سعودی عرب کا بینکنگ نظام بنانے میں اہم کردار ادا کرنے والے پاکستانی ماہر اقتصادیات محمد عمر چھاپرا 13 جون کو انتقال کر گئے۔
1933 میں پیدا ہونے والے عمر چھاپرا 1965 میں سعودی عرب پہنچے۔ وہ وہاں منتقل ہونے والے اولین پاکستانی شہریوں میں سے ایک تھے۔
انہوں نے سعودی عریبین مانیٹری ایجنسی (ایس اے ایم اے) کے ابتدائی دور میں اسے بہتر بنانے میں مدد کی۔ وہ انتقال سے قبل جدہ میں اسلامی ترقیاتی بینک کے اسلامک ریسرچ اینڈ ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے مشیر تھے۔
انہوں نے 1990 میں اسلامک سٹڈیز کے لیے شاہ فیصل انٹرنیشنل پرائز حاصل کیا۔ سعودی عرب کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں سعودی شہریت دی گئی۔
انتقال سے قبل عرب نیوز کو خصوصی انٹرویو میں انہوں نے بتایا سعودی عرب کو ’پاکستان اور دیگر ممالک سے قابل افراد کی ضرورت تھی اور میں اس وقت امریکہ کی یونیورسٹی آف وسکونسن اور پھر یونیورسٹی آف کینٹکی میں بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر اقتصادیات پڑھا رہا تھا۔‘
’میری اہلیہ اور میں کینٹکی سے نیویارک ورلڈز فیئر دیکھنے جا رہے تھے اور ہم واشنگٹن میں رکے کیوں کہ میری اہلیہ شہر کی سیر کرنا چاہتی تھیں۔
’میں نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ میں کام کرنے والے اپنے ایک دوست کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ ایس اے ایم اے کے گورنر وہاں موجود ہیں اور انہیں آپ سے مل کر خوشی ہوگی۔‘
گورنر معاشی مشیر کی تلاش کے لیے واشنگٹن کے دورے پر تھے۔
عمر چھاپرا نے بتایا ’میں وہاں گیا اور ہم نے کافی دیر تک مختلف امور، معاشی مسائل اور ان کے ممکنہ حل کے حوالے سے بات چیت کی۔' ان کی گفتگو کے اختتام پر، انہیں ایس اے ایم اے میں شمولیت کی پیشکش کی گئی۔
’میں نے کہا، مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ اگر آپ مجھے پیشکش کریں تو مجھے آنے میں خوشی ہو گی۔ انہوں نے کہا، جب میں واپس جاؤں گا تو بورڈ آف ڈائریکٹرز سے بات کروں گا اور آپ کو کیبل بھیجوں گا۔
’پھر ہم جس مقصد کے لیے آئے تھے اس کے لیے آگے نیویارک چلے گئے یعنی ورلڈز فیئر دیکھنے کے لیے۔‘
دورے کے بعد عمر چھاپرا یونیورسٹی آف کینٹکی میں کام پر واپس آ گئے، جہاں گرمیوں کے سمسٹر کا آغاز ہونے والا تھا۔
انہوں نے بتایا ’میں اپنے دفتر میں تھا اور مجھے ایک کیبل موصول ہوئی۔ یہ (ایس اے ایم اے کی جانب سے) ایک پیشکش تھی لیکن شرط یہ تھی کہ میں فوری طور پر جوائن کروں۔ یہ کیسے ممکن ہے؟
’گرمیوں کا سیشن کل سے شروع ہو رہا ہے اور مجھے اس میں پڑھانا ہے تو میں فوری طور پر کیسے جا سکتا ہوں؟ میں شعبے کے چیئرمین کے پاس گیا اور ان سے بات کی۔
’انہوں نے کہا اگر آپ چاہیں تو ہم آپ کو اگلے سال بھی رکھنا چاہیں گے، نہ صرف ان گرمیوں میں بلکہ اگلے سال بھی۔
’لیکن مسئلہ یہ ہے کہ گرمیوں کا سیشن کل سے شروع ہو رہا ہے اور آپ نے اس میں پڑھانا ہے۔ اگر آپ ہمیں اپنا کوئی متبادل لا دیں تو ہم آپ کو جانے کی اجازت دے دیں گے۔
’پھر میں ان کے دفتر سے باہر آیا اور اللہ اسباب پیدا کر دیتا ہے۔ میری ملاقات ایک ایسے پروفیسر سے ہوئی جو وہی مضامین پڑھا رہے تھے جو میں پڑھاتا تھا۔
’اقتصادیات میں بہت سی چیزیں ہوتی ہیں۔ پیسہ اور بینکنگ، پبلک فنانس، معاشی ترقی، یہ سب مختلف چیزیں۔ اس لیے میں نے ان سے اس بارے میں بات کی اور انہوں نے کہا ویسے تو میں نے ان گرمیوں میں خود کو تحقیق کے لیے فارغ رکھا تھا لیکن اگر آپ جانا چاہتے ہیں تو میں آپ کی جگہ سنبھال لوں گا۔
’میں انہیں چیئرمین کے دفتر لے گیا اور سب کچھ طے پا گیا۔ انہوں نے ہمیں ویزے بھیجے اور ہم جدہ آ گئے اور آہستہ آہستہ مسائل حل ہونا شروع ہو گئے۔
’یہ 1965 کی بات ہے۔ اب ہمیں سعودی عرب میں رہتے ہوئے 53 سال ہو گئے ہیں۔‘
عمر چھاپرا شاہ فیصل کے دور حکومت میں مملکت آئے اور ابتدا میں وزیر خزانہ شیخ محمد محمد ابا الخيل کے ساتھ کام کیا۔
انہوں نے کہا ’وہ بہت اچھے تھے۔ میں نے انہیں سعودی عرب کی مانیٹری پالیسی اور معاشی ترقی وغیرہ کی تیاری کے دوران کئی بار دیکھا۔ وہ بہت نفیس تھے اور بہت تحمل سے بات سنتے تھے۔
’شیخ ابا الخيل مشورہ سننے کے لیے تیار رہتے تھے اور یہاں تک کہ شاہ فیصل بھی اس حوالے سے بہت اچھے تھے۔ وہ مشورہ سننے اور اس پر عمل کرنے کے لیے بھی تیار رہتے تھے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
عمر چھاپرا مملکت میں مالیاتی نظام کی ترقی میں اپنے اہم کردار کو بیان کرنے میں انکساری سے کام لیتے تھے۔
ان کا کہنا تھا ’یہ محض کوئی ایک شخص نہیں ہوتا جو واقعی ایک واضح کردار ادا کر سکے۔
’شیخ ابا الخيل بہت قابل اور بہت اچھے تھے، اس لیے میں نے اس ملک میں بینکنگ کا نظام، مالیاتی نظام اور حکومت کی مانیٹری پالیسی وغیرہ کو تیار کرنے میں ان کی مدد کی۔ یہ چیزیں بہت اچھی طرح چلیں۔‘
عمر چھاپرا نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات ہمیشہ دوستانہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا ’1947 میں پاکستان کے قیام کے وقت سے ہی یہ تعلقات ہمیشہ اچھے رہے ہیں۔ پاکستان کو سعودی عرب سے مدد ملتی ہے اور سعودی عرب کو پاکستان سے مدد ملتی ہے۔‘
ان کے بقول ’سعودی عرب شروع سے ہی بہت مددگار رہا ہے اور اب بھی ہے اور پاکستان اس ملک میں افرادی قوت بھیجنے کے قابل رہا ہے۔ فوجی افرادی قوت ہو یا معیشت، دونوں ممالک کے درمیان کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔‘