سعودی عرب نے ایران کے فوجی اتاشی، ان کے معاون اور سفارت خانے کے تین ارکان کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر اندر مملکت چھوڑ دیں۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ایران کے سعودی علاقے پر مسلسل حملوں کے باعث اٹھایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے سعودی عرب سینکڑوں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کی زد میں آیا، جن میں سے اکثریت کو روک لیا گیا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی طرف سے جاری حملے مزید کشیدگی کا باعث بنیں گے اور موجودہ و مستقبل کے تعلقات پر ’سنگین اثرات‘ مرتب ہوں گے۔
بدھ کو سعودی وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ایران کے حالیہ حملوں کے بعد مملکت کو تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا حق حاصل ہے اور اس پر اعتماد مکمل طور پر ٹوٹ چکا ہے۔
سعودی عرب اور ایران نے 2023 میں برسوں کی دشمنی کے بعد سفارتی تعلقات بحال کیے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ اور اس کے بعد خلیجی ہمسایوں پر ایران کے حملوں نے مشرق وسطیٰ سے تیل اور قدرتی گیس کی برآمدات کو متاثر کیا ہے اور پیداوار میں وقفے پر مجبور کیا ہے۔