امریکہ اور ایران میں جنگ کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی لائیو اپ ڈیٹس
پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی ایران پہنچ گئے: ایرانی میڈیا
ایرانی میڈیا نے ہفتے کی شب رپورٹ کیا ہے کہ پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔
ایرانی نیوز ادارے ایسنا کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ سید محسن نقوی تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر کو پاکستان کے آرمی چیف کا پیغام پہنچانا ہے۔
اس دورے کے دوران انہیں وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے بھی مذاکرات کے حوالے سے خصوصی ہدایات دی گئی ہیں۔
پریس ٹی وی کے مطابق ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی نے تہران پہنچنے پر اپنے پاکستانی ہم منصب سید محسن نقوی کا استقبال کیا۔
لبنانی فوج کے سربراہ سرکاری دورے پر پاکستان روانہ
لبنانی فوج نے کہا ہے کہ فوج کے سربراہ جنرل روڈولف ھیکل سرکاری دورے پر پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے لبنانی فوج کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان رپورٹ کیا ہے کہ جنرل روڈولف ھیکل اپنے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
بیان میں دورے کے مقصد یا اس کی مدت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ حالیہ ہفتوں میں جنگ کے اثرات لبنان تک بھی پہنچے ہیں، جس کے باعث خطے میں سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
لبنانی فوج نے صرف اتنا کہا ہے کہ یہ دورہ پاکستانی فوج کے سربراہ کی دعوت پر کیا جا رہا ہے، جبکہ دونوں ممالک کی جانب سے ملاقاتوں کے ایجنڈے سے متعلق مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
سعودی عرب کی بحرین اور کویت پر ایرانی حملوں کی مذمت
سعودی عرب نے ہفتے کو ایک بیان میں خلیجی ممالک کویت اور بحرین پر ایرانی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو عالمی سلامتی اور خطے کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’مملکت ایک بار پھر ایران کے شرپسندانہ حملوں اور کھلی خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔‘
بیان کے مطابق ’ان حملوں جنہیں مملکت برادر ممالک بحرین اور کویت کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتی ہے کے یہ اقدامات خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔‘
بیان کے مطابق سعودی عرب برادر ملک کویت اور بحرین کی ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ان کی سلامتی، سکیورٹی اور استحکام کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔
لبنان ایران کے لیے سودے بازی کا مہرہ نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو لبنانی صدر جوزف عون کے اس بیان کو مسترد کر دیا کہ لبنان تہران کے لیے سودے بازی کا مہرہ ہے۔
لبنانی صدر نے جمعے کو کہا تھا کہ ایران امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے مہرے کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور لبنانی عوام ایران کے مفادات کی قیمت چکا رہے ہیں۔
عباس عراقچی نے ایکس پوسٹ میں کہا کہ ’اگر لبنان ایران کے لیے سودے بازی کا مہرہ ہوتا تو ہمارا بہت پہلے معاہدہ ہو چکا ہوتا۔ مسٹر صدر، لبنان کو اپنے اصل دشمن سے بچائیں۔‘
ایران کے ریڈار تنصیبات پر امریکی حملہ، تہران کا دو جنگی جہاز نشانہ بنانے کا دعویٰ
امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو ایران کے جنوبی ساحل پر ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں امریکہ کے دو جنگی بحری جہازوں پر انتباہی میزائل داغے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان آٹھ اپریل سے جنگ بندی جاری ہے، لیکن اس تنازعے کو زیادہ مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے بعد میں ہونے والی بات چیت اب تک کامیاب نہیں ہو سکی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے دباؤ ہے۔ اس جنگ نے منڈیوں کو دھچکا پہنچایا ہے اور وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے باعث یہ اندرون ملک بھی غیر مقبول ثابت ہوئی ہے
یہ تازہ کشیدگی مشرق وسطی کی جنگ میں جنگ بندی کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے آبنائے ہرمز کی طرف بھیجے گئے ایران کے چار ڈرون مار گرائے جس کے بعد گوروک شہر اور قشم جزیرے پر ایران کے ساحلی نگرانی کی ریڈار تنصیبات پر حملہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ’حملہ آور ڈرون علاقائی سمندری آمد و رفت کے لیے فوری خطرہ تھے‘ جب کہ ریڈار تنصیبات پر حملوں کا مقصد ’مزید حملوں کے خلاف دفاع‘ ہے۔
سیریک میں دھماکوں کی آوازیں: ایرانی میڈیا
دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ہفتے کو بتایا کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک میں رات تقریباً ڈھائی بجے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
نشریاتی ادارے نے ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ ’کسی سرکاری ذریعے نے آواز کے ماخذ یا اس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔‘
جواب میں ایران کی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس نے خلیج عمان میں امریکہ کے دو جنگی بحری جہازوں پر ’انتباہی میزائل‘ داغے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔
’دشمن کے‘ میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں: کویت
دوسری جانب کویت کی فوج نے ہفتے کی صبح کہا کہ وہ ’دشمن کے‘ میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہی ہے۔ یہ بیان اس حملے کے چند دن بعد سامنے آیا، جس میں ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص جان سے گیا اور درجنوں زخمی ہوئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
کویتی فوج نے ایکس پر کہا کہ ’کویت کا فضائی دفاع اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے‘ تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کہاں سے کیے گئے؟
دو دن پہلے کویت نے کہا تھا کہ اس نے ’ایرانی جارحیت کے گھناؤنے عمل‘ کے طور پر داغے گئے 30 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا تھا۔
ایران کے پاس اب بھی میزائلوں کا ’21، 22 فیصد‘ حصہ باقی: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائلوں کا ’21، 22 فیصد‘ حصہ باقی ہے۔ یہ بات اس ہفتے سامنے آئی جب تہران نے کمزور پڑتی جنگ بندی کے باوجود علاقائی ہمسایوں کی طرف درجنوں میزائل داغے۔
ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ’ان کے پاس اب بھی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے پاس کچھ میزائل ہیں، کچھ ڈرون ہیں۔ میں کہوں گا کہ فیصد کے حساب سے شاید ان کے 21، 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔‘
ایران کے میزائل ذخیرے کے لیے یہ اندازہ اس 18 فیصد سے زیادہ ہے جو ٹرمپ نے مئی میں بتایا تھا۔ وہ اکثر یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جنگ لڑنے کی صلاحیت مکمل طور پر تباہ کر دی ہے۔