عالمی یومِ انسدادِ انسانی سمگلنگ: پاکستان کا کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کا عزم

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغامات میں انسانی سمگلنگ کے خلاف سخت مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

چند پاکستانی پناہ گزین 21 مارچ 2016 کو یونانی جزیرے پر قائم کیمپ میں داخل ہونے کا انتظار کرتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آج، 30 جولائی کو عالمی یوم انسداد انسانی سمگلنگ اس عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے کہ اس منظم بین الاقوامی جرم کے خاتمے کے لیے قومی اور عالمی سطح پر مشترکہ کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔

 پاکستان میں انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی امیگریشن کا مسئلہ گذشتہ چند برسوں میں زیادہ سنگین ہوا ہے۔

مختلف اوقات میں غیر قانونی راستوں سے یورپ اور دیگر ممالک جانے کی کوشش کرنے والے پاکستانی شہری کشتیوں کے حادثات سمیت متعدد سانحات کا شکار ہوئے، جن میں درجنوں افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ان واقعات کے بعد حکومت نے انسانی سمگلروں کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی لائی ہے۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغامات میں انسانی سمگلنگ کے خلاف سخت مؤقف کا اظہار کیا ہے۔

 وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’انسانی سمگلنگ محض ایک بین الاقوامی جرم نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین ترین اور منظم خلاف ورزیوں میں شامل ہے۔ اس مکروہ کاروبار کا خاتمہ صرف قومی اور بین الاقوامی سطح پر متحد، غیر متزلزل اور مؤثر حکمت عملی کے ذریعے ہی ممکن ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انسانی سمگلنگ کے مکمل سدباب کے لیے قانونی، سماجی، انتظامی، حکومتی اور انفرادی سطح پر مربوط اقدامات ناگزیر ہیں، کیونکہ یہ جرم غیر قانونی امیگریشن، جعلی سفری دستاویزات، منی لانڈرنگ اور جبری مشقت جیسے دیگر منظم جرائم سے بھی جڑا ہوا ہے۔

 شہباز شریف نے مزید کہا کہ حکومت نے انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، کے لیے پیشگی روک تھام پر مبنی خصوصی حکمت عملی ترتیب دی ہے۔

 وزیراعظم کے مطابق صوبائی حکومتوں، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں، بشمول انٹرپول اور اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم  (UNODC) کے ساتھ تعاون کو بھی مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

 انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع ایف آئی اے کی ہیلپ لائنز یا متعلقہ پورٹلز پر دیں تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ انسانی سمگلنگ کے متاثرین مجرم نہیں بلکہ مظلوم ہیں، جنہیں قانونی تحفظ، نفسیاتی معاونت اور معاشرے میں باعزت بحالی کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں کہا کہ انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے عالمی اور مربوط تعاون ناگزیر ہے۔

ان کے مطابق غربت، بے روزگاری اور تنازعات اس جرم کی بنیادی وجوہات ہیں، جبکہ نوجوانوں کو آن لائن دھوکے اور بیرونِ ملک ملازمت کے جعلی مواقع سے محفوظ رکھنے کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان نے انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنی حکمت عملی مزید مؤثر بنائی ہے۔

’ایف آئی اے اس جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ انٹیلی جنس صلاحیتوں اور سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔‘

آصف زرداری نے نوجوانوں کے لیے مقامی معاشی مواقع میں اضافے کو بھی انسانی سمگلنگ کی روک تھام کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

 وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے مطابق رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ملک کے مختلف ہوائی اڈوں سے بیرونِ ملک روانگی کی کوشش کرنے والے سات ہزار سے زائد افراد کو آف لوڈ کیا گیا، جبکہ کراچی، لاہور اور دیگر ہوائی اڈوں سے تقریباً 300 ایسے افراد کو گرفتار کیا گیا جنہیں حکام نے پیشہ ور بھکاری قرار دیا۔

رواں سال فروری میں قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث 400 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت نے ایسے نیٹ ورکس سے وابستہ 50 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے بھی ضبط کیے ہیں اور مزید کارروائیاں جاری ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر قانون سازی، سخت نگرانی، بین الاقوامی تعاون، جدید امیگریشن نظام اور عوامی آگاہی کے ذریعے اس منظم جرم کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان