جاپان میں بچوں کی آبادی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی ہے اور اس طرح طویل عرصے سے جاری کمی کا یہ سلسلہ برقرار رہنے کی وجہ سے مشرقی ایشیائی ملک میں آبادی کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔
پیر کو وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یکم اپریل 2026 تک 15 سال اور اس سے کم عمر بچوں کی تعداد ایک کروڑ 32 لاکھ 90 ہزار تھی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں 3 لاکھ 50 ہزار کم ہے۔
1950 میں ریکارڈ مرتب کیے جانے کے آغاز کے بعد سے یہ اب تک کی سب سے کم تعداد ہے اور کمی کا یہ مسلسل 45 واں سال ہے۔
کل آبادی میں اب بچوں کا تناسب 10.8 فیصد ہے، جو ریکارڈ پر سب سے کم تناسب ہے۔
ان تخمینوں میں غیر ملکی رہائشی بھی شامل ہیں، اور یہ مردم شماری سے منسلک آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔
یہ اعداد و شمار منگل کو بچوں کے دن سے قبل جاری کیے گئے۔
حکومت نے 2030 تک کے عرصے کو ’اس رجحان کو بدلنے کا آخری موقع‘ قرار دیا ہے، اگرچہ بچوں کی پرورش کرنے والے خاندانوں کے لیے مالی امداد بڑھانے جیسے اقدامات اب تک کارگر ثابت نہیں ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، صنف کے لحاظ سے 68 لاکھ 10 ہزار لڑکے اور 64 لاکھ 80 ہزار لڑکیاں ہیں۔
عمر کے لحاظ سے، بڑے بچوں کی تعداد چھوٹے بچوں سے زیادہ ہے۔ 12 سے 14 سال کی عمر کے 30 لاکھ 90 ہزار بچوں کے مقابلے میں، صفر سے دو سال کی عمر کے بچوں کی تعداد 21 لاکھ 30 ہزار تھی۔
وزارت صحت کے الگ سے حاصل ہونے والے ابتدائی اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں بچوں کی پیدائش کی تعداد مسلسل دسویں سال کم ہو کر سات لاکھ پانچ ہزار 809 کی کم ترین ریکارڈ سطح پر آ گئی۔
جاپان میں بچوں کی آبادی 1954 میں دو کروڑ 98 لاکھ 90 ہزار کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی اور 1982 میں اس میں کمی آنا شروع ہو گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کل آبادی کے مقابلے میں بچوں کے تناسب میں 1975 سے مسلسل 52 سال سے کمی واقع ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق، چار کروڑ سے زیادہ آبادی والے ممالک میں بچوں کے سب سے کم تناسب کے لحاظ سے جاپان جنوبی کوریا کے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جہاں یہ تناسب 10.2 فیصد ہے۔
گذشتہ سال فروری میں، یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ جاپان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد 125 سال قبل ریکارڈ مرتب کیے جانے کے آغاز کے بعد سے اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جو حکومت کی جانب سے اس کمی کو روکنے کی کوششوں کے باوجود مسلسل نویں سال کم ہوئی ہے۔
اس وقت وزارت صحت نے کہا تھا کہ 2024 میں جاپان میں سات لاکھ 20 ہزار 988 بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی، جو گذشتہ سال کے مقابلے میں پانچ فیصد کم ہے۔
گذشتہ جنوری میں، آبادیاتی رجحانات اور عمر رسیدہ معاشروں کے ایک ماہر نے خبردار کیا تھا کہ اگر جاپان میں شرح پیدائش میں موجودہ کمی کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا، تو 5 جنوری 2720 تک ملک میں 14 سال سے کم عمر کا صرف ایک بچہ رہ جائے گا۔
© The Independent