ایرانی ریڈار تنصیبات پر امریکی حملہ، تہران کا جنگی جہاز نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو ایران کے جنوبی ساحل پر ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں امریکہ کے دو جنگی بحری جہازوں پر انتباہی میزائل داغے۔ 

ایرانی فوج کی طرف سے 21 اکتوبر 2020 کو جاری کی گئی  تصویر میں فضائی دفاعی مشق کے پہلے دن ایران کا ایک ریڈار سسٹم دکھایا گیا ہے (اے ایف پی)

امریکہ اور ایران میں جنگ کے تناظر میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کی لائیو اپ ڈیٹس


ایران کے ریڈار تنصیبات پر امریکی حملہ، تہران کا دو جنگی جہاز نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے جمعے کو ایران کے جنوبی ساحل پر ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج عمان میں امریکہ کے دو جنگی بحری جہازوں پر انتباہی میزائل داغے۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

امریکہ اور ایران کے درمیان آٹھ اپریل سے جنگ بندی جاری ہے، لیکن اس تنازعے کو زیادہ مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے بعد میں ہونے والی بات چیت اب تک کامیاب نہیں ہو سکی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے دباؤ ہے۔ اس جنگ نے منڈیوں کو دھچکا پہنچایا ہے اور وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے باعث یہ اندرون ملک بھی غیر مقبول ثابت ہوئی ہے

یہ  تازہ کشیدگی مشرق وسطی کی جنگ میں جنگ بندی کے لیے خطرہ بن گئی ہے۔

امریکی سینٹرل کمان (سینٹ کام) نے ایک بیان میں کہا کہ اس کی فورسز نے آبنائے ہرمز کی طرف بھیجے گئے ایران کے چار ڈرون مار گرائے جس کے بعد گوروک شہر اور قشم جزیرے پر ایران کے ساحلی نگرانی کی ریڈار تنصیبات پر حملہ کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ’حملہ آور ڈرون علاقائی سمندری آمد و رفت کے لیے فوری خطرہ تھے‘ جب کہ ریڈار تنصیبات پر حملوں کا مقصد ’مزید حملوں کے خلاف دفاع‘ ہے۔


سیریک میں دھماکوں کی آوازیں: ایرانی میڈیا

دوسری جانب ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ہفتے کو بتایا کہ جنوبی ایران کے شہر سیریک میں رات تقریباً ڈھائی بجے کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

نشریاتی ادارے نے ٹیلی گرام پوسٹ میں کہا کہ ’کسی سرکاری ذریعے نے آواز کے ماخذ یا اس کی تفصیلات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔‘

جواب میں ایران کی فوج نے جمعے کو کہا کہ اس نے خلیج عمان میں امریکہ کے دو جنگی بحری جہازوں پر ’انتباہی میزائل‘ داغے، تاہم امریکی فوج نے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کر دیا۔


’دشمن کے‘ میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہے ہیں: کویت

دوسری جانب کویت کی فوج نے ہفتے کی صبح کہا کہ وہ ’دشمن کے‘ میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہی ہے۔ یہ بیان اس حملے کے چند دن بعد سامنے آیا، جس میں ملک کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص جان سے گیا اور درجنوں زخمی ہوئے۔

کویتی فوج نے ایکس پر کہا کہ ’کویت کا فضائی دفاع اس وقت دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دے رہا ہے‘ تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ یہ حملے کہاں سے کیے گئے؟

دو دن پہلے کویت نے کہا تھا کہ اس نے ’ایرانی جارحیت کے گھناؤنے عمل‘ کے طور پر داغے گئے 30 بیلسٹک میزائلوں کو روک لیا تھا۔


ایران کے پاس اب بھی میزائلوں کا ’21، 22 فیصد‘ حصہ باقی: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کہا کہ ایران کے پاس اب بھی اپنے میزائلوں کا ’21، 22 فیصد‘ حصہ باقی ہے۔ یہ بات اس ہفتے سامنے آئی جب تہران نے کمزور پڑتی جنگ بندی کے باوجود علاقائی ہمسایوں کی طرف درجنوں میزائل داغے۔

ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو میں کہا کہ ’ان کے پاس اب بھی صلاحیت موجود ہے۔ ان کے پاس کچھ میزائل ہیں، کچھ ڈرون ہیں۔ میں کہوں گا کہ فیصد کے حساب سے شاید ان کے 21، 22 فیصد میزائل باقی ہیں۔‘

ایران کے میزائل ذخیرے کے لیے یہ اندازہ اس 18 فیصد سے زیادہ ہے جو ٹرمپ نے مئی میں بتایا تھا۔ وہ اکثر یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جنگ لڑنے کی صلاحیت مکمل طور پر تباہ کر دی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا