انسانی سمگلر کسی رعایت کے مستحق نہیں: وزیر داخلہ

وزیر داخلہ نے پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کا حکم بھی جاری کیا۔

یونانی ادارے فلیش نیوز کی جانب سے 22 نومبر، 2022 کو جاری کی گئی تصویر جس میں ایک کشتی پاکستانیوں سمیت تقریبا 400 تارکین وطن کو لے کر کریٹ کے جزیرے پر یونان کے ساحلی محافظوں کی جانب سے ریسکیو آپریشن کے بعد پالیوچورا بندرگاہ پہنچ رہی ہے (اے ایف پی)

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے جمعے کو غیر قانونی امیگریشن میں ملوث ’مافیا‘ کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کارروائی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

ریڈیو پاکستان کت مطابق اسلام آباد میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر داخلہ نے اس موقع پر کہا کہ انسانی سمگلنگ میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی ساکھ کسی صورت متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔

محسن نقوی نے ایف آئی اے کو امیگریشن قوانین کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایئرپورٹ امیگریشن چیکنگ سسٹم کو مزید مضبوط بنایا جائے۔

اجلاس میں پیشہ ور بھکاری مافیا کے خلاف کارروائی پر بھی غور کیا گیا۔

وزیرِ داخلہ نے پیشہ ور بھکاریوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف مؤثر کریک ڈاؤن کا حکم بھی جاری کیا۔

پاسپورٹ میں نئے سکیورٹی فیچرز

جمعے کو ہی بیجنگ پبلک سیکیورٹی پاسپورٹ بیورو کے دورے کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاسپورٹ میں جعل سازی کی روک تھام کے لیے نئے سکیورٹی فیچرز متعارف کرائے جائیں گے۔

وزیر داخلہ نے ایگزٹ اینٹری ایڈمنسٹریشن بیورو کے مختلف شعبوں کا مشاہدہ کیا اور چین کے پاسپورٹ اور امیگریشن نظام کا جائزہ لیا۔

محسن نقوی نے چین کے ایگزٹ اینٹری سسٹم کی افادیت، مؤثریت اور رفتار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے بھی ایک تیز اور فول پروف پاسپورٹ اور امیگریشن نظام تیار کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا جدید ایگزٹ اینٹری کنٹرول سسٹم بھی بیجنگ ماڈل کی طرز پر تیار کیا جا رہا ہے۔

وزیر داخلہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان کے اندر اور بیرون ملک پیشہ ور بھکاریوں کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے جہاں حکام کے مطابق ایک طرف بھکاریوں کی بیرون ملک روانگی پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب مقامی سطح پر بھی پکڑ دھکڑ تیز کر دی گئی ہے۔

اس سب کے علاوہ پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں پکڑے جانے والے پیشہ ور بھکاریوں کو بھی ملک بدر کر کے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

پاکستان کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے حکام نے مارچ میں بتایا تھا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ملک بھر کے ایئر پورٹس سے مختلف ممالک روانگی کی کوشش میں ’سات ہزار سے زائد افراد کو آف لوڈ‘ کیا گیا، جن میں کراچی اور لاہور سمیت مختلف ہوائی اڈوں سے دوسرے ممالک جانے والے ’تین سو کے قریب بھکاریوں کو گرفتار‘ کیا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے اندر اور بیرون ملک پیشہ ور بھکاریوں کا معاملہ سنگین ہوتا جا رہا ہے جہاں حکام کے مطابق ایک طرف بھکاریوں کی بیرون ملک روانگی پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب مقامی سطح پر بھی پکڑ دھکڑ تیز کر دی گئی ہے۔

اس سب کے علاوہ پاکستانی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف ممالک میں پکڑے جانے والے پیشہ ور بھکاریوں کو بھی ملک بدر کر کے واپس بھیجا جا رہا ہے۔

ایف آئی اے حکام نے مارچ میں بتایا تھا کہ رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ملک بھر کے ایئر پورٹس سے مختلف ممالک روانگی کی کوشش میں ’سات ہزار سے زائد افراد کو آف لوڈ‘ کیا گیا، جن میں کراچی اور لاہور سمیت مختلف ہوائی اڈوں سے دوسرے ممالک جانے والے ’تین سو کے قریب بھکاریوں کو گرفتار‘ کیا گیا ہے۔

رواں سال فروری میں وزیراطلاعات عطا تارڑ نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ پاکستان میں انسانی سمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ملک بھر میں 400 سے زائد انسانی سمگلر گرفتار کیے جا چکے ہیں۔

حکومت کے مطابق انسانی سمگلنگ کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات کے تحت حکومت کی طرف سے ’انسانی سمگلروں کے 500 ملین (50 کروڑ) روپے سے زائد کے اثاثے ضبط ہو چکے ہیں اور مزید ضبط کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔‘

اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں سے غیر قانونی طریقے سے شہریوں کو بیرون ملک لے جانے کے دوران حادثات سامنے آتے رہے ہیں اور حالیہ مہینوں میں ایسے حادثاث میں درجنوں پاکستانیوں کی جانیں جا چکی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان