امریکی جنگی مشین ٹرمپ کے کنٹرول میں یا نتن یاہو کے؟

بن یامین نتن یاہو کے بارے میں آن لائن افواہوں کے باوجود شواہد بتاتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف لڑائی میں ذاتی طور پر منظوری دی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 29 دسمبر، 2025 کو فلوریڈا کے پام بیچ میں اپنے مار-ا-لاگو کلب میں پریس کانفرنس کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو سے مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)

دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے عادی افراد نے، جن میں بن یامین نتن یاہو بھی شامل ہیں، اس ہفتے ان ٹرینڈنگ افواہوں کے خوب مزے لیے کہ اسرائیلی وزیر اعظم موجودہ ایران جنگ میں کسی طرح مارے جا چکے ہیں۔

یقیناً اسرائیل میں سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے سربراہ اس وقت سیاسی اور جسمانی، دونوں لحاظ سے اس سے زیادہ صحت مند اور متحرک نہیں ہو سکتے تھے۔

یہاں تک کہ اب اس بات کو تیزی سے تسلیم کیا جا رہا ہے اور بجا طور پر، جیسا کہ میں نے 10 دن قبل دلیل دی تھی کہ 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی مشترکہ جنگ شروع کرنے کے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے میں ان کا کلیدی کردار تھا۔

اس بارے میں ہمارے پاس مارکو روبیو کا بیان موجود ہے کہ امریکہ اس حملے میں اس لیے شامل ہوا کیوں کہ اسرائیل بہرحال حملہ کرنے والا تھا۔

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ نتن یاہو کم از کم اس صدی کے آغاز سے ایسا کرنا چاہتے تھے، لیکن جارج ڈبلیو بش، باراک اوباما اور جو بائیڈن نے یکے بعد دیگرے ان کا راستہ روکا۔

یہ بات بھی نمایاں ہے کہ ٹرمپ، ایک ایسے امریکی سیاست دان کے طور پر جو نتن یاہو کی قائل کرنے والی صلاحیتوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے، شروع ہی سے حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے نیتن یاہو کے ہدف سے متفق تھے، اس طرح کہ روبیو اور نام نہاد سیکریٹری برائے جنگ پیٹ ہیگسیتھ متفق نہیں تھے۔

جیسا کہ اوباما دور صدارت میں قومی سلامتی کے سابق نائب مشیر بین روڈز نے سوالیہ انداز میں پوچھا ’کیا ہم واقعی مانتے ہیں کہ نتن یاہو کی غیر موجودگی میں امریکہ اس جنگ میں شامل ہوتا؟‘

اس کے باوجود یہ واضح ہونا ضروری ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے اور کیا نہیں؟ یہ نظریہ کہ نتن یاہو مسلسل اس جنگ کے ماسٹر مائنڈ ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے سے بالکل میل کھاتا ہے کہ وہ اس ہفتے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ پر اسرائیل کے حملے کے بارے میں پہلے سے کچھ نہیں جانتے تھے۔

یہ بات ان کے لیے سیاسی طور پر مددگار ہے کیوں کہ اس حملے نے توانائی کی عالمی منڈیوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔

تاہم، دونوں دفاعی اداروں کے درمیان بے مثال تعاون کو دیکھتے ہوئے، یروشلم اور واشنگٹن ڈی سی دونوں میں حکام اور ماہرین ٹرمپ کے اس دعوے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔

ہاں یہ ممکنہ طور پر تباہ کن حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔ لیکن جیسا کہ باخبر ڈین شاپیرو، جو اسرائیل میں سابق امریکی سفیر ہیں اور اب اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک میں ہیں، نے اس ہفتے اصرار کیا کہ ’ٹرمپ کو اس کی خبر تھی اور انہوں نے حملے کی منظوری دی تھی۔ اب انہیں احساس ہوا ہے کہ اس سے کشیدگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔‘

اسی طرح ایران کے سکیورٹی چیف علی لاریجانی کا قتل اسرائیل کے اس عقیدے کی عکاسی کرتا ہے، جو ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتا کہ کسی تحریک کے رہنماؤں کو ختم کرنے سے اسے شکست دی جا سکتی ہے۔

ایران کے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے کسی بھی سفارتی مذاکرات میں لاریجانی کا کلیدی کردار ہو سکتا تھا۔

لیکن اس بات میں کوئی سچائی ہو یا نہ ہو، یہ خیال تقریباً ناقابل فہم ہے کہ اسرائیل نے انہیں خود اپنی مرضی سے نشانہ بنایا۔

مزید یہ کہ اس جنگ کو شروع کرنے میں نتن یاہو کے یقینی کردار پر انہیں مورد الزام ٹھہرانے کا مطلب امریکہ میں کچھ انتہائی دائیں بازو کے خیالات رکھنے والوں کی انتہا پسندانہ سوچ کی حمایت کرنا نہیں، جن میں ٹرمپ کے نامزد کردہ جو کینٹ بھی شامل ہیں جنہوں نے جنگ کے خلاف احتجاجاً اپنے کاؤنٹر انٹیلی جنس کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

کینٹ حقائق کی بنیاد پر یقیناً درست تھے جب انہوں نے کہا کہ ’ایران سے ہماری قوم کو کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔‘

لیکن وہ یہ بے بنیاد دعویٰ کرنے میں بالکل غلط تھے کہ اسرائیل نے امریکہ کو 2003 کی عراق جنگ میں بھی 'گھسیٹا' تھا۔

اسرائیل اس جنگ سے بڑی حد تک الگ تھلگ رہا، باوجود اس کے کہ اس پر عراق کی جانب سے حملے ہوئے، اور درحقیقت اس وقت کے وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا تھا کہ یہ ’غلط جنگ‘ ہے جو ایران کی بجائے عراق کے خلاف لڑی گئی۔

انہیں بدقسمتی سے سفید فام قوم پرست اور یہود مخالف تجزیہ کار نک فوینٹس کی طرف سے تعریف کے لیے بھی چنا گیا۔

اس سے یہ حقیقت نہیں بدلتی کہ یہ اب بھی بڑی حد تک ٹرمپ کی پسند کی جنگ ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ جنگ اب تک امریکہ کے مقابلے میں اسرائیل میں کہیں زیادہ مقبول ہے، جس کی وجہ سے شاید نیتن یاہو یہ سوچ رہے ہیں کہ وہ اس مقبولیت کا کچھ حصہ اپنی موجودہ کمزور انتخابی ریٹنگز کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایرانیوں کو آیت اللہ کے بدترین ظلم سے آزاد کرانے کا ان کا قابل ستائش، اگرچہ فی الحال بظاہر دور رس، ہدف فلسطینیوں کے لیے اس جیسی کسی چیز میں دلچسپی نہ ہونے کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔

لیکن یہ ٹرمپ ہی ہیں جنہوں نے اس سب پر ہامی بھری، اور کم از کم ایران کے معاملے پر، نتن یاہو کی بات نہ ٹالنے والے پہلے امریکی صدر بننے کا فیصلہ کیا۔

یہ ٹرمپ ہی ہیں جو ایک ایسی جنگ کو، جسے بظاہر وہ ختم کرنا نہیں جانتے، کسی نئے ویڈیو گیم سے کھیلنے والے ایک لڑاکا بچے کی طرح لے رہے ہیں، اور محض ’تفریح کے لیے‘ خارگ کی تیل کی تنصیب پر دوبارہ بمباری کی دھمکی دے رہے ہیں۔

یہاں تک کہ جو لوگ اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ نتن یاہو نے ٹرمپ کو دباؤ میں لا کر جنگ میں دھکیلا، اس سے بھی امریکی صدر بری الذمہ نہیں ہو جاتے۔

جیسا کہ بین روڈز نے خود زیٹیو ویب سائٹ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں مزید کہا ’ڈونلڈ ٹرمپ ذمہ دار ہیں۔ دراصل میرا نہیں خیال کہ یہ کہنا ٹھیک ہو گا کہ یہ سب نتن یاہو کا کیا دھرا ہے۔

’نہیں، یہ وہ شخص ہے جو ہمیں جنگ میں لے کر گیا۔ وہ نیتن یاہو کو انکار کر سکتے تھے۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ