’ایران کو بتایا کہ اسلام آباد، ریاض کے درمیان سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ ہے: اسحٰق ڈار

سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ ایک حقیقت ہے اور اسی لیے اس حوالے سے ایران کو آگاہ کیا تھا۔

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے منگل کو کہا ہے کہ اسلام آباد اور ریاض کے درمیان ایک ’سٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ موجود ہے اور اس حوالے سے (پاکستان نے) ایران کو حالیہ جنگ شروع ہوتے ہی یاد دہانی کروا دی تھی۔   

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ سے منگل کو خطاب کرتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ ’میں نے اس (معاہدے) کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری حساس بنایا، سعودی عرب سے متعلق اپنے بھائیوں کو، جو لیڈرشپ میں ہیں ایران میں کہ برائے مہربانی اس (معاہدے) کو ذہن میں رکھیں۔‘

اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ ’انہوں (ایرانیوں) نے کچھ یقین دہانیاں مانگیں۔ مجھے کہا کہ ان کو کہیں کہ ان (سعودیہ) کی سرزمین ہمارے (ایران کے) خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ میں نے (سعودیہ سے) وہ یقین دہانیاں بھی لے کر (ایران کو) دیں۔‘

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کی انہی کوششوں کی وجہ سے سعودی عرب اور عمان کے خلاف کم ترین ردعمل سامنے آ یا ہے، جبکہ دوسرے خلیجی ممالک پر کارروائیاں زیادہ ہوئی ہیں۔

پاکستان اور سعودی عرب نے ستمبر 2025 میں ایک تاریخی ’سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

ریاض میں طے پانے والے اس معاہدے پر پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے دستخط کیے تھے۔

 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے دفتر سے 18 ستمبر 2025 کی رات جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو فروغ دینا اور ’کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع و تحفظ کو مضبوط بنانا ہے۔‘

سعودی عرب اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے درمیان تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، بھائی چارہ اور اسلامی یکجہتی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ سٹریٹجک مفادات اور قریبی دفاعی تعاون جاری ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسحٰق ڈار نے مزید کہا کہ ایران ایک خود مختار ملک ہے اور اس کی لیڈر شپ کو کسی بات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

’لیکن میں شکر گزار ہوں کہ انہوں نے میری بات کو سمجھا اور اس کے مطابق انہوں نے جو یقین دہانی مانگی وہ ہم نے لے کر دی۔‘ 

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے اور اس جنگ کے پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای تقریباً 50 دوسرے سینیئر سول اور فوجی عہدیداروں اور اپنے اہل خانہ کے ہمراہ جان سے چلے گئے تھے۔

ایران پر ہونے والے حملوں کے جواب میں ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیل کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں قائم امریکی اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے پر منگل کو ایک میزائل گرنے سے معمولی آگ لگ گئی تھی، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا تھا کہ میزائل کس نے داغا تھا۔  

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا