کشمیری ثقافت کی نشانی تلواروں والا کھیل ’گتگا‘ معدومیت کا شکار

گتگا بنیادی طور پر لکڑی کی تلواروں اور ڈھالوں کے ساتھ کھیلا جانے والا روایتی پہاڑی کھیل ہے، جو کشمیر اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں صدیوں تک رائج رہا۔

کان پھاڑتی آوازیں اور آپس میں ٹکراتی لکڑی کی تلواریں۔ یہ محض ایک کھیل نہیں بلکہ کشمیری پہاڑی معاشرت کی جنگی، ثقافتی اور تہذیبی روح کی علامت تھا۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں گتگا، جسے کبھی تلوار بازی کی ابجد سمجھا جاتا تھا، آج خاموشی سے معدومیت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

گتگا بنیادی طور پر لکڑی کی تلواروں اور ڈھالوں کے ساتھ کھیلا جانے والا روایتی پہاڑی کھیل ہے، جو کشمیر اور اس سے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں صدیوں تک رائج رہا۔

 یہ کھیل نوجوانوں کو جسمانی مضبوطی، توازن، ردعمل اور دفاع کی تربیت دیتا ہے۔ بزرگوں کے مطابق گتگا کی باقاعدہ مشق نوجوانوں کو نہ صرف ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے قابل بناتی تھی بلکہ ان میں ضبط، حوصلہ اور اجتماعی نظم بھی پیدا کرتی تھی۔

مقامی روایات کے مطابق، گتگا عید، شادی بیاہ، میلوں اور فصلوں کی کٹائی کے تہواروں پر پیش کرنا لازمی سمجھا جاتا تھا۔

55 سال سے اس گتگا کھیلنے والے صداقت حسین شاہ کا کہنا ہے کہ ’کشمیر میں یہ قدیم اور مردانہ کھیل صدیوں سے کھیلا جاتا رہا ہے۔ کشمیر کی آزادی کے دور میں جب تلوار کے ساتھ تلوار ٹکراتی تھی اور ہر طرف معرکے برپا تھے، تب بھی یہ کھیل ہماری پہچان اور دلیری کی علامت تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ اب اس رجحان میں کمی آتی جا رہی ہے۔ لوگوں میں پہلے جیسی ہمت اور دلیری باقی نہیں رہی۔‘

انہوں نے کہا کہ گتگا کے فروغ کے لیے ہر تحصیل اور ہر یونین کونسل میں ایک کلب قائم کیا جائے تاکہ نوجوانوں میں شعور اور دلچسپی پیدا ہو۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

گتگا کے کھلاڑی صداقت نقوی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’یہ کھیل بنیادی طور پر حضرت علی علیہ السلام کی نسبت سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ جنگی مہارت کی ایک شکل تھی جو ابتدا میں تلوار کے ساتھ کھیلی اور سیکھی جاتی تھی۔ ہم آج بھی اسے تلوار کے روایتی فن کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

’جیسے جیسے دور نے ترقی کی اور جنگوں کا انداز بدلا، یہ عملی لڑائی کے بجائے ایک روایتی کھیل کی صورت اختیار کر گیا۔‘

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس کھیل کو حکومتی سرپرستی حاصل نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے یہ فن آہستہ آہستہ ختم ہوتا جا رہا ہے۔ 

’کسی سرکاری ادارے یا حکومت کی جانب سے نہ تو باقاعدہ رجسٹریشن کی سہولت ملی اور نہ ہی کوئی مالی یا انتظامی تعاون، جس کی مدد سے اسے فروغ دیا جا سکتا ہے۔‘

راجہ اشفاق احمد جو اس فن میں استاد کی حیثیت رکھتے ہیں، کا کہنا ہے کہ ’ کھلاڑی کو تلوار براہِ راست نہیں دی جاتی بلکہ ابتدائی مرحلے میں گتکا کی لاٹھی، استعال کرائی جاتی ہے۔

’مکمل تربیت حاصل کر لینے کے بعد کھلاڑی پیشہ ورانہ تلوار بازی کا آغاز کرتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل