کبھی گلی محلوں میں بچوں کی ہنسی، دوڑ اور شور سے پہچانا جانے والا روایتی کھیل کوڑا چھپائی آج بھی کہیں کہیں اپنی معصوم دلکشی کے ساتھ زندہ ہے۔
یہ کھیل ماضی میں ملک بھر میں بھرپور انداز میں کھیلا جاتا تھا۔ اگرچہ ہر علاقے میں اس کے نام مختلف تھے، مگر کھیلنے کا طریقہ تقریباً ایک ہی رہا۔
سکھر سے تعلق رکھنے والے سید شجاعت حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اس کھیل میں بچے دائرے کی شکل میں بیٹھتے ہیں، جبکہ ایک بچہ ہاتھ میں رومال یا کپڑے سے بنے کوڑے کو لے کر ان کے پیچھے گھومتا ہے اور باآوازِ بلند کہتا ہے:
’کوڑا چھپائی جمعرات آئی ہے، جس نے پیچھے دیکھا اس کی شامت آئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں یہ الفاظ بھی بدل جاتے ہیں، مثلاً کہیں ’کوڑا جمال شاہی‘ کہا جاتا ہے، مگر کھیل کی اصل تھیم پورے ملک میں ایک ہی ہے۔
اس دوران کوڑا خاموشی سے کسی ایک بچے کے پیچھے رکھ دیا جاتا ہے۔ جس بچے کے پیچھے کوڑا رکھا جاتا ہے، اگر وہ بروقت محسوس کر لے تو فوراً اسے اٹھا کر رکھنے والے کے پیچھے دوڑتا ہے تاکہ اسے کوڑا مار سکے، ورنہ اگلی باری اسی کی ہوتی ہے۔
بظاہر سادہ نظر آنے والا یہ کھیل بچوں میں چستی، توجہ، فوری ردعمل اور سماجی میل جول کو فروغ دیتا ہے۔
مقامی سکول کی ایک ٹیچر رخشندہ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’روایتی کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔‘
ان کے مطابق آج کے دور میں بچوں کا زیادہ وقت موبائل فون، ٹیبلٹ اور دیگر سکرینز پر گزرتا ہے، جس سے نہ صرف ان کی جسمانی سرگرمیاں کم ہوئی ہیں بلکہ توجہ، سماجی رویوں اور صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کوڑا چھپائی جیسے کھیل بچوں کو سکرین ٹائم سے دور رکھنے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔
سید شجاعت زیدی نے اس کھیل کو اپنی یادوں سے جوڑتے ہوئے بتایا کہ ان کے بچپن میں شام ڈھلتے ہی بچے گلیوں میں جمع ہو جاتے تھے اور کوڑا چھپائی گھنٹوں کھیلی جاتی تھی۔
ان کے مطابق یہ کھیل صرف وقت گزارنے کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ دوستی، اعتماد اور خوشی بانٹنے کا ایک خوبصورت انداز بھی تھا، جو اب آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سکھر کے ایک سکول اور محلے میں بچوں کو یہ کھیل کھیلتے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت چند لمحوں کے لیے پیچھے لوٹ آیا ہو، جب موبائل فون اور ویڈیو گیمز کی جگہ ایسے سادہ مگر دلچسپ کھیل بچوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہوا کرتے تھے۔
اس کھیل میں شریک بچی مریم نے بتایا کہ انہیں یہ کھیل بہت پسند ہے کیونکہ اس میں دوڑنے، ہنسنے اور دوستوں کے ساتھ مل کر کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موبائل گیمز کے مقابلے میں ایسے کھیل زیادہ مزہ دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق روایتی کھیل نئی نسل کو نہ صرف جسمانی طور پر متحرک رکھتے ہیں بلکہ انہیں اپنی ثقافتی جڑوں سے بھی جوڑے رکھتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب سکرین ٹائم بچوں کی زندگی پر حاوی ہوتا جا رہا ہے، کوڑا چھپائی جیسے کھیل ایک صحت مند اور خوشگوار متبادل بن سکتے ہیں۔