سید امین آفریدی 2023 میں سری لنکا میں ویسٹ ایشیا کپ کے لیے گئے تھے جہاں انہیں معلوم ہوا کہ افغانستان کی ٹیم بین الاقوامی بیس بال فیڈریشن کے ساتھ رجسٹرڈ تو ہے لیکن صرف نام کی حد تک اور ٹیم مقابلوں میں شرکت نہیں کرتی۔
یہی وہ لمحہ تھا جب سید امین کو خیال آیا کہ ضلع خیبر اور پشاور میں افغانستان کے لیے بیس بال کی ٹیم بنائی جا سکتی ہے، تاکہ وہ بین الاقوامی مقابلوں میں اپنے ملک کی نمائندگی کر سکے، اور ایسا ہی ہوا۔
سید امین جو خود بیس بال کے کھلاڑی اور انہوں نے بتایا: ’میں کئی سال سے خیبر میں بیس بال کی یہ اکیڈمی چلا رہا ہوں اور چوں کہ اکیڈمی موجود تھی تو افغان ٹیم کے ٹرائلز کے لیے میں نے اعلان کر دیا۔‘
سید امین نے بتایا کہ پناہ گزین کیمپوں سے بہت سے کھلاڑی ٹرائلز کے لیے آ گئے اور پہلے 25 کھلاڑیوں اور پھر 18 کھلاڑیوں پر مشتمل ابتدائی ٹیم تشکیل دے دی گئی۔ اسی ٹیم نے اس سال اسلام آباد میں ہونے والے ویسٹ ایشیا کپ کے مقابلوں میں شرکت بھی کی۔
سید امین کے مطابق یہ ٹیم افغانستان کی سرکاری سطح پر قومی ٹیم ہے اور بین الاقوامی مقابلوں اور بعض اوقات پریکٹس کے لیے کابل کا دورہ بھی کرتی ہے جہاں اس کا کیمپ لگتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیم بننے کے بعد اس نے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی۔ کھلاڑی 2025 میں دبئی میں بیس بال لیگ کے لیے گئے تھے اور اس کے بعد ایران میں ہونے والے ویسٹ ایشیا کپ کے لیے بھی گئے۔
ٹیم کی تربیت اور پریکٹس
ضلع خیبر کے سنگم پر واقع اور پشاور کے قریب کھلے میدان میں سید امین نے بیس بال کی اکیڈمی بنائی ہے جہاں افغان ٹیم کے علاوہ خیبر پختونخوا سے پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے تقریباً 60 فیصد کھلاڑی اسی پریکٹس کرتے ہیں۔
سید امین کا کہنا ہے کہ یہ کھلاڑی معاشی مسائل کی وجہ سے بیس بال کا سامان جیسے گلوز، پیڈز وغیرہ خریدتے لنڈا بازار سے خریدتے ہیں ہیں لیکن ان محدود وسائل میں بھی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرتے ہیں۔
افغانستان کی ٹیم نے چند سال میں سید امین کے مطابق محنت اور لگن سے ایک بین الاقوامی ٹیم تو بنی ہے لیکن انہیں مختلف مشکلات کا بھی سامنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کے انخلا کا سلسلہ جاری ہے جس میں یہ کھلاڑی بھی جائیں گے۔ یہاں ان کے پاس کچھ نہ کچھ سہولیات موجود ہیں لیکن وہاں جا کر شاید ٹریننگ کی سہولت نہیں ہوں گی۔‘
بیس بال ٹیم کے کپتان عبدالغفور شنواری نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کھلاڑی بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کرنے سے پہلے کابل جاتے ہیں لیکن وہاں اتنی سہولیات موجود نہیں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ جس طرح افغانستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بھی پشاور ہی میں پریکٹس کرتے تھے اور اب ان کو افغانستان میں کافی سہولیات مہیا کی گئی ہیں، تو اسی طرح بیس بال ٹیم کو بھی سپورٹ کیا جائے۔
عبدالغفور کے مطابق: ’ہم گذشتہ چھ سات سال سے افغانستان کی نمائندگی بغیر کسی معاوضے اور تنخواہ کے کر رہے ہیں۔ ہماری درخواست ہے کہ ٹیم کے کھلاڑیوں کی تنخواہ مقرر کی جائے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
افغانستان کی بیس بال کی ٹیم 2018 سے پہلے مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیتی رہی ہے، تاہم بعد میں ٹیم کو معاشی مسائل اور سپانسر نہ ملنے کی وجہ سے ٹیم غیر فعال ہو گئی تھی۔
افغانستان بیس بال فیڈریشن کی جانب سے 2023 میں ایک بیان جاری کیا گیا تھا جس میں بتایا گیا تھا کہ ضلع خیبر کے جمرود بیس بال اکیڈمی میں کوچ سید امین کی نگرانی میں ٹرائلز منعقد ہوئے اور اس میں افغانستان کی قومی ٹیم کا اعلان کیا گیا تھا۔
سید امین نے بتایا کہ اس ٹیم سے پہلے بعض مقابلوں میں افغان ٹیم کے نام سے مقابلوں میں حصہ لیتے تھے لیکن اس میں بعض کھلاڑی پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن 2023 کے بعد باقاعدہ افغان کھلاڑیوں کی ٹیم بن گئی۔