرے ذریعے نے ایکسیوس کو بتایا کہ اس دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ’پاگل‘ قرار دیا اور ان پر ناشکری کا الزام لگایا۔ انہوں نے بیروت پر حملے کے اسرائیلی منصوبے کو بھی روک دیا۔

ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے کہا کہ اگر وہ لبنانی دارالحکومت پر بمباری کی اپنی دھمکی پر عمل کرتے ہیں تو اس سے اسرائیل دنیا بھر میں مزید تنہائی کا شکار ہو جائے گا۔

دو ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نیتن یاہو کو جیل جانے سے بچایا ہے، جس سے ان کی مراد کرپشن کے مقدمے کے دوران ان کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت تھی۔

امریکی عہدیدار نے نیتن یاہو سے ٹرمپ کی ٹیلیفونک گفتگو کا خلاصہ کچھ یوں بیان کیا۔

’تم بالکل پاگل ہو۔ اگر میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے۔ میں تمہیں بچا رہا ہوں۔ اب سب لوگ تم سے نفرت کرتے ہیں۔ اس سب کی وجہ سے سب اسرائیل سے نفرت کرتے ہیں۔‘

کال سے آگاہ ایک دوسرے ذریعے نے بتایا کہ ٹرمپ ’شدید غصے‘ میں تھے اور ایک موقعے پر انہوں نے نیتن یاہو پر چیختے ہوئے کہا: ’تم آخر کر کیا رہے ہو؟‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بیروت پر حملے کی دھمکیوں کے علاوہ اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو بھی وسعت دے رہا ہے۔

ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ ٹرمپ اس بات پر بھی تشویش میں مبتلا تھے کہ اسرائیل نے لبنان میں اتنی بڑی تعداد میں شہریوں کو مارا ہے، اور وہ اس بات پر معترض تھے کہ اسرائیل ایک حزب اللہ کمانڈر کو نشانہ بنانے کے لیے پوری عمارتیں گرا رہا تھا۔

ایک عہدیدار نے کہا کہ اقتدار میں واپسی کے بعد نیتن یاہو کے ساتھ ٹرمپ کی یہ ٹیلفونک گفتگو ’بدترین بات چیت‘ میں سے ایک تھی۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے کال کے بعد ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کو بتایا ہے کہ اگر حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے بند نہ کیے تو اسرائیل بیروت میں اہداف کو نشانہ بنائے گا، جبکہ اس دوران اسرائیل جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔

نیتن یاہو نے لکھا: ’ہمارا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔‘

تاہم ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ حقیقت میں کال کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو سے مکمل طور پر اپنی بات منوا لی تھی۔

عہدیدار کے مطابق: ’بی بی (نیتن یاہو) نے کہا، ’ٹھیک ہے، ٹھیک ہے، بس یہ یقینی بنائیں کہ سب معاملات سنبھال لیے جائیں۔‘

ایکسیوس کے مطابق نیتن یاہو کے دفتر نے اس حوالے سے تبصرے کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا